حیدرآباد:18/اپریل
(زین نیوز ڈاٹ نیٹ)
تلنگانہ کےوزیر صحت ایٹالہ راجندر نے مرکزی حکومت سے درخواست کی ہے کہ کوویڈ ویکسین کی کمی کو فوری طور پر دور کرے۔وزیر صحت آج بی آر کے بھون سے میڈیا سے خطاب کررہےتھے۔
انہوں نے کہاکہ تلنگانہ میں ایک دن میں 10 لاکھ افراد کو کوڈ ویکسین فراہم کرنے کی صلاحیت کے باوجودآج ویکسین دستیاب نہیں ہیں جس سے ٹیکہ انداذی کا عمل موقوف ہوگیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ آج رات 2.7 لاکھ خوراکیں ریاست کو آئیں گی جس کی انہیں امید ہے۔ وزیر صحت نے وضاحت کی کہ وہ اور طبی عہدیدار مرکزی حکومت کے عہدیداروں سے مسلسل ربط میں ہیں اور ان کو یہ بتایا جارہا ہے کہ جتنی جلدی ویکسین دی جاۓ گی اس کی تقسیم کا عمل بھی اتنا ہی تیز تر ہوجائے گا۔
تاہم انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت متعلقہ ریاستوں کی پیداوار اور ضروریات کے مطابق ویکسین کی فراہم کررہی ہے انہیں امید ہے کہ مرکزی حکومت بہ عجلت ممکنہ اس ویکسین کے مسئلہ کو حل کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی وزیرصحت مسٹرہرشوردھن سے یہاں تک کہا گیاکہ 25 سال سے زیادہ عمر والوں کو کوڈ ویکسین دینے کی ریاستی حکومت تیاری کررہی ہے لیکن ابھی تک اس پر کوئی رد عمل سامنے نہیں آیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملک کے جملہ کیسسں میں سے50 فیصدکاتعلق مہاراشٹرا سے ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرکاریدواخانوں میں بستروں کی کمی نہیں ہے اور ریاست میں 60،000 بیڈ دستیاب ہیں۔
مسٹر ایٹالہ راجندر نے بتایا کہ آکسیجن کی فی الحال کوئی کمی نہیں ہے۔”آئی سی ایم آر نے کوویڈ کے علاج کے لئے ایک واضح پروٹوکول دیا ہے۔ اس سے پہلے علامات 10یا 12 دن تک نمودار ہواکرتی تھیں لیکن دوسری لہر میں ایسا نہیں ہے کیوں کہ اس وقت کی لہر کافی شدید ہے۔ اس لۓ اب کی بار دو تین دن میں علامتیں نمودور ہورہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ریاست میں آکسیجن کی کمی کے باوجود ، طبی عہدیدارمرکزی حکومت سے مستقل مشاورت کر رہے ہیں۔ آکسیجن کی پیداوار مرکزی حکومت کے دائرہ اختیار میں ہے۔ فی الحال ریاستیں اس کو پیدا نہیں کرسکتیں۔ روزانہ 260 ٹن آکسیجن درکار ہے۔ مریضوں کی تعداد میں جوں جوں اضافہ ہوتا ہے ، توقع کی جاتی ہے کہ ویسے ویسے300 سے 350 ٹن آکسیجن کی ضرورت ہوگی۔ فی الحال ریاست میں آکسیجن کی کوئی کمی نہیں ہے۔
ڈاکٹرس مریضوں اپنی مہارت کے لحاظ سے علاج کر تے ہیں مگر ان پر آکسیجن کے استعمال پر دباؤ ڈالاجاتاہے۔ ڈاکٹروں جب اس کی ضرورت نہیں ہے تو آکسیجن کےلۓ مجبور کرنا کوئی معنی نہیں رکھتا۔انہوں نے کہا کہ سب کو غیرضروری طور پر رینڈیسویر کے انجیکشن نہ دیں۔
کورونا کے پھیلاؤ کے بعد ریمیڈیشیر کی پیداوار میں کمی واقع ہوئی۔مسٹر ایٹالہ راجندر نے آخر میں اس امید کا اظہار کیا کہ علاج معالجہ کے انجیکشن جلد ہی دستیاب ہوجائیں گے-
