ریمیڈی سیورسے کوئی زیادہ فائدہ ہونے والا نہیں ہے۔عالمی ادارہ صحت

بین الریاستی تازہ خبر

حیدرآباد۔22؍اپریل
( زین نیوز ڈا ٹ نیٹ)
ریمیڈی سیور کورونا کے لئے کوئی دوائی نہیں ہے۔ عالمی ادارہ صحت نے خود اس بات کا اعلان کیا ہے اور کہا کہ ریمیڈی سیورسے کوئی زیادہ فائدہ ہونے والا نہیں ہے۔ تا ہم عوام اس پر اس نہ صرف اعتماد کرنے لگے ہیں بلکہ بلیک مارکیٹ میں اسے ہزاروں روپے کے عوض خرید ر ہے ہیں تا کہ کورونا کا علاج کیا جاسکے۔

ریمیڈی سیور انجکشن کی قیمت کمپنیوں کی لحاظ سے 899 روپے سے لے کر 3,490 روپے تک ہے۔ لیکن ادویات کی اس طرح کی قلت نے ڈرگ مافیا ڈ کیلئے غیر قانو نی کاروبار کا دروازہ کھول دیا ہے۔
یہٹولی کورونا مریضوں کی ضرورت کو دیکھتے ہوے ان کو اندھا دھند لوٹ رہے ہیں۔ چند ایک خانگی دواخانے‘ مافیا ٹولی کے ساتھ ساتھ بعض طبی عہدیدارو ملازمین کے بھی اس اسکام میں ملوث ہونے کی اطلاع ہے۔

مطالبہ کی مناسبت سے، 25ہزار سے 75ہزار روپے ان افراد سے سے وصول کررہے ہیں جو جان بچانے کیلئے پیسے خرچ کرنے کیلئے تیار ہیں۔اینٹی وایرل دوائیں مثلاریمیڈاسائویر اور ٹوسی لیزو ماب عام بازار میں دستیاب نہیں ہیں۔ انہیں صرف ہنگامی صورتحال کے دوران استعمال کی اجازت ہے۔

دوسری طرف اس کا ٹرائیل بھی ہورہا ہے ۔ ڈاکٹرسں نے پہلے ہی واضح کیا ہے کہ اس دوائی میں اموات کو روکنے صلاحیت نہیں ہے البتہ یہ دوا مریضوں کی صحت کو مزید خراب ہونے سے بچاسکتی ہے۔
جب خون میں آکسیجن کی سطح 90 فیصد تک ہو اور جب وینٹیلیٹر یا آکسیجن کا علاج کرتے ہو تو، ریمیڈی سیور کا استعمال اسی وقت کرنا چاہئے جب کہ اس کا انفکشن بھی شدید ہو۔ کورونا مثبت ہونے کی تشخیص ہونے کے اندورن 9 دن اس کو زیادہ دینا چاہئے۔

ایسی صورت میں مریض کو صحت یاب ہونے کا موقع ملے گا اس کا خود محکمہ صحت نے دعوی کیاہے۔ لیکن یہ الزامات ہیں کہ بعض خانگی دواخانوںمیں ڈاکٹر پیسوں کے لئے ان ادویات کا بڑے پیمانے پر استعمال کررہے ہیں۔
در حقیقت، چند ایک دواخاونوں کے ـمہ دار مریضوں کے رشتہ داروں پر دباؤ ڈال رہے ہیں کہ وہ ان ادویات کو لائیں چاہے ان کی ضرورت ہی نہ ہو۔ مگر مریض کو یہ بھی معلوم نہیں ہوتا ہے کہ آیا وہ اس کا استعمال کر بھی رہے ہیں کہ نہیں۔