بے بس بیٹا ماں کی لاش کو لیکرگھنٹوں ایمبولینس کے انتظار میں بیٹھا رہا

تازہ خبر قومی

ماتم کیجئے ہماری بے بسی پر  ہم چاہ کر بھی ربطہ نہیں کرسکتے

لکھنو:27اپریل
(زین نیوز ڈاٹ نیٹ)
کورونا بحران کا دور جہاں انسان کا انسانیت سے رشتہ ٹوٹتا جارہا ہے۔ان دنوں ایسی کئی تصویریں اور واقعات سامنے آرہی ہیں جس میں انسان صرف لاچار ہی دکھا پارہا ہے۔

کبھی اہل خانہ کے لئے تو کبھی خود کی زندگی کے لئے۔اسی دوران اترپردیش کی راجدھانی لکھنؤ کے حضرت گنج کا ایک ویڈیو تیزی سے وائرل ہورہا ہے۔

جس میں ایک بزرگ خاتون کی لاش کو ان کے دو بیٹے رکشہ سے لے جارہے ہیں۔واضح رہے کہ ماں کی لاش کو ڈھونے کے والے شخص موجودہ وقت میں سول اسپتال کے دھوبی ہیں۔

یہ تکلیف دہ منظر تر پردیش کی دارالحکومت لکھنؤ میں دیکھنے ملا ‘ جہاں دو بیٹے اپنی ماں کی نعش کو گھر لے جانے کے لئے گھنٹوں ایمبولینس کا انتظار کرتے رہے جب ایمبولینس نہیں ملی تو انھوں نے اپنی ماں کی نعش کو رکشہ کے ذریعہ گھر لے گئے
تفصیلات کے مطابق لکھنؤ کے لال باغ سے تعلق رکھنے والے ویویک اپنی ضعیف ماں کو حضرت گنج کے سیول پاسپیٹل لے گیا تھا اس کی ماں کو ہائی بلڈ پریشر تھا دواخانے میں علاج نہ ملنے کی وجہ سے ضعیف خاتون کی موت واقع ہوگئی ۔

ماں کی موت کے بعد ویویک لاش کو گھر لے جانے کے لئے گھنٹوں سرکاری ایمبولینس کا انتظار کرتار ہا الیکن ایمبولینس نہیں ملی
جب انھوں نے خانگی ایمبولینس سے بات کی تو انھوں نے ہزاروں روپئے طلب کیے‘ مالی مجبوریوں کی وجہ سے خانگی ایمبولینس کا متحمل نہیں ہوسکا  گھنٹوں انتظار کے بعداپنی ماں کی نعش کو رکشہ اپنے گھر لیکر گئے

ویویک کا کہنا تھا کہ ہم معمولی کام کرتے ہیں ہماری ماں کو ہائی بلڈ پریشر تھا رات میں طبیعت بگڑ جانے پر صبح دواخانے لے جایا گیا لیکن علاج نہیں کیا گیا اور ہماری ماں دم توڑ گئیں‘ اور ہم سرکاری ایمبولینس کا انتظار کرتے رہے نہیں ملی ۔ پرائیویٹ ایمبولینس والوں سے 5سے 7ہزار روپئے مانگے ‘ اور ہمارے پاس کئی مہینوں سے پیسے نہیں ہیں لہذا ایسی صورتحال میں ہم نے اپنی ماں کی نعش کو رکشہ میں لیکر گئے

اس واقعہ کو لیکر ایک کڑوا سوال ہے کہ آخر کار حضرت گنج کے سول اسپتال سے محض300 میٹر کی دوری پر لال باغ کووڈ19 سنٹر کے سامنے لال باغ گرلس کالج کے اندر آپ کو 20 سے25سرکاری ایمبولینس کھڑی مل یںگی۔سوال یہ ہے کہ ایمبولینس ہونے کے باوجود ہیلپ لائن نمبر پر جب کوئی متاثرہ فون کر مدد کرتا ہے تو آخر کیوں نہیں وقت سے ایمبولینس پہنچتی ہے۔