عبدالقیوم شاکر القاسمی
امام وخطیب مسجد اسلامیہ
نظام آباد
9505057866
انٹرنیٹ کا بکثرت استعمال جہاں خود یوزرس اور صارفین کوظاہری بیماریوں اورطبی اعتبارسے مختلف امراض کا شکار بنالیتا ہے وہیں ایک قسم کے انجانے خوف اور دلوں کی کمزوری کا بھی باعث بنتا جارہا ہے موجودہ عالمی وبای مرض کے حوالہ سے راقم سطور نے گذشتہ چند دنوں سے کئ ایک ماہرین وتجربہ کار افراد سے مل کر تحقیق حال کرنے کی کوشش کی کہ آخر اس مرض کے شیوع میں کن کن چیزوں کا دخل ہوسکتا ہے اور کیاکیا احتیاط برتنے کی کوشش کرنی چاہیے تو عقلمندوں اور سنجیدہ افراد کی معتدبہ جماعت نے جہاں اور بہت ساری چیزوں کا ذکر کیا وہیں پوری شدت کے ساتھ اس بات کو بھی بیان کیا کہ انٹرنیٹ کے ذریعہ واٹس ایپ فیس بوک اور دیگر ایپلیکیشن کے ذریعہ کوویڈ کی اموات یا اس مرض سے متاثرہ افراد کے لےء دعاؤں کی اپیل نے سب سے زیادہ لوگوں کو دہشت اور خوف میں مبتلا کیا ہے
ہم مانتے ہیں کہ اچھی یا بری خبر سے عوام وخواص کو واقف کروانے کا یہ ایک آسان اور زوداثر ذریعہ ہے لیکن موجودہ حالات میں ماحول اور عوام الناس کے دلوں سے بیماری کے خوف کو نکالنے کا وقت ہے ان ناسازگار حالات میں اگر ہم کسی بھی اندوہناک خبر کو ان ذرائع کے بجاے کسی اور طریقہ سے پہونچادیں تو میں سمجھتا ہوں کہ شاید لوگوں کے دلوں سے ہیبت ودہشت کا خاتمہ ممکن ہوسکتا ہے
کورونا وائریس نامی بیماری ہے یا نہیں
ہے تو کس حد تک ہے اور اس کے کیا کیا اثرات لوگوں پر مرتب ہوسکتے ہیں
معیشت کتنی اس سے متاثر ہورہی ہے تعلیم وتدریس کا کیا عالم ہورہا ہے

ان سب چیزوں سے اگرہم دور رہ کر محض احتیاطی پہلوؤں پر عمل کرلیتے اور حکومتی ہدایات کو مدنظر رکھ کر اپنے روزمرہ کے کام کاج اور یومیہ اعمال وعبادات میں منہمک ومشغول ہوجاتے تو شاید آج یہ حالت زار نہیں ہوتی …..
آج اس ٹکنالوجی اور سوپرفاسٹ انتہای تیز رفتار زمانہ کی نت نئ ایجادات واختراعات میں انٹر نیٹ سب سے زیادہ استعمال ہونے والا ایک ذریعہ ہے گرچہ اس کے بہت سارے فائدے بھی ہیں جس سے مجال انکار وچشم وپوشی نہیں ہے لیکن اگر چند دنوں کے لئے ان فوائد سے نظر ہٹاکر ہم انٹر نیٹ کے استعمال کو بند کردیں یا محدود کردیں تو اس میں شاید کوی حرج بھی نہیں ہوگا
مگر انسانیت اس مرض کی گھبراہٹ سے ضرور نجات پاسکتی ہے
اس لئے ہم پرخلوص اپیل کرتے ہیں کہ کم ازکم تین ہفتوں کے لئے اگر آپ انٹرنیٹ کے استعمال پر بذات خود پابندی لگالیں یا اس کے طریقہ استعمال کو تبدیل کردیں یا ہرآنے والی خبر اور پوسٹ کو آگے کسی کو بھی ارسال کرنے سے گریز کرلیں نہ ہی کسی خاص گروپ کو نہ ہی کسی پرسنل آدمی کو تو میں سمجھتا ہوں کہ اس کا خاصا اثر ماحول پر پڑے گا
اس لئے کہ گذشتہ ایک ہفتہ سے بار بار اس سلسلہ میں غورکرنے سے نتیجہ یہی نکلا کہ جو لوگ عام طرززندگی گزاررہے ہیں جن کو ٹی وی انٹرنیٹ یا اخبارات یا کسی بھی قسم کی نیوز اور تفصیلات سے کچھ بھی لینا دینا نہیں ہے زیادہ سے زیادہ روزمرہ کے سیریلس ڈرامے اور بعض خاص چینل پر نشر ہونے والی فلمیں دیکھنا اور کرکٹ یاکوی اور کھیلوں کے علاوہ کچھ مطلب نہیں ہے ان سب سے فارغ ہوکر آرام سے سوجانا اورصبح اٹھ کر اپنے معمولات کاروبار ہوں یا تجارت ہوں یامحنت ومزدوری اس میں مصروف ہوجانا بس اس سے زیادہ ان کے لےء ٹی وی اور انٹرنیٹ کی اہمیت واستعمال نہیں
ایسے طبقہ کے تمام ہی لوگ اس بیماری سے مطمئن ہیں ان کو کچھ بھی اس کا اثر الحمد للہ نہیں ہے نہ ان کو سوشل ڈسٹینس کا پتہ ہے نہ ماسک کے استعمال کی ضرورت ہے نہ ہی سنٹائزر کا اہتمام ہے
متاثرین میں وہی طبقہ زیادہ نظر آرہا ہے جن کو انٹرنیٹ سے لگاؤ ٹی وی خبروں سے تعلق روزآنہ اہتمام سے واٹس ایپ اور فیس بوک سے اپڈیٹ سرگرمیاں ملکوں کے احوال شہر وریاستوں کی سیاست سے دلچسپی رکھنے والے ہیں
بہرکیف
بیماری اور مرض اپنی جگہ احتیاطی تدابیر اپنی جگہ لیکن ایک عام خیال احقر کے دل میں گذررہا تھا جس کو تحریر کرنا ضروری سمجھا اور آج پورے درد وکرب اور انتہای اہمیت کے ساتھ اپیل کرنے کو جی چاہا کہ اگر اس طرح کی تحدیدات ازخود ہم اختیار کرلیں تو شاید عوام وخواص سب ہی کو اس سے کچھ فائدہ ہوجاے
اللہ پاک پوری انسانیت کو اس وبای مرض سے محفوظ فرماے متاثرین کو شفاء عاجلہ کاملہ عطاء فرماے
آمین بجاہ سیدالمرسلین