از قلم: عبدالقیوم شاکرالقاسمی
امام وخطیب مسجد اسلامیہ نظام آباد
9505057866
لاتقنطوامن رحمۃ اللہ الآیۃ
موجودہ حالات میں ایک سچے مومن اور مسلمان بندہ کو باری تعالی کی ذات سے اچھی امیدیں اور بہتر توقعات رکھنا چاہیے چونکہ دنیا کی ہرچیز پر اسی کی سلطنت وحکمرانی ہے حتی کہ بیماری اور شفاء موت وحیات سب اسی کے قبضہ قدرت میں ہے
سیدنا حضرت یعقوب علیہ السلام نے اپنے دوبیٹے بنیامین اور یوسف کی تلاش میں اپنے دیگر بچوں کو بھیجا تواس وقت جو نصیحت آپ نے فرمای تھی اس کو قرآن مجید نے نقل کیا
اے بیٹوتم جاؤ یوسف اور اس کے بھای بنیامین کوتلاش کرویعنی ایسی فکر اور تدبیر کرو کہ جس سے یوسف کا نشان ملے اور بنیامین کو رہای اور اللہ تعالی کی رحمت سے ناامید مت ہوجاؤ بیشک اللہ کی رحمت سے وہی لوگ ناامید ہوتے ہیں جو کافر ہیں
قرآن مجید کی اس اہم ترین موجودہ حالات کی عکاس آیت قرآنی آج سو فی صد ہمارے موجودہ حالات پر منطبق ہوتی ہے جہاں سماج اور معاشرہ میں کورونا وائریس اور اس سے متاثرین یا وفات پانے والوں کی مسلسل خبروں سے
عام مسلمان اپنی ناسمجھی کی بناء پر خوف زدہ ہے اور باری تعالی کی ذات اور اس کی رحمت سے مایوس ہوتاجارہا ہے
بلکہ بعض لوگوں کو تو یوں کہتاہوا دیکھا گیا ہے کہ اب زندگی میں کوی لطف اور مزہ نہیں ہے جس سے صاف مایوسی جھلکتی نظر آرہی ہے
ہمیں یہ بات تسلیم کرنا پڑے گا کہ جو خدارات کااندھیرا پیداکرتاہے وہی انتہای تاریکی سے صبح کا روشن سورج بھی طلوع کرتا ہے اس لےء کوی بعید نہیں کہ ان سخت آمائشی حالات کے بعد ہمارے لےء راحت وآسانیاں اللہ تعالی پیدا فرمادے
خود سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کے واقعہ معراج سے بھی ہمیں سبق لینے کی ضرورت ہے جس کا حاصل اور خلاصہ بس اتنا ہیکہ اپنے عم محترم کی وفات ہھر زوجہ محترمہ کا انتقال اور طائف کے لوگوں کی جانب سے بدتمیزی ان سب حالات سے آپ بتقاضاے بشریت دنیا اور دنیاوالوں سے مایوسی کا اظہارکرنے لگے تو پاک پروردگار نے معراج پر بلوایا اور سارے ہموم وغموم کافور کردیا اور اپنا دیدار کرواکر تحفہ نماز سے نواز کر واپس بھجوایا
ہمارے ساتھ بھی ایسا ہوسکتا ہیکہ اللہ تعالی اس وبای بیماری کے ذریعہ آزمائش اور ان حالات صبر وشکیبای کا امتحان لے کر دنیا جہاں میں ایسے حالات پیدا کردے کہ جس سے تمام ہی مسلمان خوش ہوجائیں کوی ایسی رحمت کی ہوا چلادے کہ جس سے ہر قسم کے دکھ درد ختم ہوجاے اللہ کو ہر چیز پر قدرت کاملہ حاصل ہے
ان اللہ علی کل شئ قدیر
نیز یہ
انسان اللہ تعالی کا بندہ ہے اور بندہ کاکام ہے اپنے معبود کی بندگی کرنا مالک کے اختار میں ہیکہ وہ اپنے بندوں کو اچھے یابرے یا جیسے چاہے احوال سے گذارے
ہم یہ کیوں بھول گےء ہیں کہ
واللہ ذوالفضل العظیم اس کی ذات ہے اورفضل کی امید کا سلسلہ یہیں اسی زندگی میں آج ہی سے شروع ہوتا ہے ہمیں چاہیے کہ ہم باری تعالی کا شکر اداکریں اور اچھے کل کی امید لگائیں مایوسی کے اندھیرے میں انسان کو خود اپنا ہاتھ بھی نظر نہیں آتا ہے جبکہ امید اور ہمت کی بنیاد پر انسان بڑی سی بڑی منزل کو سر کرلیتا اور دریاؤں کے رخ موڑدیتا ہے وباؤں اور بیماریوں کی ہوا ؤں کو رد کرسکتاہے ورنہ حالات کی کہانی اگر دیکھی جاے تو
جناب ساحرلدھیانوی کا جہ شعر صادق آے گا
کبھی خودپہ کبھی حالات پہ رونا آیا
بات نکلی تو ہرایک بات پہ رونا آیا
اس لےء ہم مسلمانوں سے یہ کہنا چاہتے ہیں کہ اپنے آپ میں ہمت وجرأت پیداکریں موت جس حال میں آنی ہے وہ تو آکر رہے گی قضاء وقدر کے مطابق اس وائریس سے مرنا لکھا ہے تو دنیا کی کوی طاقت یاکوی دواء اوع
رویکسین بھی موت سے بچانہیں سکتی ہے
لیکن حالات زمانہ کی وجہ سے مایوس ہوکرہم کیوں اپنے ایمان میں کمزوری کا ثبوت دیں
ہم تو بس
یہ بھی پڑھیں : سلمان خان اور پروڈیوسرس کا فلم رادھے کی آمدنی کوکوویڈ ریلیف میں عطیہ دینے کا اعلان
اپنے گناہوں اورمعاصی سے دور ہوکر اپنے پروردگار سے مغفرت مانگیں توبہ تائب ہوکر معاملات کی صفای کے ساتھ رہیں اللہ کو خوش کرکے صدقہ وخیرات کی کثرت سے رب کریم کے غصہ کو ٹھنڈا کریں پورےحوصلہ اور ہمت کے ساتھ جب تک زندگی ہے اطمینان والی زندگی جییں
اوراس بات کو کبھی فراموش نہ کریں کہ امید رحمت الہی کی قبیل سے ہے اور مایوسی شیطان کاہتھیار ہے ہم مایوس ہوکر کس کے آلہ کار بن رہے ہیں
ہمیں حالات سے مایوس ہوکر رحمت الہی سے ناامید نہیں ہونا چاہیے
ان شاء اللہ حالات چشم زدن میں بدل سکتے ہیں رمضان المبارک کی مقدس راتیں اور ایام ابھی باقی ہیں ان کا صحیح استعمال کرکے راتوں کو بے نیاز مولی سے نیازمند بندوں کی طرح مانگ کر اس بیماری سے نجات کی دعاء مانگنے کا اہتمام کریں اللہ کی ذات عالی سے امید ہی نہیں بلکہ یقین کامل ہے کہ وہ انسانیت کے حالات پر رحم فرماے گا اور ہم سب کی نجات ومغفرت عامہ کا فیصلہ فرماے گا
