حضورآباد میں ٹی آریس اور ایٹالہ راجندر کے حامیوں کے مابین ہاتھا پائی۔ 

بین الریاستی تازہ خبر

حیدرآباد:17؍مئی
(زین نیوز)
تلنگانہ ریاست کے ضلع کریم نگر کے حلقہ اسمبلی حضورآباد میں آج سہ پہر صورتحال اچانک کشیدہ ہوگئی ۔ٹی آریس اور ٹی آرایس او سابق وزیر ایٹالہ راجندر کے حامیوں کے درمیان ہاتھا پائی کامعاملہ پیش آیا ۔

ریاست تلنگانہ میں دس روزہ لاک ڈاؤن کے قواعد کے مطابق اجتماعی پروگراموں پر امتناع عائدہے عام دنوں کی طرح آج بھی ٹی آریس رہنماوں کی جانب سے وینا ونکا منڈل میں وزیر اعلیٰ کے سی آر کی حمایت میں پریس کانفرنس کا انعقاد عمل میں لایا جارہا تھا جس میں سابق وزیر ایٹالہ راجندر کے حامیوں کی جانب سے رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کے بعد مخالف نعرے بازی کا سلسلہ چل پڑا او رٹی آریس بمقابلہ ایٹالہ راجندر کے حامیوں میں معاملہ ہاتھا پائی تک پہنچ گیا

ٹی آریس رہنماوں کی جانب سے منعقدہ پریس کانفرنس درہم برہم ہوگئی۔آج صبح ایٹالہ راجند رکے پیروکار زیڈ پی ٹی سی کے شوہر سہا دیو ریڈی اور سرپنچ فورم کے صدر نے اجلاس منعقد کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ کے سی آر اور ریاستی وزیر گنگولہ کملاکر‘ اور مقامی ٹی آریس قائدین کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا تھا

جس کے جواب میں مارکیٹ کمیٹی چیئرمین بالا کشن راؤ کے ہمراہ یم پی پیز نے ایٹالہ راجندر کے خلاف پریس کانفرنس کا انعقاد عمل میں لایا تھا جسے ایٹالہ راجندر کے دو حامیوں نے رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی

انھوں نےٹی آرایس قائدین ایلنتا کنٹہ مندر کمیٹی ممبر ڈساراپو راجو ‘ رائے شیٹی کمار اور‘ وینکا دنکا گرامنا پریسڈنٹ وینکٹش‘ سے استفسار کیا کہ کورونا وبا اورلاک ڈاؤن کے درمیان دوپہر میں پریس میٹنگ کا انعقاد کرنا کیا معنی رکھتا ہےجبکہ پولیس کی جانب جبکہ لاک ڈاؤن میں صرف صبح کے دس بجے تک ہی اجازت دی گئی ہے‘ تو پھر 2؍بجے ٹی آرایس قائدین کس طرح اجازت دی گئی

اسی معاملہ کو لیکر دونوں گرہوں کےمابین بحث و تکرار جھگڑے میں تبدیل ہوگئی اور معاملہ ہاتھا پائی تک پہنچ گیا جس کے بعد پولیس پہنچ کر ایٹالہ راجندر کے حامیوں کو پولیس اسٹیشن منتقل کردیاپولیس کی مداخلت کے بعد معاملہ ختم ہوگیا

منتخب عوامی نمائندے ایٹالہ راجندر سے ملاقات کے بعد انکی حمایت کرتے ہوئے

واضح رہے کہ ایٹالہ راجندر کی وزات سے برطرفی کے بعد ٹی آرایس کے خلاف انکے مداحوں میں غم و غصہ لہر پائی جاتی ہے اور کئی ایک قائدین ایٹالہ راجندر کے حمایت میں آرہے ہیں ‘ وہیں مستقر حضورآباد میں بھی بڑئے پیمانے پر سابق وزیر ایٹالہ راجندر کو حمایت حاصل ہے