علماء انبیاء کے وارث ہیں اپنی ذمہ داری سے غفلت دین کو منہدم کرنے کے مترادف ہے

مذہبی مضامین

ازقلم :  عبدالقیوم شاکر القاسمی
جنرل سکریٹری جمعیۃ علماء امام وخطیب مسجد اسلامیہ نظام آباد
9505057866

قل ھل یستوی الذین یعلمون والذین لایعلمون۔ القرآن
آیت قرآنی سے علماء کی فضیلت ان کا مقام اور برتری واضح ہورہی ہے کہ طبقہ علماء کو خود باری تعالی نے عوام الناس پر فوقیت اور عظمت عطاء فرمای ہے
یوں فرمایا کہ جاننے والے اور نہ جاننے والے یکساں اور برابر نہیں ہوتے ہیں یعنی جاننے والوں کا مقام اونچا ہے
دنیاوی علوم کے جاننے والے افراد تو اپنے آپ کو اپنی قابلیت سے بھی زیادہ قابل سمجھتے ہیں جو ہم سب کا روز مرہ کا مشاہدہ ہے لیکن علوم دینیہ کے حاملین نے شاید اپنے مرتبہ کو سمجھا نہیں جس کی وجہ سے وہ اپنے آپ کو دنیا والوں کی نگاہ میں کم تر ہونے کا احساس رکھتے ہیں جسکو میں نکالنا چاہتا ہوں
مگر اپنی بات اپنے دلائل یا اپنی عقل وخرد اور اپنے تجربہ وقیاس سے نہیں بلکہ اللہ تعالی کے مقدس ترین کلام اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک ارشادات کےحوالے سے
اللہ پاک مجھ ہیچمند کو بھی توفیق فہم نصیب فرمائے
آمین
علم خالق کائنات کی ایک صفت ہے اور باری تعالی کے جمیع اوصاف اس کی ذات ہی کی طرح قدیم ہیں لہذا یہ صفت علم بھی قدیم اور ناختم ہونے والی ہے اللہ کی اس صفت سے متصف علماء کو چاہیے کہ وہ اس بات کو لازما پیش نظر رکھیں
اسی وجہ سے عالم کو جاہل اور عابد پر فضیلت دی گیء ہے کہیں پر کفضل القمر سے کہیں کفضلی علی ادناکم کہ کر انہیں متوجہ کیا گیا کہ وہ اپنے مقام و مرتبہ کو سمجھیں
امام بخاری علیہ الرحمۃ نے بھی کتاب الایمان کے بعد العلم سے متعلق احادیث کو جمع کرنے کااہتمام فر مایا صاحب مشکوۃ امام بغوی نے بھی آپ کی اتباع کرتے ہوے کتاب العلم کو بیان کیا جس سے معلوم ہوتا ہیکہ ایمان کے بعد سب سے بڑی دولت وہ دولت علم ہے
جاہل آدمی خواہ کتنی ہی ریاضت ومجاہدات کرلیں لیکن وہ عالم کے مقام کو نہیں پاسکتا ہے اللہ تعالی نے عالم دین کی تعظیم وتوقیر نیز اس کے حق میں دعاے مغفرت کے لےء ساری کائنات کو لگارکھاہے اور بھی بہت ساری آیات قرانیہ واحادیث نبویہ سے علم اور علماء کی فضیلت کو ثابت کیا گیا جیسے ان علماء کو وارثین انبیاء کہاگیا اور وارث وہی ہوتا ہے جس کامورث سے خونی رشتہ ہوں یعنی قربت ووابستگی ہوں
جس سے صاف معلوم ہوسکتا ہیکہ علماء انبیاء کے وارث کیوں اورکیسے ہیں
بہرکیف
لیکن جس طرح علماء کرام کا مقام بلند وبالا ہے عین اسی کے مطابق ان کی ذمہ داریاں بھی بڑی ہیں جس سے غفلت وکوتاہی یا ادنی درجہ کی بے اعتنای اوراپنی مفوضہ ذمہ داریوں سے سرموانحراف اور کنارہ کشی موجب سزاء وقابل مؤاخذہ ہے جس پر سخت وعیدیں اور تہدیدات وارد ہوی ہیں جیسےحضرت زیاد ابن جدیر کہتے ہیں کہ حضرت عمر نے مجھ سے پوچھا کیا تم جانتے ہو اسلام کو ڈھانے والی چیز کیا ہے؟میں نے کہا نہیں۔ توآپ نے فر مایا ینھدمہ زلۃ العالم
عالم کا پھسلنا اسلام کو ڈھادیتا ہے
جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ طبقہ علماء اگر اپنے فرائض منصبی سے غافل ہوکر خواہش نفس پر عمل کرنے لگیں تواس کالازمی نتیجہ ہوگا کہ اسلام کی بنیادیں ہلجائیں گی
حوالہ
ماہنامہ دارالعلوم شمارہ4 جلد 89سال 1426
علماء کی ذمہ داریاں
خواہ وہ کسی مسجد سے وابستہ ہوں یا کسی دینی مدرسہ سے متعلق ہوں یا دینی کاموں کی انجام دہی کے سلسلہ میں ہوں یا منصب امامت وتدریس کےحوالے سے ہوں ہرشعبہ میں اس کی ادائیگی کا بھرپور خیال رکھنا اور ازحد ضروری ہے
عالم کو بحیثیت امام اپنی مسجد اور اپنی اتباع کرنے والے مصلیان ومقتدیین کی دینی وعلمی راہ نمای پنج وقتہ نمازوں کا بہ پابندی وقت اہتمام بدعات وخرافات اور دیگر غیر اسلامی افعال واقوال اور منکرات سے روکنا معروف وحق باتوں کی تعلیم دینا ان کے پیش آمدہ مسائل دینیہ کی یکسوی کرنا انہیں کتاب وسنت کی روشنی میں ہدایت عامہ سے واقف کرانا ان کے دکھ درد خوشی اور غم میں حدودشرع کے ساتھ شریک ہونا یہ ائمہ کرام کا فرض منصبی ہے مدارس کے اساتذہ کےلئے وقت کی پابندی کے ساتھ پہونچنا اپنے اوقات میں خیانت نہ کرنا تعلیم وتعلم اور درس وتدریس کا کماحقہ حق ادا کرنا طلباء کو اپنے لےء قوم کی امانت سمجھنا ان کی ذہنی سطح کا خیال کرتے ہوے افہام وتفہیم سے کام لینا ان کی تعلیم وتربیت پر خصوصی توجہ صرف کرنا اپنی ذمہ داریوں میں شامل ہیں الغرض دین کے جس شعبہ سے بھی ہم وابستہ ہوں ان میں مکمل امانت ودیانت کا خیال کرتے ہوے اپنی تمام تر صلاحیتوں کو لگادینا چاہیے
بعض اوقات مساجد ومدارس میں ہماری اپنی نادانی یا لاپرواہی سے ایسے مسائل بھی پیش آجاتے ہیں جس سے ہمارے ہی تقدس میں فرق پڑجاتا ہے اور ہم ہی نالاں ہونے لگ جاتے ہیں ایسے موقع پر لوگ ہمیں بناتے تو اپنا امام ہیں لیکن سمجھتے غلام ہیں
راقم سطور بارہا یہی کہا کرتا ہیک ہم اپنی ذمہ داریوں سے بے بہرہ ہوکر دوسروں کو مورد الزام ٹہراتے ہیں جو یکسر ناقابل قبول بات ہے
ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے وقاراور مرتبہ علم کو ملحوظ نظر رکھیں اور بحیثیت امام اپنی مسجد کی عظیم خدمت وذمہ داری کو سمجھیں تو ان شاء اللہ سماج اور معاشرہ میں قابل قدر انقلاب اور لائق ذکرتبدیلی آسکتی ہے
اللہ پاک توفیق عمل نصیب فرماے
آمین۔