ایک تجزیہ
از قلم : عبدالقیوم شاکر القاسمی
جنرل سکریٹری جمیعۃ علماء امام وخطیب مسجد اسلامیہ نظام آباد
9505057866
موجودہ وبای بیماری کورونا وائریس نے زندگی کے کئ شعبوں میں جہاں تباہی مچای وہیں کئ ایک شعبوں میں انسانوں کو بہت ساری باتوں کے سمجھنے پر آمادہ کیا دعوت فکر وعمل دیا اور عقلاءزمانہ نے اس کو قریب سے دیکھا اور جانااور فطرۃ اللہ کو تسلیم بھی کیا جو ان کی زندگیوں میں انقلاب کا ذریعہ بھی بنا
کورونا وائریس کی وجہ سے انسانوں کو یہ بات سمجھ میں آگئ کہ ہم خالق نہیں ہیں مخلوق ہیں اس بیماری نے بتلادیا کہ مرضی مولی ہرحال میں مقدم اور اولی ہے
حق کھل کر
سامنے آگیا کہ اسباب میں اس وقت تک طاقت نہیں آتی جب تک مسبب الاسباب کا حکم نہ مل جاۓ
انسان کو پتہ چل گیا کہ لاکھوں روپیہ لگاکر بھی وہ اپنی جان نہیں بچاسکتا ہے انسان یہ جان گیا کہ وہ بس احتیاط کرسکتا ہے ایجاد نہیں
اس کے علاوہ کئ ایسے حقائق ہیں جن کو آج کیا مسلمان کیاغیر مسلم سب ہی نے مانا اورزبان حال وقال سے اقرار واعتراف کیا ۔۔۔۔۔
اسی طرح اس بیماری نے انسانوں کو قدرت الہی اور دین فطرت سے بہت قریب بھی کیا جس سے عوام وخواص سب ہی کو خالق کائنات کی تقدیر کو سمجھنے کا موقع ملا اور لوگ حق سے قریب ہوتے گےء اور ہورہے ہیں
کئ ایک مثالیں اس حوالہ سے مشاہدہ میں آئیں گذشتہ جزوی لاک ڈاؤن سے بارہا اس عاجز نے روزآنہ اس بات کا بچشم خویش مشاہدہ کیا کررہا ہے اور کیاجاتا رہے گا
کہ جن لوگوں سے کبھی سال بھر میں سواے رمضان کے نماز فجر نہیں پڑھی جاتی تھی آج ایسے لوگ بھی صبح کی اولیین ساعتوں میں بیدار ہوکر نماز فجر اور کاروباری سرگرمیوں میں چستی دکھارہے ہیں خواہ وہ کسی دوکان کے مالک ہوں یا ملازم سب کو صبح صبح رواں دواں دیکھا جارہا ہے کئ ایک دوکاندار جن کے سامان کی اتنی صبح نہ کسی کو ضرورت پڑتی ہے نہ دوکاندار کبھی اس سلسلہ میں لوگوں کی ضرورت کا اتنی صبح خیال کرسکتا ہے لیکن پھر بھی وہ علی الصبح دوکان کی چابیاں لے کر کندھے پر بیاگ لگاکر دوڑتے ہوے نظر آرہے ہیں
جس سے یہ بات کھل کر سامنے آگئ کہ انسان کے لۓ کوی کام مشکل نہیں ہے وہ ٹھان لے تو صرف لاک ڈاون نہیں بلکہ سال کے بارہ مہینے روزآنہ نماز فجر کے لےء بیدار ہوسکتا ہے اوریہی اس کاحق ہے
آج جہاں اپنی ضرورت یا حکومتی مجبوری کی وجہ سے وہ لوگ بھی صبح کی برکتوں سے فیضیاب ہورہے ہیں جن سے کبھی طلوع کے وقت سورج کو دیکھانہیں گیا اور کبھی صبح کی نیند کو قربان کرنے کی سوجھی بھی نہیں توکیا ہم حصول برکت کے لےء اورسنت نبوی کے مطابق اپنی زندگی کو اس دھارے پر ڈالنے کی نیت سے صبح سویرے بیدار ہوکر دوگانہ اداکرکے اپنے کاروبار ودیگر مشاغل کا بنام خدا آغاز نہیں کرسکتے ہیں ؟
مجھے بس یہ بات ہرمسلمان کو سمجھانے کی ایک ادنی کوشش کرنی ہیکہ اگر ہم اپنا روز مرہ کا یہی معمول بنالیں تو کیا سماج ومعاشرہ میں ایک نیااور اچھا انقلاب نہیں آے گا ۔۔۔۔
چونکہ احادیث نبویہ کے مطابق حضور پاک علیہ الصلاۃ والسلام نے فرمایاکہ
اللھم بارک لامتی فی بکورھا
الحدیث
اے اللہ میری امت کے صبح کے اوقات میں برکت عطاء فرمادیجیے اس دعاء کے حقیقی حقدار تو سب سے پہلے ہر مسلمان بندہ اپنے آپ کو سمجھے خواہ لاک ڈاون رہے نہ رہے حکومت کی جانب سے پابندیاں رہے نہ رہے اگر تاجرین اس بات کو سمجھ لیں اور نمازفجر واشراق کے متصلا اپنی دوکان کھول کر بیٹھ جائیں تو ضرورت مند خود وقت کی پابندی کرکے آپ کے پاس چلاآے گا
حقیقت یہ کہ ہم لوگ جب رزق اور روٹی کی تقسیم کا وقت ہوتا تو خواب غفلت میں ہوتے ہیں اور نبی کی دعاء سے ہم کو حصہ نہیں مل پاتا بعد میں شکوہ شکایت کرنے سے کچھ بھی حاصل ہونے والا نہیں ہے جبکہ آقاے مدنی صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی کوئ سریہ یا لشکر روانہ فرماتے تو صبح سویرے روانہ فرماتے
حضرت صخر غامدی رضہ صحابی رسول نے خود اس بات کی گواہی دی اور اپنی آپ بیتی سنائی کہ میں مالی اور معاشی اعتبار سے کمزور تھا جس کی شکایت آقا کے سامنے کی تو آپ نے صبح سویرے قافلہ بھیجنے کی تاکید فرمای میں نے اس پر عمل کیا جس کے نتیجہ میں مجھے خوب برکت ملی اور میرا مال بھی زیادہ ہوگیا اس طرح کی اور بہت ساری روایات ہے جن سے ثابت ہوتا ہیکہ حقیقی برکت تو صبح کی ان اولیین ساعتوں میں اللہ پاک نے مضمر رکھی ہے
لیکن افسوس ہوتا ہیکہ ہم مسلمان قوم اس پر عمل پیرا نہیں ہوتے اور دیگر قومیں اس سے نفع اٹھالیتی ہیں اور ہم صرف حیلے بہانے شکوے اور شکایات میں گھرے رہ جاتے ہیں
کاش کہ ایسا معمول مسلمانوں کا بن جاتا جس طرح آج موجودہ وبای مرض کی وجہ سے بنا ہوا ہے تو کتنا فائدہ ہم کو حاصل ہوجاتا اور ہم معاشی بحران سے نکل کر مالدار بن سکتے ہیں
خود ہمارے شہرمیں لوگ مثال دیتے ہیں ایک غیر مسلم کی مٹھای کی دوکان کی کہ ہم نے ہرموسم میں اس دکاندار کو صبح کے سات بجے دوکان کھولتا ہوا دیکھے ہیں راقم سطور نے بطور خاص کئ ماہ تک اس بات کو دیکھا اور سچ پایا تب جاکر لوگوں کو اس کی مثال دی آج بھی لاک ڈاؤن میں وہ دوکان سات بجے ہی کھلتی ہے اور لوگ اس سے استفادہ کرتے ہوے نظر آتے ہیں
اللہ تعالی ہر مسلمان کو اپنے نبی کی اس دعاء میں سے حصہ نصیب فرمائے اور حقیقی برکتوں سے نوازے
آمین
بجاہ سید المرسلین