جگتیال میں بلدیہ کی انہدام کاروائی ۔ مجلس کا شدید احتجاج

بین الریاستی تازہ خبر

جگتیال 30ڈسمبر : زین نیوز
جگتیال کے پرانے بس اسٹینڈ کے پاس آج صبح اس وقت شدید کشیدگی پیدا ہوگئی جب مجلس کی جانب سے سرکاری دواخانہ سے متصل برسوں سے قائم ہوٹلوں اور ٹھیلہ بنڈیوں کو بلدیہ کی جانب سے برخواست کردینے کی کارروائی کے خلاف شدید احتجاج کرتے ہوئے انہدام کاروائی کو روکنے کی کوشش کی۔بتایا جاتا ہے کہ گذشتہ 40 سال سے زائد عرصہ سے وہاں ٹین شیڈ میں ہوٹلس اور پان شاپ، ٹھیلہ بنڈیاں قائم تھی اور اس سے کئی غریب خاندانوں کا گزر بسر ہوتا تھا لیکن بلدیہ کی جانب سے ان ڈھانچوں کو غیر قانونی قبضے قرار دیتے ہوئے آج اسے مکمل طور منہدم کردیا گیا۔متاثرہ افراد کی اطلاع پر مجلس کے صدر یونس ندیم اور پارٹی قائدین وہاں پہنچ گئے اور عہدیداروں سے کاروائی نہ کرنے کی خواہش کی۔اس کے باوجود جے سی بی کی مدد سے تمام ڈھانچوں کو منہدم کردیا گیا۔جس پر یونس ندیم نے شدید احتجاج کیا اور بلدیہ کی چیئرپرسن کے ساتھ رکن اسمبلی ڈاکٹر سجنے کمار سے مطالبہ کیا کہ وہ متاثرہ افراد کو متبادل جگہ فراہم کرنے کے بعد انھیں یہاں سے بے دخل کریں۔انہوں نے کہا کہ غیر قانونی قبضوں کی برخاستگی کے نام پر صرف غریبوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے نیا بس اسٹینڈ ہو یا پرانا بس اسٹینڈ ہر جگہ چھوٹے کاروبار کرنے والوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے جبکہ شہر کے ٹاور سرکل کے پاس تمام تاجرین دکانات کے باہر سامان رکھ فروخت کررہے ہیں اور یہ تاجرین عملا سڑکوں پر قبضہ کرتے ہوئے کاروبار کررہے ہیں اور ٹریفک کے مسائل پیدا ہورہے ہیں لیکن ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جاتی۔یونس ندیم نے ضلع کلکٹر سے مطالبہ کیا کہ وہ ٹاور سرکل اور شہر کے دیگر مقامات پر بھی فٹ پاتھ اور دکانوں کے باہر سامان رکھ کر کاروبار کرنے والوں کے خلاف کارروائی کریں۔اسی دوران یونس ندیم نے بلدیہ کی کارروائی کے خلاف وزیر اقلیتی بہبود کوپلا ایشور سے فون پر ربط پیدا کرتے ہوئے تفصیلات سے واقف کروایا۔