جئے شری رام کے نعرے‘گیٹ پھلانگنے کی کوشش پر لاٹھی چارج
جگتیال۔30ڈسمبر
عمران زین کی رپورٹ
پولیس اسٹیشن گولا پلی میں زیر حراست بی جے پی قائدین وکارکنوں نے چیف منسٹر مسٹر کے چندرشیکھرراؤ کا علامتی پتلا نذرآتش کیااورجئے شری رام کے نعرے لگاتے ہوئے پولیس اسٹیشن کی گیٹ کو پھلانگنے کی بھی کوشش کی۔ ان کے اس اچانک اقدام سے مقامی پولیس کے ذمہ دار عہدیدار ششدر رہ گئے۔ اس اقدام کی بی جے پی کارکنوں نے پولیس کو کانوں کان خبر تک ہونے نہیں دی جنہں وزیر درج فہرست طبقات واقلیتی بہبود مسٹر کے ایشور کے کاروں کے قافلہ کو روکنے کی کوشش پر گرفتار کیا۔ اس اچانک اقدام کو روکنے کےلئے احاطہ پولیس اسٹیشن میں احتجاجی بی جے پی قائدین وکارکنوں کے ساتھ پولیس کو نہ صرف مزاحمت کرنی پڑی بلکہ لاٹھی چارج کےلئے مجبور ہوناپڑا۔ نئی ریاست تلنگانہ میں یہ پہلا واقعہ ہے کہ پولیس کی زیر حراست زعفرانی پارٹی سے تعلق رکھنے والے قائدین اپنی حریف جماعت کے سربراہ کا پولیس اسٹیشن کے احاطہ میں اس طرح علامتی پتلا نذرآتش کیا ہوگا۔ امکان ہے کہ پولیس کے اعلیٰ عہدیدار اس وقت ڈیوٹی پر مامور عملہ کے خلاف تحقیقات کا حکم دےںگے رپورٹ کے ملنے کے بعد متعلقہ عملہ کے خلاف محکمہ جاتی تادیبی کارروائی کی جائے گی۔ تفصیلات کے بموجب جگتیال ضلع میں آج صورتحال اس وقت کشیدہ ہوگئی جبکہ ریاستی وزیر درج فہرست طبقات و اقلیتی بہبود مسٹر کے ایشور کی موٹر گاڑیوں کے قافلہ کو بی جے پی قائدین وکارکنوں نے گولا پلی موضع کے قریب روکنے کی کوشش کی۔ جو ضلع میں ترقیاتی کاموں سے متعلق تقاریب میں حصہ لےنے کی غرض سے جارہے تھے۔ اس دوران مرکزی حکومت کی جانب سے روبہ عمل لائی جانے والی فلاحی اسکیمات سے متعلق نصب کردہ فلکسی بورڈس کونکالنے کے مسئلہ پر بی جے پی اور ٹی آرایس کارکنوں کے درمیان بحث و تکرار ہوئی۔ بی جے پی قائدین وکارکنوں کو یہ شبہ تھا کہ وزیرموصوف کے دورہ کی وجہ سے ٹی آرایس قائدین کے دباؤ میں آکر مقامی حکام کی جانب سے مذکورہ بورڈس کو ہٹادیا گیا ہوگا۔ اس مسئلہ پر بی جے پی و ٹی آرایس قائدین وکارکنوں کے درمیان زبردست بحث و تکرار ہوئی جس سے اس علاقہ کی صورتحال کشیدہ ہوگئی۔ یہ احتجاجی آپس میں ایک دوسرے سے مدبھیڑ پر اترآئے جس کی وجہ سے پولیس کو مداخلت کرنی پڑی۔ پولیس نے حالات پر قابو پانے کےلئے بی جے پی انچارج اسمبلی حلقہ جگتیال مسٹرکے انجیا کو دےگر قائدین وکارکنوں کے ساتھ حراست میں لے لیا۔ وزیر موصوف ضلع کے گولا پلی میں منعقد شدنی ایک ترقیاتی پروگرام میں حصہ لےنے کی غرض سے جارہے تھے۔ بعدازاں وزیر موصوف نے میڈیا کانفرنس کا انعقاد عمل میں لایااوربتایاکہ علحدہ ریاست تلنگانہ کے قیام کے بعد ٹی آرایس وہ واحد حکومت ہے جو سرکاری ملازمین کے ساتھ انصاف کررہی ہے جس کی مثال سرکاری ملازمین کےلئے پی آرسی کو 35فیصد سے بڑھاکر 43فیصد کرنے سے ملتی ہے۔ انہوںنے بتایاکہ محکمہ پولیس میں بھی ٹی آرایس کے دوراقتدار میں بھی بڑے پیمانے پر تقررات عمل میں لائے گئے۔ اس محکمہ کو مستحکم کرنے کےلئے کے سی آر کی زیر قیادت حکومت تلنگانہ نے کئی ایک عملی اقدامات کئے گئے جس میںعصری آلات کی فراہمی کے بشمول نئی موٹر گاڑیوں کا انتظام اورہر پولیس اسٹیشن کو ماہانہ اخراجات کےلئے فنڈس کا اختصاص قابل ذکر ہےں۔مسٹر کے ایشور نے مزید کہا کہ ٹی آرایس وہ واحد حکومت ہے جس نے آشا ورکر سے لےکر دوسرے قسم کے ورکرس کے ساتھ انصاف کویقینی بنایا۔ ٹی آرایس تلنگانہ میں ٹی آرایس حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد سے ہرایک طبقہ کے ساتھ انصاف کیاجارہا ہے۔تلنگانہ میں کئی ایک فلاحی اسکیمات کو نہ صرف روشناس کرایاگیا بلکہ اس پر کامیابی کے ساتھ عمل کویقینی بنایاجارہا ہے جس سے ہر خاص و عام مستفید ہورہے ہےں۔ کلیانہ لکشمی و شادی مبارک ایسی اسکیمات ہےں جس کی پورے ملک میں مثال نہیں ملتی۔ انہوں نے بتایاکہ غریب اور مستحق خاندانوں کے بچوں کو معیاری انگریزی تعلیم کی فراہمی کےلئے اقامتی اسکولوں کے قیام کا جوبیڑہ اٹھایاگیا وہ اپنی مثال آپ ہے۔ بی سی ‘ ایس سی‘ ایس ٹی اور اقلیتی طبقہ کے طلبہ کےلئے اول د دہم جماعتوں کے ساتھ اقامتی اسکولس کا قیام عمل میں لایا گیا جہاں انہےں تمام تر سہولتیں مفت فراہم کی گئی ہےں ان میں قیام و طعام کے ساتھ ساتھ یونیفارم ‘ درسی کتب ‘ نوٹ بکس دےگر قابل ذکرہےں۔ انہوںنے کہا کہ چند ایک قائدین جن کا تعلق حریف جماعتوں سے ہے انہےں ٹی آرایس حکومت کے کام دیکھے نہیں جارہے ہےں جس سے حاسد یہ قائدین بلا وجہ چیف منسٹر اور ٹی آرایس حکومت پر الزام تراشی کررہے ہےں۔ان کا یہ عمل انتہائی تکلیف دہ ہے۔مسٹر کے ایشور نے کہا کہ دوباک اسمبلی حلقہ سے کامیابی کے بعد بی جے پی آپے سے باہر ہوگئی ہے۔ جس کے بعد اقتدار کےلئے بی جے پی قائدین جی ایچ ایم سی انتخابات میں مذہب اور ذات پات کے نام پر طبقات میں نظریاتی اختلافات پیدا کرکے اپنی سیاسی روٹیاں سیکھنا چاہتے تھے۔ اس منظم سازش کے تحت انہوںنے جی ایچ ایم سی انتخابات میں شہر کے پرامن ماحول کو مکدر کرنے کی بھی کوشش کی تاہم چیف منسٹر کے چندرشیکھرراؤ کی مذہبی رواداری پر کاربند حکومت نے ماحول کو مکدر ہونے نہیں دیا۔ جس سے بی جے پی کو تو وقتیہ طورپر فائدہ ہوا لیکن دوسری جانب غریب عوام کو بھی نظم وقانون کی برقراری سے راحت ملی۔ مسٹر کے ایشور نے دعویٰ کیا کہ ٹی آرایس کے چھ سالہ دور اقتدارمیں جو ترقیاتی ام انجام دےئے گئے ہےں اس کو وہ بہ بانگ دہل میڈیا کے سامنے ایک کے بعد دیگر گنوارہے ہیں۔ انہوں نے عوام کو بھی اس پر غور کرنے کا مشورہ دیا۔
