حیدرآباد۔ 31؍ڈسمبر
زین نیوز
کل ہند مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ اسدالدین اویسی نے بی جے پی حکومتوں کو دھاندلی کے ذریعہ تبدیلی مذہبی کے خلاف آرڈیننس لانے پر شدید تنقید کی او ر کہاکہ بی جے پی کی یہ کوشش آئین کے تحت فراہم کردہ بنیادی حقوق کی صریحاًخلاف ورزی ہے انہوں نے کہاکہ بی جے پی کے زیر اقتدار والی ریاستوں میں لوجہاد کے نام پر ایسے قانون بنائے جارہے ہیں جس کے ذریعہ مسلم نوجوانوں کو نشانہ بنائے جاسکے۔ اس قانون کے خلاف حیدرآباد کے رکن پارلیمنٹ اسد الدین اویسی نے کہا کہ بی جے پی کا یہ قانون دستور کے مغائر ہے۔زعفرانی پارٹی مسلمانوں کے خلاف آئے دن کچھ نہ کچھ ایسے قوانین کی تیاریوں میں مصروف رہتی ہے جس کے ذریعہ اس اقلیتی طبقہ کو ہراساں کیا جاسکے اور انہیں ذہنی دباو میں رکھا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ایک بالغ اپنی مرضی سے کسی سے بھی شادی کر سکتا ہے ۔سدالدین اویسی نے الزام لگایا کہ تبدیلی مذہبی کے خلاف ایسے قانون بنانا دراصل آئین کا مذاق اڑانے کے مترادف ہے۔ اترپردیش حکومت کی طرف سے جبراً تبدیلی مذہب کے خلاف حالیہ دنوں میں آرڈیننس کی اجرائی سے تحریک پاکر مدھیہ پردیش کی کابینہ کی جانب سے اسی طرح کے اقدام کی منظوری دینے کے حوالے سے کہاکہ یہ قوانین اور آرڈیننس آئین کے منافی ہیں۔ایسے قوانین کی منظوری ملک اور مسلم برادری میں نفرت اورتفرقہ کا ماحول پیدا کر نے کا باعث بن ر ہے ہیں۔ اسد الدین اویسی نے مرکزکی زرعی مارکیٹنگ کے اقدامات کو بھی ناگوارقرار دیا اور نریندر مودی حکومت کی چیلنج کیا کہ وہ کسانوں کو اقل ترین امدادی قیمت (ایم ایس پی) مہیا کرے اور روزگاروں کو ورزگار کی فراہمی سے متعلق قوانین سامنے لائیں۔
