مہاراشٹرا کے سابق وزیر داخلہ انیل دیشمکھ کی رہائش گاہ پرای ۔ڈی کے دھاؤئے

تازہ خبر قومی

ممبئی:25؍جون
(زین نیوز)
انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے جمعہ کے روز مہاراشٹرا کے سابق وزیر داخلہ انیل دیشمکھ کے گھر پر چھاپہ مارا۔ ای ڈی نے ناگپور میں انیل دیشمکھ کےرہائش گاہ پر تلاشی لی۔تاہم یہ پتہ نہیں چلا کہ آیاتلاشی کے دوران دیشمکھ رہائش گاہ پر موجود تھے یا نہیں

ای ڈی کی جانب سے اس معاملے میں ڈپٹی کمشنر آف پولیس (ڈی سی پی) راجو بھجبل کا بیان قلمبند کرنے کے ایک دن بعد سامنے آیا ہے۔ بھجبل اس وقت ممبئی پولیس کے انفورسمنٹ ونگ کے انچارج ہیں اور ان کے دائرہ اختیار میں سوشل سروس برانچ ہے

 ممبئی کے سابق پولیس کمشنر پرمبیر سنگھ کے الزام کے بعد انیل دیشمکھ کے خلاف منی لانڈرنگ کا مقدمہ درج کیا گیا تھا ، جس کے لئے ای ڈی مسلسل ان سے پوچھ گچھ کررہی ہے۔

پرمبیر سنگھ نے چیف منسٹر ادھو ٹھاکرے کو خط لکھا تھا اور سابق وزیر داخلہ انیل دیشمکھ کے خلاف بدعنوانی کے بارے میں کچھ سنگین الزامات عائد کیے تھے۔ اس کے علاوہ پرمبیر سنگھ نے بھی بمبئی ہائی کورٹ میں ایک عرضی داخل کی تھی جس میں بتایا گیا تھا کہ انیل دیش مکھ نے سچن واجے سے کہا ہے کہ وہ ہر ماہ تقریبا 100 کروڑ روپے اکٹھا کریں

انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کا منی لانڈرنگ کے سنگین الزامات پر انیل دیشمکھ کے گھر چھاپہ یہ دوسری بارہے۔ اس سے قبل 25 مئی کو ان کے گھر پر چھاپہ مارا گیا تھا۔واضح رہےکہ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ سے قبل سی بی آئی (بیورو آف انویسٹی گیشن) نے ان کے گھر پر چھاپہ مارا تھا۔

(سی بی آئی) نے ابتدائی تفتیش کے بعد انیل دیشمکھ کے خلاف ایف آئی آر درج کی تھی ۔انیل دیشمکھ اور اس کے قریبی ساتھیوں کی رہائش گاہوں پر تلاشی لی گئی اور انیل دیشمکھ سمیت متعدد افراد کے بیانات سی بی آئی نے ریکارڈ کیے تھے۔

 

یہ بھی پڑھیں : سعودی عرب میں جعل سازی کے الزام میں ایک شخص گرفتار

 

پرمبیر سنگھ کے علاوہ سچن واجے نے انیل دیشمکھ پر بھی مبینہ طور پر غیر قانونی بھتہ خوری کا الزام لگایا تھا۔ سچن واجے نے اے این آئی کو ایک بیان دیتے ہوئے کہا کہ میں 6 جون 2020 کو دوبارہ ڈیوٹی میں شامل ہوگیا تھا۔ انیل دیشمکھ پر اس الزام کے بعد انھوںنے وزیر داخلہ کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔


تاہم شرد پوار میری شمولیت سے خوش نہیں تھے ، اور انہوں نے مجھے دوبارہ معطل کرنے کو کہا۔ یہ بات مجھے خود انیل دیشمکھ نے بتائی تھی۔ انیل دیشمکھ نے بھی پوار کو راضی کرنے کے لئے مجھ سے 2 کروڑ روپئے مانگے تھے۔ میرے لئے اتنی بڑی رقم ادا کرنا ممکن نہیں تھا ، انیل دیشمکھ نے مجھ سے بعد میں یہ ادا کرنے کو کہا۔ اس کے بعد میری پوسٹنگ ممبئی کے کرائم انٹیلی جنس یونٹ میں ہوئی