نئی دہلی:25؍جون
(زین نیوز؍ایجنسیز)
ٹویٹر نے آج صبح ایک گھنٹے کے لئے مرکزی وزیر روی شنکر پرساد کا اکاؤنٹ بلاک کردیا۔ روی شنکر پرساد نے ٹویٹر کی اس کارروائی پر ناراضگی کا اظہار کیا۔ ٹویٹر نے اس کے پیچھے کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ مرکزی وزیر نے امریکہ کے ڈیجیٹل ملینیم کاپی رائٹ ایکٹ کی خلاف ورزی کی ہے۔
تاہم بعد میں ٹویٹر نے روی شنکر پرساد کا اکاؤنٹ ایک انتباہ کے ساتھ دوبارہ بحال کردیا۔ روی شنکر پرساد نے کہا کہ ٹویٹر کی کارروائی انفارمیشن ٹکنالوجی (بیچوان کے رہنما خطوط اور ڈیجیٹل میڈیا کوڈ آف کنڈکٹ) قواعد 2021 کے ضابطہ 4 (8) کی سراسر خلاف ورزی ہے۔
Friends! Something highly peculiar happened today. Twitter denied access to my account for almost an hour on the alleged ground that there was a violation of the Digital Millennium Copyright Act of the USA and subsequently they allowed me to access the account. pic.twitter.com/WspPmor9Su
— Ravi Shankar Prasad (@rsprasad) June 25, 2021
انہوں نے کہا کہ اکاؤنٹ بلاک کرنے سے پہلے ٹویٹر نے مجھے کوئی نوٹس نہیں دیا۔ سوشل میڈیا کمپنی کی یہ کارروائی ایک ایسے وقت میں منظرعام پر آئی ہے جب آئی ٹی کے نئے قواعد کو لے کر مرکزی حکومت اور ٹویٹر کے مابین تنازعہ چل رہا ہے۔ تاہم ، کمپنی نے روی شنکر پرساد کا اکاؤنٹ دوبارہ کھول دیاہے

ٹویٹر کا اسکرین شاٹ روی شنکر پرساد نے اس سے قبل KOOکو ایپ پر شیئر کیا تھا۔ اس کے بعد انھوں نے ٹویٹر پر اسکرین شاٹس شیئر کیں۔ روی شنکر پرساد نے کہا کہ کسی بھی سوشل میڈیا کمپنی کو نئے آئی ٹی ایکٹ کی تعمیل کرنی ہوگی۔ اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
ٹویٹر کے ایکشن سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ آزادی اظہار رائے کے مفاد میں نہیں ہے ، بلکہ اسے اپنا ایجنڈا چلانے میں ہی دلچسپی ہے۔ روی شنکر پرساد نے کہا ہے کہ ٹویٹر امریکہ میں ایک مختلف اصول کی پیروی کرتا ہے ، لیکن یہ ہندوستان کے لئے مختلف ہے۔ مرکزی وزیر نے کہا کہ آخر کوئی کمپنی ہندوستان میں امریکی قانون کو کس طرح معیاری بنا سکتی ہے۔