یو پی پولیس کی جانب سے ٹویٹر انڈیا کے منیجنگ ڈائریکٹر منیش مہیشوری پر مقدمہ درج

تازہ خبر قومی

 ملک میں ٹویٹر پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ
لکھنؤ:29؍جون
(زین نیوز)
مائکروبلاگنگ پلیٹ فارم ٹویٹر مسلسل تنازعہ میں ہے۔ اس بار ہندوستان کا غلط نقشہ پیش کرنے کی وجہ سے وہ تنازعات کے گھرے میں آگیا ہے۔اترپردیش پولیس نے ٹویٹر انڈیا کے منیجنگ ڈائریکٹر منیش مہیشوری کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم کے کیریئر سیکشن پر’’ "ٹوپیپ لائف” ‘‘کے عنوان سے ہندوستان کے مسخ شدہ نقشہ پیش کرنے کےمعاملے میں مقدمہ درج کیا ہے۔بجرنگ دل کے ایک لیڈر نے ٹویٹر کے ایم ڈی منیش مہیشوری کے خلاف بھی مقدمہ درج کرایا ہے

اس نقشے میں جموں وکشمیر اور لداخ کے مرکزی خطوں کو ہندوستان کی حدود سے باہر دکھایا گیا ہے۔یوپی پولیس نے ٹویٹر انڈیا کے منیجنگ ڈائریکٹر منیش مہیشوری پر انڈین پینل کوڈ سیکشن 505 (2) عوامی جمہوریہ فساد اور انفارمیشن ٹکنالوجی ایکٹ کے سیکشن 74 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔جس کے بعد ملک میں ملک میں ٹویٹر پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔

تاہم یہ پہلا موقع نہیں ہے جب ٹویٹر نے ہندوستان کا غلط نقشہ دکھایا ہو۔ ٹویٹر کے سی ای او جیک ڈورسی کو جموں و کشمیر ، جمہوریہ چین میں لیہ کی جغرافیائی جگہ دکھائے جانے کے بعد سن 2020 میں ، ہندوستان کی حکومت نے غلط ہندوستانی نقشہ پر اپنی سخت ناراضگی کا اظہار کیا تھا۔

حکومت نے اپنی وارننگ میں کہا تھا کہ ٹویٹر کی جانب سے ہندوستان کی "خودمختاری اور سالمیت کی توہین کرنے کی کوئی بھی کوشش مکمل طور پر ناقابل قبول ہے۔”

تاہم بڑھتے ہوئے تنازعہ کو دیکھ کرکمپنی نے ملک کا غلط نقشہ اپنی سائٹ سے ہٹا دیا ہے۔ اسی کے ساتھ ہی لوگوں کا کہنا ہے کہ ٹویٹر بار بار ملک کے قانون کی خلاف ورزی کررہا ہے۔ جس کے خلاف کارروائی ہونی چاہئے۔اس معاملہ میں پورے ملک میں غم و غصہ پایا جاتا ہے۔

مرکزی حکومت بھی کھل کر ٹویٹر کے خلاف آگئی ہے۔ مرکزی ٹیلی کام کے وزیر روی شنکر پرساد نے ٹویٹر پر دوغلا رویہ اپنانے کا الزام عائد کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ ملک کے حوالے سے ٹویٹر کا ارادہ ٹھیک نہیں ہے۔