غذائی اجناس، دوائیں اور روزمرہ استعمال کی چیزیں روانہ۔
صدر ریاستی جمعیت مفتی غیاث الدین رحمانی کا بیان
حیدرآباد 26 جولائی
(پریس نوٹ)
مفتی محمود زبیر قاسمی جنرل سکریٹری جمعیت علماء تلنگانہ و آندھرا پردیش کے پریس نوٹ کے مطابق مہاراشٹر کے ساحلی علاقے کوکن میں سیلاب کی تباہ کن صورتحال ہے۔ بالخصوص اس علاقہ کے دو حصے مہاڑ اور چیلون شدید متاثر ہیں۔ کئی دیہات مٹ چکے ہیں۔ دو دو منزل تک پانی پہنچنے کی وجہ سے سارا گھریلو سامان اور غذائی چیزیں خراب ہوگئی ہیں۔
جمعیت علماء مہارشٹرا حضرت مولانا سید ارشد مدنی صاحب مد ظلہ صدر جمعیت علماء ہند کی ہدایت پر 13 ہزار لیٹر پینے کا پانی، 480 کیلو سے زائد خشک دودھ، ایک ہزار چٹائی اور 400 چادریں اور دیگر اشیاء ابتدائی امداد کے طور پر مہاڑ بھیجے گئے ہیں۔ جبکہ چیلون کے علاقہ تک پہنچنا ممکن نہیں، راستے بند ہیں۔
جبکہ ڈاکٹروں کی دو امدادی ٹیمیں دواؤں کے ساتھ آج ممبئی سے روانہ ہوچکی ہیں۔ جبکہ صفائی اور دیگر راحت رسانی کے کاموں کیلئے قرب و جوار سے جمعیت علماء کے امدادی کارکن مہاڑ پہنچ رہے ہیں۔ جبکہ کولا پور اور سانگلی کے علاقوں میں پانی کے شدید بہاؤ کی وجہ سے لوگ اپنے مکانات چھوڑنے پر مجبور ہورہے ہیں۔

ان علاقوں میں گذشتہ چند سال قبل سیلاب کی وجہ سے مکانات تباہ ہوئے تھے۔ جمعیت علماء نے بلا لحاظ مذہب و ملت بڑے پیمانے پر کروڑہا روپے کے صرفہ سے وہاں مکانات کی تعمیر کروائی تھی۔ اس موقع پر بھی مسلسل پریشان حال لوگوں کے فون جمعیت علماء کو موصول ہورہے ہیں۔
جمعیت علماء تلنگانہ و آندھراپردیش کے صدر مولانا مفتی غیاث الدین رحمانی قاسمی نے کہا کہ ان متاثرین کی باز آباد کاری اور راحت رسانی ہماری قومی اور ملی ذمہ داری ہے۔ اس علاقہ میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کے بعد عرب تجار آباد ہوئے تھے۔ اسی لئے ان علاقوں کی تہذیب منفرد ہے۔ انہوں نے کہا کہ جمعیت علماء تلنگانہ و آندھراپردیش اس خصوص میں کوکن کے عوام کی مدد کرے گی۔ اس سلسلہ میں شہر و اضلاع کے ذمہ داروں سے رابطہ کیا گیا ہے۔
