حیدرآباد: جوبلی ہلز میں ووٹوں کی چوری ۔ کے ٹی آر کے الزامات مضحکہ خیز
جوبلی ہلز میں منشیات کا بنیاد ہی بی آر ایس نے رکھی۔ ایم پی ڈی۔اروند
نظام آباد:۔15 اکتوبر
( نمائندہ زین نیوز)
بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ دھرم پوری اروند نے بی آر ایس کے ورکنگ صدر کے ٹی راما راؤ پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کا یہ دعویٰ کہ جوبلی ہلز میں ووٹوں کی چوری ہوئی ہے، سراسر مضحکہ خیز ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی آر ایس پارٹی ہی وہ جماعت ہے جس نے ماضی میں ریاست میں جعلی ووٹروں اور غیر ملکی شہریوں کو پناہ دی تھی۔
ڈی اروند نے منگل کو میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ اگر جوبلی ہلز کے ایک اپارٹمنٹ میں 43 ووٹ چوری ہوئے ہیں تو بی آر ایس حکومت کے دور میں بودھن میں چوری کے 42 پاسپورٹ جاری کیے گئے تھے، جسے پارٹی اب جان بوجھ کر بھول گئی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بی آر ایس نے ہی پہلے بنگلہ دیشی اور میانمار کے شہریوں کو پناہ دی تھی۔بی جے پی ایم پی نے الزام لگایا کہ کے ٹی راما راؤ نے جوبلی ہلز میں منشیات کے دھندے کا دروازہ کھولا، اور وہاں کے کلبوں اور پبوں کو منشیات فراہم کرنے میں ان کے قریبی افراد ملوث رہے۔ ان کے بقول یہ کے ٹی آر ہی تھے جن کے دور میں جوبلی ہلز کے کلبوں میں منشیات کا آزادانہ استعمال شروع ہوا۔
انہوں نے بی آر ایس پر الزام لگایا کہ وہ جوبلی ہلز کے ضمنی انتخاب میں ہمدردی کی سیاست کھیل رہی ہے اور منشیات کے اسکینڈل پر پردہ ڈالنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اروند نے کہا کہ بی آر ایس کو واضح کرنا ہوگا کہ جوبلی ہلز کے پبوں کو منشیات کس کی نگرانی میں سپلائی کی جاتی تھیں اور اس کے لیے کون ذمہ دار تھا۔
ڈی اروند نے یہ بھی کہا کہ جوبلی ہلز حلقہ میں پائے جانے والے جعلی ووٹوں کا اندراج سابق بی آر ایس حکومت کے دوران ہی ہوا تھا۔ انہوں نے کانگریس کے 42 فیصد بی سی ریزرویشن کے وعدے کو بھی ایک ’’سیاسی ڈرامہ‘‘ قرار دیا اور کہا کہ
کانگریس نے اس عمل کو درست طور پر نافذ کرنے میں ناکامی حاصل کی، اور اب وہ بی جے پی کو بلاوجہ نشانہ بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔انہوں نے زور دیا کہ بی آر ایس ہی تلنگانہ میں انتخابی دھوکہ دہی اور جعلی ووٹوں کے اندراج کی اصل معمار ہے