آئی ٹی کمپنی کی دھوکہ دہی بھرتی کے نام پر 15 کروڑ روپے لوٹ لینے کا الزام

تازہ خبر تلنگانہ

حیدرآباد : یکم / جون
(زین نیوز )
حیدرآباد کے ہائی ٹیک سٹی میں ایک آئی ٹی کمپنی نے بے روزگاروں کے ساتھ بدعنوانی کی ہے۔ مادھاپور پولیس کمپنی مینجرز کی تلاش میں ہے جن پر سافٹ ویئر کی خدمات حاصل کرنے اور بے روز گاروں کو دھوکہ دینے کا الزام ہے ۔

کمپنی پر الزام ہے کہ اس نے لوگوں کے ساتھ دھوکہ دہی کر کے 10 سے 15 کروڑ روپے کا غبن کیا ہے ۔ کونڈا پور میں کچھ لوگوں نے حال ہی میں انو ہب ٹیکنالوجی انڈ یا پرائیویٹ لمیٹڈ کے نام سے ایک آئی ٹی کمپنی قائم کی ہے۔ کمپنی نے بھرتی کیلئے اشتہارات جاری کئے ۔

اس کے بعد درخواست دہندگان کا آن لائن انٹر ویولیا گیا اور امتحان بھی دفتر میں منعقد ہوا۔ بعد ازاں امیدواروں کو جاب آفر لیٹر بھی دیے گئے ۔ کمپنی کے نمائندوں نے امیدواروں کو بتایا کہ میٹر میٹنگ دو ماہ تک جاری رہے گی اور اس سے قبل انہیں 2 سے 3 لاکھ روپے بطور سیکیورٹی جمع کرانے کو کہا گیا تھا۔

زیادہ تر بے روز گارامیدواروں نے رقم جمع کرادی۔ ٹریٹنگ کی مدت کے دوران ادائیگی کے علاوہ کچھ ملازمین کو لیپ ٹاپ دیے گئے تا کہ وہ گھر سے کام کرسکیں۔حال ہی میں ایک ہفتہ قبل کمپنی کی ویب سائٹ اور ای میل کومکمل طور پر بلاک کر دیا گیا تھا۔ متاثرین کو احساس ہوا کہ انہیں دھوکہ دیا گیا ہے ۔

انہوں نے مادھاپور پولیس سے رابطہ کیا۔ انسپکٹر رویندر پرساد نے کہا کہ ہم کمپنی کے نمائندوں کملیشوری ، راہل ، آلوک، ویشنوی، مدرا اور پردیپ کو تلاش کر رہے ہیں۔ 60 لوگوں نے پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کرائی ہے۔