از قلم: عبدالقیوم شاکر القاسمی
امام وخطیب مسجد اسلامیہ نظام آباد
(1)
وجودہ حالات میں امت مسلمہ جس ڈراور خوف کے سایہ میں زندگی گذاررہی ہے وہ عالم آشکارا ہے کہیں موت کا خوف منڈلارہا ہے تو کہیں بیماری کے لگ جانے کا ڈراوراحساس کھاے جارہا ہے ہمیں اس وقت عوام الناس کے دلوں سے اس خوف کو نکالنے کی ضرورت ہے جب تک یہ خوف نہیں نکلے گا ہم یوں ہی گھٹ گھٹ کر مرتے رہیں گے اسلئےکہ خوف بجاے خود ایک بیماری ہے جس سے چھٹکارا پانے کی ضرورت ہے خوف خواہ موت کا ہویا مرض اور بیماری کا وہ انسان کو آگے بڑھنے اور بڑھانے میں ایک رکاوٹ بن جاتاہے
آج انسانیت کسی بیماری اور وبای مرض سے کم لیکن خوف کی وجہ سے زیادہ مررہی ہے انسان اسی کی وجہ سے پست ہمت اور حوصلہ شکن بنتاجارہا ہے جس کی وجہ سے اس کو اپنی منزل نظر نہیں آرہی ہے کسی لکھنے والے نے لکھاہے گرچہ مفروضہ ہی سہی لیکن عبرت آموز ہیکہ ایک بہو نے عید کے موقع پر سب گھر والوں کے لےء کھانا تیارکیا پکاتے وقت اس کھانے میں زہریلا سانپ گرا اس بہو نے اپنی ساس کے ڈر سے یہ بات کسی کو بتاے بنا اسی سانپ کے ساتھ کھانا پکادیا اور سب لوگ کھابھی لےء کسی نے نہ زہر کو محسوس کیا نہ ہی کسی قسم کی گھن اور تقذر کا ان کو شبہ ہوا جب دوسرے سال اسی بہو نے عید کے موقع پر کھانا بنایا اور سب لوگ کھانے کےلےء بیٹھے تناول کررہے تھے تو کسی نے گذشتہ عید پر بناے کھانے کی تعریف کی اور اس کی لذت کا ذکر کرتے ہوے بہو کی تعریف کی بہو کو اس وقت یاد آیا اس نے سوچا کہ کب تک اس راز کو اپنے سینہ میں دباے رکھوں لہذا اس نے پہلے سال والی عید پر بناے گئے کھانے میں زہریلے سانپ کے گرنے کا واقعہ ذکر کردیا جوں ہی یہ بات سب کے سامنے آئ سب دم بخود رہ گےء کسی کی سانس رک گئ
کوئی اسی وقت مرگیا کوی بیہوش ہوگیا کوی چیخیں مار مار کر رونے لگا وغیر ایک قسم کا واویلا مچ گیا جب تک کسی کو پتہ نہیں تھا تو کھانابھی اچھااورلذیذ لگا اور ایک سال گذر بھی گیا لیکن اب جوں ہی سانپ کے مل جانے کی بات کا علم ہوا تو محض اس کے ڈر سے موت واقع ہوگیء اور طبعیتوں میں ایک قسم کا تکدرہونے لگا جس سے معلوم ہوتا ہیکہ ڈر اور خوف ایک ایسا مرض ہے جس سے چھٹکارا پانا بہت ضروری ہے باالکل اسی طرح کا ایک فرضی واقعہ بھی برسوں سے سنا گیا کہ ایک آدمی کواطلاع دی گئی کہ تم کو فلاں جرم میں سانپ سے ڈسوانے کی سزاء دی جاے گی جس کے لےء پوراماحول بنایاگیا انتظامات کےء گےء اور اس کی آنکھ پر پٹی باندھ کر صرف سوی سے چبھو دیا گیا تو وہ مرگیا بعد مرگ اس کا ٹیسٹ کیا گیا تو پتہ چلا کہ اس کی یہ موت محض سانپ کے ڈر سے ہوی ہےاس لےء ان حالات میں ہر فرد کی یہ ذمہ داری ہیکہ وہ اپنوں اور پرایوں کے دل سے اس بیماری اور وباء کا خوف ختم کراے اس کے لےء جو جتن کرسکتا ہے وہ کرے اور اس کو اپنی ذمہ داری سمجھے
(2 )حتیاطی تدابیرپر عمل آوری کو یقینی بنایا جاے ہر مسلمان کا عقیدہ تویہی ہیکہ موت وحیات کامالک اللہ ہے لیکن احتیاطی تدبیروں پر عمل کرنابھی دین کا ایک شعبہ ہے احادیث میں آتا ہیکہ کوی بھی بیماری متعدی نہیں ہوتی ہے لاعدویحضور علیہ السلام سے صحابہ نے شکایت کی کہ ان کے اونٹوں کو خارش کی بیماری لگ گئیہےپہلے ایک کو اس سے دوسرے کو پھر تیسرے کو لگ رہی ہے اس کا حل بتائیں آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ بیماری ایک سے دوسرے کو نہیں لگتی ہے پھر سوال کیا کہ اگر بات ایسی ہوتی تو بتاؤکہ پہلے اونٹ کو یہ بیماری کیسے لگی ظاہر بات ہے کہ اللہ کے حکم سے لگی تو یقینا دوسرے اونٹوں کو بھی حکم خداوندی سے ہی لگی ہے
یہ تو ایک مومن کا عقیدہ ہے جس پر آج ثابت قدم رہنے کی بے انتہاء ضرورت ہے اور عوام الناس کو سمجھانے کی ضرورت ہیکہ کسی کے کھانسنے یا چھنکنے یا کسی کو چھونے سے بیماری متعدی نہیں ہوتی ہے سب منجانب اللہ ہوتا ہے لیکن ساتھ ساتھ اللہ کے نبی نے فرمایاکہ وبائی امراض کے پھیلنے کے زمانہ میں کوی اپنے شہر سے باہر نہ جاے تاکہ دوسروں کے عقیدہ کی حفاظت ہو اور کسی کو اندر نہ آنے دیا جاے تاکہ ہم.بھی بدعقیدگی سے بچ سکیں جس سے احتیاط کرنے کا پہلو واضح ہوتا نیز طب نبوی کے حوالہ سے اپنے چہروں ناک اور منھ پر کپڑا باندھنے اور مختلف طریقوں سے اپنے آپ کو محفوظ رکھنے اور احتیاطی پہلووں پر عمل کرنے کا بھی ثبوت ملتا ہے یہ سب احتیاط سوء ظن سے بچنے بچانے کی غرض سے ہیں اس لےء موجودہ وبای مرض کے دوران ہمیں ہر احتیاطی تدبیر کو اختیار کرتے ہوے اپنے عقیدہ پر پورے وثوق کے ساتھ جمے رہنے کی ضرورت ہے
(3)ایسے پرآشوب ماحول میں بطور خاص اللہ کے نبی سے منقول وماثور دعاؤں کا اہتمام کرنا چاہیے گھر سے نکلنے اور گھر میں داخل ہونے کی دعاء بازار جانے اورواپس آنے کی دعاء مسجد میں داخل ہونے اور نکلنے کی دعاء ان سب دعاؤں کو اپناکر ہم حفاظت خداوندی میں آسکتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح وشام اور زندگی کے مختلف احوال کے لحاظ سے نہایت جامع اور بیش قیمت دعائیں اپنی امت کو سکھلای ہیں جو یقینا امت مسلمہ پر اور ساری انسانیت پر ایک بے پایاں شفقت ومہربانی ہے مولانامنظور نعمانی رح نء فرمایا کہ امت کو آپ کے ذریعہ روحانی دولتوں کے جو عظیم خزانے ملے ہیں ان میں سب سے اہم اور بیز قیمت خزانہ ان دعاؤں کا ہے جو مختلف أوقات میں اللہ تعالی سے خود آپ نے کیں اور امت کو تلقین فرمای ہیں آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہرمسلمان صبح وشام کی مسنون دعاؤں کااہتمام اپنے لےء لازم کرلے تو وہ بہت ساراخیر اور شروروفتن آفات وبیماریوں سے محفوظ رہ سکتا ہے دعاؤں میں اللہ تعالی نے بڑی تاثیر رکھی ہے اللہ پاک ہم سب کو توفیق عمل نصیب فرماے آمیں
