نئی دہلی :۔23/ستمبر
(زین نیوز ڈیسک)
پاکستان کے کپتان بابر اعظم نے تنقید کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی بیٹنگ فارم کھو رہے ہیں۔ کراچی کھیلے گئے دوسرے ٹی ٹوئنٹی میں پاکستانی ٹیم نے انگلینڈ کو 10 وکٹوں سے شکست دے دی۔
وکٹ کیپر اور بلے باز محمد رضوان کے ساتھ بوم۔ ان اوپنرز نے پاکستان کی جانب سے ٹی ٹوئنٹی میں سب سے زیادہ اوپننگ شراکت کا عالمی ریکارڈ توڑ دیا ہے.
انہوں نے اپنا سابقہ 197 رنز کا ریکارڈ توڑ دیا۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ پاکستان نے ٹی ٹوئنٹی کا پہلا میچ ہارنے کے بعد دو دن کے اندر ہی بڑی فتح درج کرائی۔
تازہ ترین جیت نے سیریز 1-1 سے برابر کر دی۔ یہ کسی بھی وکٹ کے لیے پانچویں سب سے بڑی شراکت ہے۔ واضح رہے کہ پاکستان نے 2021 کا ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 10 وکٹوں کے فرق سے جیتا تھا۔
شائقین امید کر رہے ہیں کہ یہ جیت آسٹریلیا نے والے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ سے قبل انہیں مزید اعتماد دے گی۔
پہلی اننگز میں حارث رؤف اور شاہنواز دھانی کی دو، دو وکٹوں کے باوجود انگلش کپتان معین علی کے 23 گیندوں پر 55 رنز کی مدد سے انگلینڈ کی ٹیم نے 200 رنز کا بڑا ہدف دیا۔ پہلے ٹی ٹوئنٹی میں انگلینڈ کی فتح کے بعد اب دوسرے میچ کی پہلی اننگز کے اختتام پر بھی لگ رہا تھا کہ مہمان ٹیم کا پلڑا بھاری ہے۔
200 رنز کے ہدف کے علاوہ پاکستانی بلے بازوں کو انگلش اٹیک کا بھی سامنا کرنا تھا اور ایسی باتیں گردش میں تھیں کہ شاید کپتان بابر اعظم ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ سے قبل اپنی قسمت اور فارم دونوں کھو بیٹھے ہیں۔
مگر جب دوسری اننگز شروع ہوئی تو بابر اعظم اور محمد رضوان نے آغاز میں ہی اپنی حکمت عملی واضح کر دی اور بات مڈل آرڈر تک پہنچنے ہی نہ دی۔
بابر اعظم نے 62 گیندوں پر اپنی دوسری ٹی ٹوئنٹی سنچری مکمل کی اور مجموعی طور پر 66 گیندوں پر 110 رنز داغے۔ دوسری طرف محمد رضوان نے 51 گیندوں پر 88 رنز بنائے۔
دونوں کا سٹرائیک ریٹ 150 سے بھی کہیں زیادہ رہا اور پاکستانی اننگز میں لگے نو چھکے اور 16 چوکے اس بات کا منھ بولتا ثبوت بنے کہ ٹیم کی سلامی جوڑی کا مسئلہ تو کبھی تھا ہی نہیں۔
فتح کے بعد صحافیوں سے گفتگو کے دوران بابر نے کہا کہ ’اچھا کریں تب بھی تنقید ہوتی ہے اور نہ کریں تب تو ویسے ہی سب تیار ہوتے ہیں۔۔۔ ہر کسی کی اپنی رائے ہے مگر ہمارا کام پرفارمنس دینا ہے
پہلے میچ میں پاکستان کی شکست کے بعد محمد رضوان سے پوچھا گیا تھا کہ سابق کھلاڑیوں کی شکایت ہے کہ اوپنرز کا سٹرائیک ریٹ اتنا اچھا نہیں اور انھیں تیز کھیلنے کی ضرورت ہے۔
رضوان سے ایک صحافی نے پوچھا کہ ’کیا مینجمنٹ نے فیصلہ کیا ہے کہ اب اوپر سے ہی تیز کھیلنا ہے تاکہ مڈل آرڈر پر دباؤ نہ آئے۔‘
اس پر رضوان کا جواب تھا کہ انھیں معلوم نہیں کون ان دونوں پر بحث کر رہا تھا۔ ’جو بھی ہم پر بحث کر رہا ہے اس کو اللہ جزائے خیر دے۔۔۔ وہ پورے پاکستان کے بارے میں سوچ رہا ہے۔‘
’اگر وہ سوچ رہے ہیں کہ میرا اور کپتان کا سٹرائیک ریٹ کم ہے تو اللہ انھیں جزائے خیر دے۔۔۔ مگر حقیقت بتاتا ہوں کہ جو بھی پاکستان کے لیے نہیں کھیلے گا وہ ذلیل ہوگا۔‘
’یہ جو بھی بات کر رہا ہے، مجھے نہیں پتا کون ہے، جو بھی اپنی ذات سے یہ سب کر رہا ہے تو اللہ پاک اسے ذلیل کرے گا۔‘
ان کا یہ بیان سوشل میڈیا پر کئی بار شیئر کیا گیا جس کے بعد پاکستانی شائقین بابر اعظم اور رضوان کی اوپنگ جوڑی کے حق میں اور مخالفت میں دلائل دیتے نظر آئے
اس دوران بعض سابق کرکٹرز کے بھی بیانات گردش کرتے دکھائی دیے۔ جیسے سابق فاسٹ بولر عاقب جاوید نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ’ہمارا مائنڈ سیٹ بن گیا ہے کہ ہم نے یہی دو اوپنرز رکھنے ہیں۔ یہ دو اوپنرز کارآمد ہیں مگر کدھر ہیں، یہ دونوں 150 یا 160 کے اندر سکور کے لیے ہے
