حزب اختلاف کے رہنما شبیندو ادھیکاری بشمول بی جے پی کے پانچ اراکین اسمبلی معطل
کولکاتا:28؍مارچ
(زین نیوز)
بیر بھوم تشدد پر پیر کو بنگال اسمبلی ایوا ن میں بی جے پی اور ٹی ایم اسی ارکان کے درمیان زبردست ہاتھا پائی ہوئی ارکان اسمبلی کی جانب سے طوفان بدتمیزی کا مظاہرہ دیکھنے میں آیا۔۔ اس معاملے میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے پانچ اراکین اسمبلی بشمول حزب اختلاف کے رہنما شبیندو ادھیکاری اور پارٹی کے چیف وہپ منوج تیگا کو مغربی بنگال کی قانون ساز اسمبلی سےمعطل کر دیا گیا۔
تفصیلات کے مطابق بنگال اسمبلی میں بی جے پی ایم ایل اے منوج تیگا اور ٹی ایم سی ایم ایل اے اسیت مجمدار کے درمیان لڑائی ہوئی۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق اسیت مجمدار جھگڑے میں زخمی ہو گئے ہیں جنہیں ہسپتال لے جایا گیا ہے۔
West Bengal | 5 BJP MLAs including Suvendu Adhikari suspended from the Assembly, until further notice, following a clash between TMC & BJP MLAs on the floor of the House over Birbhum violence.
— ANI (@ANI) March 28, 2022
مغربی بنگال قانون ساز اسمبلی میں ایم ایل اے کے درمیان اس وقت ہاتھا پائی ہوئی جب اپوزیشن نے امن و امان کے مسئلہ پر وزیر اعلیٰ کے بیان اور ریاست میں مبینہ طور پر بگڑتے امن و امان پر بحث کا مطالبہ کر رہے تھے۔ اس کے بعد معاملہ اتنا بڑھ گیا کہ بات ہاتھا پائی تک پہنچ گیا
بی جے پی نے الزام لگایا کہ پارٹی کے کم از کم 8 ممبران اسمبلی کو ٹی ایم سی ممبران اور سیکوریٹی اہلکاروں نے زخمی کر دیا۔ ٹی ایم سی کے ایک رکن اسمبلی کو ناک سے خون بہنے کےبعد اسپتال لے جایا گیا۔
مغربی بنگال قانون ساز اسمبلی کے اسپیکر نے بھارتیہ جنتا پارٹی کے پانچ ایم ایل ایز کو ناشائستہ طرز عمل کی وجہ سے 2022 کے تمام آئندہ اجلاسوں کے لیے معطل کر دیا ہے۔ ہنگامہ آرائی کے بعد، اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شبیندو ادھیکاری کی قیادت میں تقریباً 25 بی جے پی ایم ایل ایز نے اسمبلی سے واک آؤٹ کیا اور دعویٰ کیا کہ ان کی پارٹی کے کئی ایم ایل ایز پر ترنمول کانگریس کے ایم ایل ایز نے ایوان کے اندر حملہ کیا۔
Watch | Trinamool, BJP Come To Blows In Bengal Assembly https://t.co/lX37NaO1SL
(Video Credit: Amit Malviya) pic.twitter.com/rl4xwfNxy9
— NDTV (@ndtv) March 28, 2022
بیربھوم واقعہ پر مغربی بنگال اسمبلی میں ہنگامہ آرائی پر اپوزیشن لیڈر سویندو ادھیکاری نے کہا کہ ہمارا ترنمول کانگریس، ان کے غنڈوں اور پولیس کے خلاف مارچ ہے۔ اس حوالے سے اسپیکر کے پاس بھی جائیں گے۔ مرکزی حکومت کو بنگال کی صورتحال پر مداخلت کرنی چاہئے ا
نہوں نے کہا کہ ایوان کا آخری دن ہونے کی وجہ سے ہم نے ریاست کی امن و امان کی صورتحال پر بحث کا مطالبہ کیا۔ اس کے بعد، ہم نے آئینی طور پر احتجاج کیا، جس کے بعد سول ڈریس پہنے ہوئے پولیس اہلکاروں اور ٹی ایم سی کے ایم ایل ایز نے ہمارے (بی جے پی) ایم ایل ایز کو مارا پیٹا۔
