صحافیوں کی جانب سے ایصال ثواب اور دعائے مغفرت کا اہتمام
دیوبند،24؍اگست
(رضوان سلمانی)
سنیئر جرنلسٹ اور راشٹریہ سہارا اردو کے سابق مار کیٹنگ منیجر جمشید حسن کا طویل علالت کے بعد دوران علاج انتقال ہوگیا۔ان کے انتقال کی خبر سے دیوبند کے صحافتی ،ادبی وعلمی حلقے مغموم ہیں۔پریس ایسوسی ایشن دیوبند کی جانب سے جمشید حسن مرحوم کے سانحہ ارتحال پر اظہار تعزیت کرتے ہوئے ایصال ثواب اور دعائے مغفرت کی گئی۔
دیوبند کے سینئر صحافی اشرف عثمانی نے جمشید حسن کے انتقال پر صدمہ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جمشید حسن مرحوم کی صحافتی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا انہوں نے کہا کہ مرحوم جمشید حسن اردو صحافت میں ایک نگینہ کی حیثیت رکھتے تھے۔انہوں نے مرحوم کے اہل خانہ اور پسماندہ گان سے اظہار تعزیت کرتے ہوئے صبر جمیل کی دعاء کی۔
دیوبند سے ہمارا سماج کے بیوروچیف اور سینئر صحافی رضوان سلمانی نے جمشید حسن کی وفات کو اردو صحافت کا بڑا نقصان بتائے ہوئے کہا کہ جمشید مرحوم نہایت ذہین،محنتی جفا کش اور صحافت کے تئیں بڑے مخلص انسان تھے اور انہوں نے متعدد ااخبارات کے ذریعہ صحافت کی شاندار خدمات انجام دیں اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت فرمائے اور جملہ پسماندہ گان کو صبر جمیل عطا فرمائے آمین ۔
صحافی عارف عثمانی اور سمیر چودھری نے بھی جمشید حسن کی وفات کو صحافتی دینا کا عظیم خسارہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ جمشید حسن مرحوم اردو صحافتی میدان کے شہسوار اور تجربہ کار شخص تھے جنہوں نے راشٹریہ سہارا انقلاب اور سچ کی آواز اخبارات کے لئے اپنی شاندار خدمات انجام دیں اور عرصہ قبل دہلی سے ’’الحباب ‘‘اردو روز نامہ شروع کیا لیکن موصوف کی عمر نے وفا نہیں کی اور پانچ چھ ماہ علیل راہ کر اپنے رب حقیقی سے جاملے ۔
اللہ تعالیٰ انہیں جوار رحمت میں جگہ دے اور پسماند گان کو صبر جمیل عطا فرمائے آمین۔ روز نامہ اخبار مشرق کے بیوروچیف فہیم صدیقی نے جمشید حسن کے انتقال پر ملال پر رنج وغم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جمشید حسن مرحوم ایک دیانتدار صحافی تھے جنہوں نے انگریزی اخبارات سے لیکر اردو اخبارات تک کی یاد گار اور انتہائی شاندار خدمات انجام دیں۔
راشٹریہ سہارا اردو کے لئے انہوں نے بحیثیت مارکیٹنگ منیجر خدمات انجام دیں اس کے علاوہ مرحوم روز نامہ انقلاب اور سچ کی آواز سے بھی وابستہ رہے۔ان کے انتقال سے صحافتی دنیا میں غم وافسوس کا عالم ہے۔جمشید مرحوم کینسر کے مہلک مرض میں مبتلا تھے جس کے علاج کے لئے وہ گذشتہ پانچ چھ ماہ سے ممبئی کے ٹاٹا میموریل اسپتال میں زیر علاج تھے جہاں دوران علاج انہوں نے آخری سانس لی ۔اللہ تعالیٰ مرحوم کی خدمات کو قبول فرمائے۔
جوارِ رحمت میں جگہ عطا فرمائے اور جملہ پسماند گان کو صبر جمیل کی توفیق دے آمین۔اس کے علاوہ مسلم فنڈ ٹرسٹ کے مینجر سہیل صدیقی،ڈاکٹر نواز دیوبندی،وقاص ہاشمی،فائز سلیم صدیقی،ڈاکٹر انور سعید اور دیگر ادبی وعلمی شخصیات نے جمشید حسن کی وفات پر اظہار تعزیت کیا۔
