واشنگٹن ڈی سی 20؍جنوری
نمائندہ خصوصی
ڈیموکرٹک پارٹی کے رہنماجو بائیڈن نے امریکی صد ر کی حیثیت سے آج عہدہ اور راز داری کاحلف اٹھایا اسطرح وہ امریکہ کے 46؍ویں صدر بن گئے ہیں قبل ازیں کملا ہیرس نے امریکی کی پہلی نائب صدر کی حیثیت سے حلف اٹھاکر امریکہ میں ایک نئی تاریخ رقم کی۔جوبائیڈن کی تقریب حلف برداری کے لئے وسیع تر سیکورئٹی انتظامات کیے گئے تھے۔امریکہ کی فیڈرل ایجنسی نے ملک کے موجودہ حالات کو بھانتے ہوئے سیکورئٹی کے بے نظیر انتظامات کیے تھے تاکہ تقریب میں کسی قسم کی خلل اندازی اورتشدد کا کسی کو موقع نہ ملے ۔یہا ں اس امر کا تذکرہ ضروری ہوگا کہ 6؍جنوری کو کیپٹل ہل پرریپبلکن پارٹی سے تعلق رکھنے والے ٹرمپ کے حامیوں نے جس انداز میں پُر تشدد مظاہرئے کیے تھے اس کی امریکی کی تاریخ میں نظیرنہیں ملتی‘اس تشدد کے واقعا ت میں پانچ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔کیپٹل ہل قانون سازوںکی عمارت ہے جہاں قانون سازی کی جاتی ہے۔جیسا کہ ہندوستان میں پارلیمنٹ کی عمارت ہے امریکہ میں صدراتی انتخابات کے نتائج کے ساتھ ماحول درگرگوںہوگیا تھا۔جو بالآخر چنگاری کی شکل میںشروع ہوکر 6جنوری کو کیپٹل ہل پرریپبلکن پارٹی کے حامیوںکے حملہ کے ساتھ لاوا ‘بن کر پھٹ پڑا۔امکانی تشدد کے پیش نظر نا صرف وائٹ ہاوز ‘واشنگٹن ڈی سی ‘ میں چوکسی اختیار کی گئی تھی بلکہ ملک بھر میں عام سیکورئٹی انتظامات کیے گئے تھے حلف برداری کی یہ تقریب ایک ایسے وقت منعقد ہوئی جبکہ پوری دنیا کورونا 2کی لپیٹ میں ہے جس کے پیش نظر تقریب حلف برداری کے لئے قلیل تعداد میںعالمی اورقومی قائدین کومدعو کیاگیا تھا۔دوسری جانب ڈونلڈ ٹرمپ وائٹ نے ہاوزسے چھٹی لے لی۔اس سے قبل انھوں نے وائٹ ہاوز کے عملہ کے ساتھ ایک نشست کااہتمام کرتے ہوئے ہر ایک کا فرداً فرداًکا شکریہ ادا کیا جنھوںنے انکے چار سالہ دوراقتدار میں تعاون کیا تھا ۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے معیاد مکمل کرنے والے صدر نے کہاکہ انکے دور اقتدا رمیں کئی ایک کارنامے انجام دئیے گئے ہیں۔تقریب حلف برداری سے قبل کیپٹل ہل سے وائٹ ہاوز تک کے پورے علاقہ کو فیڈرل ایجنسی نے ریڈ زون میں تبدیل کیاتھا ۔جہاں اتنے سخت انتظامات تھے کہ پرندہ بھی پر نہیں مارسکتا۔نائب صدر کملا ہیرس کاتعلق ہندوستان سے ہے ڈونلڈ ٹرمپ اپنے چار سالہ دور اقتدار میں جو کچھ بھی فیصلے لیے ہیں ان کو قدامت پسندو ں کی جانب سے شدت پسندی کے نظریہ ہی سے دیکھا گیا۔ریپبلکن پارٹی کے لیڈر ڈونلڈ ٹرمپ امریکی صدراتی انتخابات کے نتائج کو ماننے سے مسلسل انکار کرتے رہے۔ صدراتی انتخابات کے نتائج کے خلاف انکے متنازعہ بیانات سے بھی یپبلکن کارکنوں کو شئے دینے کا موجب بنا۔نتائج کے خلاف ٹرمپ کا بار بار یہ کہنا کہ انکے خلاف ساز ش کی گئی ہے پارٹی کارکنوں میں انتقامی جذبہ پیدا کرنے کا موجب بنا۔امریکہ کے صدراتی انتخابات جو گذشتہ سال 3نومبر کو منعقد ہوئے تھے ڈیموکرٹک پارٹی لیڈر جو بائیڈن نے 8کروڑ سے زائد ووٹ حاصل کیے تھے۔جب کہ انکے حریف ریپبلکن پارٹی کے ڈونلڈ ٹرمپ تقریباً7کروڑ ووٹ حاصل کرسکے۔الکٹرول کالج کے حساب سے دیکھا جائے تو جو بائیڈن کو 306اور ٹرمپ کو 232ووٹ ملے۔تقریب حلف برداری کے فوری بعد جو بائیڈن کو
عالمی برداری کی جانب سے مبارکبادیوں کا سلسلہ شروع ہوگیا۔تقریب حلف برداری میں کوویڈ 19-کے پروٹوکال پر سختی سے عمل کیا گیا ۔
