اروند کیجریوال کے خلاف تضحیک آمیز مبینہ تبصرہ ۔عاپ کا احتجاج
نئی دہلی :29؍مارچ
(اے ایم این ایس)
ہندوستان کی دارالحکومت دہلی کی سڑکوں پر عام آدمی پارٹی (اے اے پی) اور بھارتیہ جنتا پارٹی (پارٹی) کے کارکن آپس میں لڑجھگڑ پڑے۔ ان دونوں سیاسی جماعتوں کے کارکنوں کے درمیان آپسی تصادم کا یہ واقعہ پیر کو پیش آیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال نے حال ہی میں ریلیز ہونے والی فلم ‘دی کشمیر فائلز’ پر کشمیری پنڈتوں کے اخراج اور 1990 کی دہائی میں ہونے والی نسل کشی پر تبصرہ کیا تھا۔اور اروند کیجریوال نے فلم ‘دی کشمیر فائلز’ کو ‘جھوٹ’ قرار دیا تھا
اس تبصرہ کے خلاف بی جے پی کارکنان دہلی کی سڑکوں پر احتجاج کر رہے تھے۔
اس دوران بی جے پی کے ریاستی صدر آدیش گپتا کی جانب سے اروند کیجریوال کے خلاف دئیےگئے تضحیک آمیز مبینہ تبصرہ کے خلاف آپ کے کارکنان دہلی اسمبلی میں بھی احتجاج کر رہے تھے۔ مظاہرے کے دوران دونوں جماعتوں کے کارکنان آمنے سامنے آگئے۔ ان کی تصادم کی ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہے۔
#WATCH | AAP and BJP workers came face-to-face yesterday, March 28, when AAP was protesting against the Delhi BJP chief's reported comment on CM Arvind Kejriwal, while BJP was protesting against the remark of Arvind Kejriwal on 'The Kashmir Files' movie, in Delhi. pic.twitter.com/9Raks8aAzL
— ANI (@ANI) March 29, 2022
سی طرح کے مناظر پیر کو دہلی اسمبلی میں دیکھنے کو ملے جس کے بعد دہلی بی جے پی کے صدر آدیش کمار گپتا کے خلاف مبینہ طور پر سی ایم کیجریوال کے خلاف توہین آمیز ریمارکس کرنے پر مذمتی تحریک منظور کی گئی۔ گپتا کے ریمارکس پر اے اے پی کے زبردست احتجاج کے درمیان بی جے پی کے تین ایم ایل ایز – انیل باجپائی، جتیندر مہاجن اور اجے مہاور کو بھی مختصر مدت کے لیے معطل کر دیا گیا۔بی جے پی کے وجیندر گپتا کو ایوان میں تعینات مارشل نے نکال دیا، جب کہ اپوزیشن کے باقی ارکان نے احتجاجاً ایوان سے واک آؤٹ کیا۔

خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے ٹویٹ کے مطابق، کل 28 مارچ کو آپ اور بی جے پی کے کارکن اس وقت آمنے سامنے آگئے جب آپ کے کارکن دہلی بی جے پی کے سربراہ کے وزیر اعلی اروند کیجریوال کے بارے میں مبینہ ریمارکس کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔ اسی دوران بی جے پی کے کارکن اروند کیجریوال کی فلم ’دی کشمیر فائلز‘ پر تبصرہ کی مخالفت کر رہے تھے۔ مظاہرین ایک دوسرے کے خلاف نعرے بازی کرتے اور پلے کارڈز اٹھاتے نظر آئے۔
