دیوبند میں نماز جمعہ کی مکمل امن وامان کے ساتھ ادا ئیگی

تازہ خبر قومی

مساجد میں نماز جمعہ کے بعد باران رحمت اورملک میں امن وامان کیلئے دعائیں کی گئیں

دیوبند، 24؍ جون
(رضوان سلمانی)
توہین رسالت کے ارتکاب کے بعد پورے ملک میں ہونے والے احتجاج کے بعد سے انتظامیہ پوری طرح الرٹ ہے اور 10؍جون کے بعد سے اب تک حالات پر سخت نگاہ رکھے ہوئے ہے ۔خصوصی طور پر جمعہ کے روز جمعہ کی نماز کے لئے ہونے والے بڑے اجتماعات کے مد نظر حالات کو پر امن رکھنے کے لئے جہاں انتظامیہ کی جانب سے اعلان کئے جارہے ہیں وہیں احتیاط کے طور پر پولیس کی نفری بھی تعینات کی جارہی ہے ۔ 24؍جون کو بھی جمعہ ہونے کیوجہ سے دیوبندکی انتظامیہ نے شہر کی ان تمام مساجد کے باہر پولیس کو تعینات رکھا جن مساجد میں جمعہ کی نماز ادا کی جاتی ہے ۔

جمعہ کی نماز کے بعد پورے شہر میں مکمل طور سے امن وامان برقرار رہا جس کیوجہ سے انتظامیہ نے بھی راحت کی سانس لی ۔واضح ہو کہ توہین رسالت کے واقع کے بعد گذشتہ 10؍جون کو جگہ جگہ احتجاجی مظاہرے کئے گئے تھے اس وقت پولیس نے لاٹھی چارج کرکے اور چند نوجوانوں کو گرفتار کرکے حالات کو قابو میں کیا تھا ۔اس کے بعد سے انتظامیہ پوری طرح الرٹ ہے تاکہ کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہ آئے اسی لئے اس جمعہ کو بھی انتظامیہ پوری طرح چاک وچوبند رہی۔

جمعہ کے روز اے ڈی ایم ای ڈاکٹر ارچنا دیویدی اور ایس پی دیہات نے کوتوالی دیوبند پہنچ کر مقامی افسران کے ساتھ میٹنگ کی تھی جس کے بعد دیوبند کی مرکزی جامعہ مسجد اور مسجد رشید کے علاوہ دیگر مساجد و شہر کے چوراہوں پر پولیس تعینات رکھی گئی ۔دیوبند کے ایس ڈی ایم دیپک کمار ڈ،سی او رام کرن سنگھ اور کوتوالی انچارج پربھاکر کینتورا نے شہر کا دورہ کرکے حالات کا جائزہ لیا ۔جمعہ کی نماز کے بعدپورے ملک میں امن وامان کی دعائیں کی گئیں ۔بعد ازاں تمام نماز ی نماز سے فارغ ہونے کے بعد پرامن طریقہ سے اپنے گھروں یا تجارتی مراکز پر چلے گئے ۔مرکزی جامعہ مسجد اور مسجدرشید کے باہر موجود پولیس فورس کے ساتھ مقامی لوگوں نے مکمل تعاون کیا ۔