رام کی جائے پیدائش پر الجھن ہنوز باقی۔ تصد یق ضروری۔ٹی آریس لیڈر کا ریمارک

بین الریاستی تازہ خبر

 مستقبل میں جئے بھیم۔ جئے شری رام کے زیر عنوان ملک میں جنگ

کریم نگر 25؍جنوری

زین نیوز

  یہ کوئی نہیں جانتا کہ ایودھیا کے رام اصل میں کہاں پیدا ہوئے تھے کیونکہ حالیہ دنوں میں نیپال کے وزیراعظم نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ رام ان کے ملک میں پیدا ہوئے ہیں۔ انہوں نے یہ جاننے کی کوشش کی واقعی رام ہمارے ملک میں پیدا ہوئے ہیں یا پھر نیپال میں یا نہیں تو جرمنی میں اس پر تصدیق ہونی چاہئےیہہ ریمارکس سابق چیرمین ایس سی کارپوریشن مسٹر پی روی نے کریم نگر میں منعقدہ دستور بچائو اجلاس میں کئے گئے ان کے اس ریمارکس پر ایک بار پھر ہلچل پیدا ہوگئی ہے انھوں نے جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی طرف سے منعقدہ اجلاس کو مخاطب کرتے ہوئے ریمارک کیا کہاکہ رام مندر کی تعمیر کے نام پر گذشتہ ہفتہ سے چندوں کو جمع کرنے کا کاروبارشروع ہوگیا ہے۔ بی جے پی قائدین ایودھیا کے رام کے لئے چندہ دینے کی مانگ کرتے ہوئے عوام کو دھمکیاں دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مستقبل میں جئے بھیم۔ جئے شری رام کے زیر عنوان ملک میں ایک جنگ ہوگی۔ مسٹر روی نے کہاکہ یہ کوئی نہیں جانتا کہ ایودھیا کے رام اصل میں کہاں پیدا ہوئے تھے کیونکہ حالیہ دنوں میں نیپال کے وزیراعظم نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ رام ان کے ملک میں پیدا ہوئے ہیں۔ انہوں نے یہ جاننے کی کوشش کی واقعی رام ہمارے ملک میں پیدا ہوئے ہیں یا پھر نیپال میں یا نہیں تو جرمنی میں اس پر تصدیق ہونی چاہئے۔ مسٹر روی نے  صدر ریاستی بی جے پی بنڈی سنجے عوامی مسائل پر بات کرنے کے بجائے ہر آئے دن مندر‘ ہندو اور مذہب کی باتیں کررہے ہیں۔  انھوں نے  کہا کہ اگر بی جے پی والوں کی نظر میں دلت ہندو ہیں توپھر انہیں منادر میںآنے سے کیوں منع کیا جاتا ہے۔انھوں نے ‘ دلتوں کو مندر میں داخل ہونے سے منع کرنے کا جواز طلب کیا۔