رمضان المبارک میں مساجد کے مؤذنین ان کی خدمات اورسماج

تازہ خبر مضامین

رشحات قلم :عبدالقیوم شاکر القاسمی
جنرل سکریٹری جمعیۃ علماء
ضلع نظام آباد تلنگانہ
9505057866

رمضان المبارک کی آمد کے پیش نظر اس ماہ مقدس کے آنے سے پہلے ہی ہر مسجد میں انتظامی اعتبار سے بہتر سے بہتر صفای ستھرای اور تمام ضروری کاموں کی تکمیل کامشورہ ہوتا ہے اور بڑی حد تک دیگر ایام کی بنسبت اچھے اقدامات وانتظامات روبہ عمل لاے جاتے ہیں تاکہ کثیر تعداد میں شریک ہونے والے مصلیان مسجدک و ہر قسم کی سہولت وراحت بہم پہونچای جائے بات بالکل درست اور پتہ کی ہے اور ہونا بھی چاہیے بڑی حد تک اس پر عمل آوری بھی ہوتی ہے

*لیکن*
ان تمام امور ضروریہ کی انجام دہی اور تکمیل کے پیچھے سب سے زیادہ خدمت اگر کسی کی ہوتی ہے اور روزہ کی حالت میں اپنی تمام تر ضروریات کو بالاے طاق رکھ کر صبح وشام اس کی فکر کرنے والا کوی فرد ہوتا ہے تو وہ مسجد کا مؤذن اورخادم ہوتا ہے
اور اس حقیقت سے شاید ہی کوی کور چشم انسان ہی انکار کرے گا ورنہ تو سب لوگ اس حقیقت حال سے آگاہ وباخبر ہوتے ہیں
*مگر افسوس*
اس سب کے باوجود مساجد کے مؤذنین کے ساتھ پھر بھی ناانصافی ہی برتی اور دیکھی جاتی ہے یہ کسی ایک مسجد کا مسئلہ نہیں بلکہ ہمارے سماج اور معاشرہ کی اکثر وبیشتر مساجد میں یہی دیکھا اور سنا گیا ہے
عقلمندی اورانصاف  کا تقاضہ تو یہ تھا کہ ان خدام مساجد اورمؤذنین کے ساتھ اس ماہ مبارک کی مناسبت  اور کام کی زیادتی کے حوالہ سے کچھ زیادہ اورمعقول مشاہرہ ان کی خدمت میں پیش کیاجاتا اورہر ماہ کے مشاہرہ وبونس کے علاوہ بھی حق الخدمت کے طور پر ان کی خدمت کی جاتی تو کیاہی اچھا ہوتا
ائمہ کرام وحفاظ عظام  کو تو الحمدللہ ابھی قدر کی نگاہوں سے دیکھاجاتا ہے اور رمضان المبارک میں ان کی زیادہ محنت کو مدنظر رکھ کر کچھ اضافی خدمت بھی کی جاتی ہے اوران کی محنت کو سراہاجاتاہے ۔۔۔

مگر طبقہ مؤذنین اور خدمت گذاران مساجد کو اس موقع پر کام زیادہ بھی لیا جانا اور پھر ان کی خدمت سے اعراض وکنارہ کشی اختیار کرنا ایک عام مزاج اور رواج چلا ہو اہے جس کو بدلنے کی سخت ضرورت ہے
حالانکہ احادیث شریفہ سے یہ بات ثابت ومسلم ہے کہ اذان دینے کا مشغلہ انتہای اہم ترین مشغلہ ہے مؤذن کو امین کہاگیا اورمؤذن کو باری تعالی اپنے دامن عفو ودرگذر میں جگہ نصیب فرماتے ہیں

حضرت عمر رضہ نے تو یہاں تک فرمادیا تھا کہ اگر مجھے خلافت کی مصروفیت نہ ہوتی تو میں پنج وقتہ نمازوں کے لےء اذان دیا کرتا
ہر مسلمان کو یہ بات اچھی طرح جان لینی چاہیے کہ اذان اسلام کا شعار ہے اس کی اہمیت وعظمت مسلم ہے اور مؤذن کا بھی مقام بہت اونچا اوربلند بتایا گیا ہے روے زمین کی جتنی چیزیں مؤذن کی آواز کو سنتی ہیں وہ سب قیامت کے دن اس کی گواہی دیں گی اور حدیث پاک میں یہ بھی وارد ہواہیکہ جہاں تک مؤذن کی آواز جاتی ہے وہاں تک کی تمام چیزیں اس کی مغفرت کے لےء دعاء کرتی ہیں مؤذن کے مقام بلند کو بتاتے ہوے حدیث میں کہا گیا کہ مؤذن کی گردن تمام مخلوقات میں بلند ہوں گی

اسی پر بس نہیں بلکہ اگر کوی بندہ مؤمن سات سال تک ثواب کی امید رکھتے ہوے اذان دیتا رہا تو اس کے لےء جہنم سے خلاصی کاپروانہ لکھ دیا جاتا ہے ایک اورحدیث میں بتلایا گیا کہ قیامت کے روز تین قسم کے آدمی مشک کے ٹیلوں پر ہوں گے جن میں  سے ایک وہ موذن ہے جو پانچوں وقت کی اذان دیتا ہوں
اللہ کے نبی علیہ الصلاۃ والسلام نے مؤذن کے لےء بطور خاص مغفرت کی دعاء فرمائی ہے

فرمایاگیا کہ اگر لوگوں کو پہلی صف میں نماز پڑھنے اوراذان دینے کی فضیلت معلوم ہوجاے تو وہ اس فضیلت کو حاصل کرنے کے لےء آپس میں لڑیں گے اور پھر قرعہ اندازی کرکے اس سعادت کو حاصل کریں گے

*بہرکیف*
ان احادیث  کوپیش کرنے کامقصد بس اتنا ہیکہ ہمارے سماج اورمعاشرہ میں مؤذنین کے ساتھ کےء جانے والے سلوک اور رویہ کی اصلاح ہوجاے اور ان کو ان کا مقام دیا جاے ان کے ساتھ جو رویہ ہم مسلمانوں کاعموما اوررمضان المبارک میں خصوصا دیکھنے کوملتاہے وہ انتہای ذلت آمیز اورحقارت پر مبنی ہوتا ہے مسلمانوں اور مساجد کمیٹی کے ذمہ داران کا فرض بنتاہیکہ ان کے ساتھ حسن سلوک اور بہتر رویہ رکھا جاے
یہ اور بات ہیکہ وہ بحیثیت ملازم مسجد کاکام کاج انجام دیتا ہے مگر میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ہم اس ملازمت والی سونچ کوبدلیں اور اپنی نمازوں کی حفاظت کا اس کو  امین سمجھیں اللہ کے گھر کا خادم سمجھیں قوم وملت کاایک اہم ذمہ دار کی حیثیت سے دیکھیں

جو بلاشبہ پانچوں وقت اپنی  خواہشات اور ضروریات زندگی کا خیال کےء بغیر وقت کی پابندی کے ساتھ ہمیں نمازوں کے اوقات کا اعلان کرکے پتہ دیتا اور یاددہانی کراتاہے

بطورخاص رمضان المبارک میں مساجد کی صفای ستھرای ترتیب وتزئین  وقت فجر سء بہت پہلے آکر اوقات سحر وافطار سے پہلے موجودرہنا رمضان المبارک کے موقع پر ماہانہ چندہ وصولی کے علاوہ ماہ صیام کی خصوصی اعانتیں دوکان دوکان اورمکان مکان جاکر وصول کرنااور اس کے علاوہ دیگر اضافی خدمات کرکے مصلیان مسجد کو سہولیات فراہم کرتا ہے روزہ کی حالت میں بھی اپنی ذمہ داری کو ترجیح دیتے ہوے موسم اور نیند کی پرواہ کئے بغیر وقت پر حاضر رہتا ہے
امام مسجد کامرتبہ گرچیکہ بڑا ہے اس کا رتبہ احادیث نبویہ کی روشنی میں اعلی وافضل سہی  مگر کام اور خدمت کے حوالہ سے دیکھا جاے تو سب سے زیادہ کام مؤذن ہی کے سر ہوتا ہے یہاں تک کہ اگرکسی وجہ سے امام صاحب کی حاضری نہ ہوسکی تو اب دوہری ذمہ داری اداکرتے ہوے وہ امین کے ساتھ ساتھ ہماری نمازوں کا ضامن بھی بن جاتا ہے

اس لئے ائمہ کرام کے ساتھ ساتھ مساجد کے مؤذنین کو بھی وہ اعلی مقام دیں ان کی مالی خدمت کریں تاکہ اللہ راضی اور خوش ہوجاے اوریہ کام کوی  عام مصلی بھی بآسانی کرسکتا ہوں تو کریں
لیکن احباب کمیٹی اس جانب خصوصی توجہ دیں اور حسب مقدور ان کی خدمت کو اپنی سعادت سمجھیں
اللہ پاک توفیق فہم وعمل نصیب فرماے
آمین بجاہ سید المرسلین