🖋️ مفتی محمد نوید سیف حسامی ایڈووکیٹ
کریم نگر، تلنگانہ
: یکم جنوری ۲۰۲۲
1) یہ قانون جسے
The Prohibition of Child Marriage (Amendment) Bill, 2021,
کا نام دیا گیا ہے ۲۱ دسمبر ۲۰۲۱ کو پارلیمنٹ میں پیش کیا گیا تھا، لوک سبھا میں اپوزیشن کے احتجاج کی بنا پر منظوری نہیں مل سکی اور اسے اب مزید جانچ کے لئے لوک سبھا کی جانب سے پارلیمنٹری پینل کے سپرد کیا گیا ہے جہاں سے یہ دوبارہ لوک سبھا آئے گا اور وہاں سے راجیہ سبھا پھر صدر جمہوریہ کی دستخط کے ساتھ ملک بھر میں نافذ ہوگا…
2) اصل قانون 2006 میں نافذ ہوا تھا جس میں کُل اکیس شقیں تھیں، انہی میں سے کچھ شقوں میں تبدیلی کرکے اسے پارلیمنٹ میں پیش کیا گیا ہے…
3) 1978 میں حکومت نے لڑکیوں کی شادی کی عمر پندرہ سے اٹھارہ اور لڑکوں کی شادی کی عمر اٹھارہ سے اکیس کی تھی، ابھی صرف لڑکیوں کی قابل نکاح عمر میں اضافہ کیا گیا ہے، یعنی لڑکوں اور لڑکیوں دونوں کی قابل نکاح عمر بالفاظِ دیگر بلوغت کی عمر اکیس برس طئے کی گئی ہے…
4) دلچسپ بات یہ کہ یہ قانون صدر جمہوریہ سے منظوری ملنے کی تاریخ سے دو سال بعد نافذ ہوگا جسے Grace Period کہا جاتا ہے، یعنی یہ معاملہ ایسا ہے جو اچانک تبدیل نہیں کیا جاسکتا، مثلا کچھ رشتے طئے ہوئے ہوتے ہیں کچھ کی شادی کی تاریخ اور اس سے متعلقہ معاملات فائنل ہوچکے ہوتے ہیں وغیرہ وغیرہ، اس لئے اس میں دو سال کی مدت کی سہولت دی جائے گی بعد ازاں یہ قانون لاگو ہوگا، یہ بات اس ترمیم شدہ ایکٹ کی شق نمبر ایک کی ذیلی شق نمبر دو میں کہی گئی ہے…
This section and section 2, clause (ii) of section 3, section 5 and the amendment to the enactment mentioned against serial number 5 of the Schedule shall come into force on the date this Act receives the assent of the President; and the other provisions shall come into force on the date of completion of two years from the date of assent.
مثلا اگر جنوری 2022 کی پندرہ تاریخ کو صدر جمہوریہ کی دستخط ثبت ہوجائے تب بھی اس قانون کا نفاذ پندرہ جنوری 2024 سے ہوگا، یعنی ان دو برسوں میں اگر اٹھارہ سے اکیس سال کے درمیان والی لڑکی کا نکاح کروانا چاہیں تو بلا جھجک کروا سکتے ہیں، واضح رہے یہ یہ دو سال صدر جمہوریہ سے منظوری ملنے کی تاریخ سے شروع ہوں گے اور ابھی یہ بل پینل کے پاس ہی ہے…
5) یہ قانون تمام مذاہب کے ماننے والوں پر یکساں لاگو ہوگا یعنی اس میں کسی پرسنل لا کا لحاظ نہیں کیا جائے گا…
6) پرانے قانون کے مطابق جو 2006 میں نافذ ہوا تھا کسی بھی نابالغ کو اپنے بلوغت سے پہلے ہونے والے نکاح پر اعتراض کی گنجائش بلوغت کے دو سال بعد تک تھی، اب اسے بڑھا کر پانچ سال کردیا گیا ہے، یعنی کسی لڑکی کا نکاح اس قانون کے نفاذ کے بعد بیس سال کی عمر میں ہو تو وہ اکیس برس کی ہونے کے بعد مزید پانچ سال تک اپنے نکاح پر مجسٹریٹ کے روبرو شکایت کا حق رکھے گی…
7) پرانے قانون میں قانونا نابالغ سے شادی کرنے یا شادی کروانے یا ایسی شادیوں کو فروغ دینے والے افراد یا تنظیموں کو زیادہ سے زیادہ دو سال کی سزا اور ایک لاکھ کا جرمانہ لگ سکتا ہے، نئے قانون میں اسی کو برقرار رکھا گیا ہے…
مزید تفصیلات کے لئے
مفتی محمد نوید سیف حسامی ایڈووکیٹ
9966870275
muftinaveedknr@gmail.com
