دیوبند، 23؍ ستمبر
(رضوان سلمانی) صوبہ بہار کی سرزمین گیا سے تعلق رکھنے والی مشہور ومعروف شاعر مرغوب اثر فاطمی (سابق ڈی ایس پی ) کے اعزاز میں محفل مشاعرہ اور نیاز نذر فاطمی کی کتاب انبساط (شعری مجموعہ) اور مشہور شاعر نصر عالم نصر کی کتاب غم آبدار (شعری مجموعہ) کا ضیائے حق فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام مدرسہ ضیاء العلوم البا کالونی پھلواری شریف پٹنہ میں عمل میں آئی۔
اس تقریب کا اہتمام محمد ضیاء العظیم (ٹرسٹی ضیائے حق فاؤنڈیشن) اور ان کی ٹیم نے کیا۔ واضح رہے کہ ضیائے حق فاؤنڈیشن وہ تنظیم ہے جو سماجی، فلاحی کاموں کے ساتھ ساتھ تعلیمی کاموں میں بھی پیش پیش رہتی ہے، اس کے زیر اہتمام شہر پٹنہ پھلواری شریف میں ایک ادارہ مدرسہ ضیاء العلوم کے نام سے چل رہا ہے، جہاں بچے بچیاں اپنی علمی پیاس بجھا رہے ہیں۔
پروگرام کی شروعات میں مرغوب اثر فاطمی کو ضیائے حق فاؤنڈیشن کی جانب سے ان کے اعزاز کے طور پر شال پیش کیا، پھر کتاب رونمائی کی رسم ادا کی گئی، کتاب انبساط (شعری مجموعہ) یہ نیاز نذر فاطمی کی دوسری شعری مجموعہ ہے جو 2022 میں شائع ہوئی ہے، جبکہ اس سے قبل ایک شعری مجموعہ ممکنات کے نام سے 2018 میں شائع ہو چکا ہے۔ بعد ازاں ایک مشاعرہ کا انعقاد کیا گیا ۔
مشاعرہ کی نظامت ڈاکٹر نصر عالم نصر نے کی، جبکہ صدارت کا فریضہ نیاز نذر فاطمی نے انجام دیا۔ مشاعرہ میں پیش کئے گئے شعراء کے کلام پیش خدمت ہیں۔
خدائی عشق والوں کو بڑا انعام دیتی ہے ٭ سبزہء صبح دیتی ہے، گلابی شام دیتی ہے نیاز نذر فاطمی
آفاق سے کشادہ ہے کوزہ دماغ کا ٭ ہ آسماں کیا ہے، کرشمہ دماغ کا مرغوب اثر فاطمی
حسد کی آگ ہے ہر سو جلن زیادہ ہے ٭ اسی لئے تو یہاں پر گھٹن زیادہ ہے سلیم شوق پورنوی
مانا کہ میری بات بہت تلخ لگی ہے٭ جو بات حقیقت تھی وہی میں نے کہی ہے سلطان احمد ساحل
صبر کرنے کا یہ مطلب نہیں کمزور ہیں ہم٭ہاتھ باقی ہے ابھی تیغ اٹھانے والا، ڈاکٹر نصر عالم نصر
سسکیوں کے لمحوں میں قہقہے لگاتا ہوں ٭ قہقہے لگا کے ہی اپنا دل جلاتا ہوں، محمد ضیاء العظیم
آخر میں مہمان خصوصی مرغوب اثر فاطمی نے پروگرام کے حوالے سے اپنے تأثرات کا اظہار کیا،
انہوں نے کہا کہ میں ضیائے حق فاؤنڈیشن کی سرگرمیوں سے بخوبی واقف ہوں، یہ تنظیم اپنے محاذ پر بھر پور کارہائے نمایاں انجام دے رہی ہے۔ ضیائے حق فاؤنڈیشن کے ٹرسٹی محمد ضیاء العظیم نے تمام مہمانان کا شکریہ ادا کیا،
پھر صدر محترم نیاز نذر فاطمی کی اجازت سے محفل کے اختتام کا اعلان ہوا،اس پروگرام میں مدرسہ ضیاء العلوم کے طلبہ سمیت پھلواری شریف کی معزز شخصیات شامل رہیں، خصوصاً تنویر ملک، اسفر، فاروق اعظم وغیرہ ۔
اس پروگرام کو پایۂ تکمیل تک پہنچانے میں خصوصی طور پر ضیائے حق فاؤنڈیشن کی چیئرپرسن واسسٹنٹ پروفیسر شعبہ اردو سمستی پور کالج (متھلا یونیورسٹی) ڈاکٹر صالحہ صدیقی کا نام مذکور ہے، جبکہ عمومی طور پر فاطمہ خان، زیب النسائ، شمیمہ بانو، فقیہہ روشن، قاری ابوالحسن، مفتی نورالعظیم، حافظ ثناء العظیم کا نام شامل ہے۔
