دیوبند، 26؍ فروری
(رضوان سلمانی)
ادارہ خدمت خلق کے چیئرمین مفتی وقاص ہاشمی نے کہا ہے کہ آج ہم اللہ تبارک وتعالیٰ کو بھولنے کی وجہ سے اپنے آپ کو بھول گئے ہیں ، معاشرے میں جو تبدیلیاں ہورہی ہیں اسے دیکھ کر احساس ہوتاہے کہ ہمارے اعمال ایسے ہیں کہ اللہ تبارک وتعالیٰ ہماری حالت کسی طرح نہیں بدل سکتا۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ آج ایمان کے خطرے ہمارے گھروں تک پہنچ گئے ہیں۔
انہوںنے کہاکہ مسلمان اپنے بچوں کی دینی تعلیم وتربیت کی فکر کریں اور اپنی اور اپنی نسلوں کے دین وایمان کے تحفظ کے لئے جدوجہد کریں ۔ انہوں نے کہا کہ کردار کی عظمت اور اخلاقی بلندیوں کے حصول کے لئے قدم بہ قدم اور زندگی کے ہر موڑ پر اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کو اور اسوۂ رسول کو پیش نظر رکھنا ہوگا۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کو قلب ودماغ میں پوری طرح رچانا ، بسانا ہوگا جو ایمان کی بنیاد ہے۔ مفتی وقاص ہاشمی نے کہا کہ حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم سے صحابہ کرام کا دل سرشار تھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کاایک اشارہ ان کی زندگیوںمیں انقلاب لانے کے لئے کافی تھا، ان کی ساری چاہتیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک اشارے کے آگے قربان تھیں۔
اس لئے اگر ہمیں دنیا وآخرت میں سرخرو ہونا ہے تو ہمیں حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے راستے پر چلنا ہوگا اور اسی میں ہماری کامیابی وکامرانی ہے۔ مفتی وقاص ہاشمی نے مزید کہا کہ اس میں کوئی شک وشبہ نہیں ہے کہ اسلامی معاشرہ انسانیت کے ہر پہلو میں خواہ وہ معاشی ہو یا معاشرتی، سیاسی ہو یا اخلاقی، تعلیمی ہو یا تہذیبی مکمل اعتدال وتوازن پر بہت زیادہ زور دیتا ہے۔
مفتی وقاص ہاشمی نے اصلاح معاشرہ پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اخلاق ومعاملات کے اثرات معاشرہ پر بہت جلد مرتب ہوتے ہیں ، صحت مند معاشرہ کے لئے ہمیں دینی تعلیم کی روشنی میں حکمت ومصلحت کے ساتھ فاسد امور سے اپنے آپ کو اور لوگوں کو باز رکھنا ہے ، بصورت دیگر غیراسلامی اخلاق وکردار کے نتائج ہمارے سامنے آتے رہیں گے۔
انہوں نے کہا کہ کسی بھی ملت کا نوجوان اس کی ریڑھ کی ہڈی ہوتا ہے ، یہ نوجوان نسل ملت کے مستقبل پر اثر انداز ہوتی ہے اور ملت نوجوانوں پر منحصر ہوتی ہے۔ اس لئے آج ہم سب کی ذمہ داری ہے معاشرہ میں پھیلی ہوئی تمام برائیوں پر توجہ دینی چاہئے ورنہ مستقبل میں ہمیں برے نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔ مفتی وقاص ہاشمی نے تعلیم پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ دینی اور عصری تعلیم دونوں ضروری ہیں ، علم انسان کی زینت ہے اور جہالت زندوں کی موت ہے۔
اس لئے تعلیم ہماری مذہبی اور سماجی زندگی کا رہنما اور ہادی ہے۔ لہٰذا تعلیم سے نظراندازی بالکل درست نہیںہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ مدارس اور علماء ہی ہماری دینی اور دنیوی حالت کو سدھارنے کا ذریعہ ہیں۔ اس لئے ان کا اکرام واحترام بہت ضروری ہے
