قتل کے ملزم بی جے پی لیڈر کے بیٹے کی گرفتاری کے بعدریسورٹ پر چلا بلڈوزر

تازہ خبر جرائم حادثات قومی
ریزورٹ بدکاری کا مرکز تھا۔ وزیر اعلیٰ پشکر سنگھ دھامی کے حکم پرکارروائی
نئی دہلی :۔24؍ستمبر
(زیڈ این ایم ایس)
اتراکھنڈ کے پوڑی گڑھوال ضلع میں، 19 سالہ انکیتا بھنڈاری قتل کیس کے ملزم بی جے پی لیڈر کے بیٹے کو گرفتار کرنے کے بعد اس کے ریزورٹ کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ وزیر اعلیٰ پشکر سنگھ دھامی کے حکم پر جمعہ کی رات ریسورٹ پر بلڈوزر چلا دیا گیا۔
وہیں میڈیا رپورٹس کے مطابق انکیتا کی لاش چیلا پاور ہاؤس کے قریب ایک نہر سے برآمد ہوئی ہے۔ ملزم پلکیت کا ٹھکانہ یہاں سے قریب ہی ہے۔ ایس ڈی آر ایف کے ایک عہدیدارنے بتایا کہ لاش ملنے کے بعد انکیتا کے اہل خانہ کو بلایا گیا۔ انہوں نے لاش کی شناخت کی، جس کے بعد لاش کو رشی کیش ایمس لے جایا گیا ہے۔
بی جے پی لیڈر اور سابق ریاستی وزیر ونود آریہ کے بیٹے پلکت آریہ اور ان کے دو ساتھیوں انکت عرف پلکٹ گپتا اور سوربھ بھاسکر پر الزام ہے کہ انہوں نے اسی ریزورٹ کی ریسپشنسٹ انکیتا کو ایک پہاڑی سے نیچے گنگا میں دھکیل دیا۔ یہ ریسورٹ پلکت آریہ کا ہے۔ معاملہ سامنے آنے کے بعد جمعہ کو پولیس نے ریزورٹ کو سیل کر دیا۔ اسی دوران خواتین نے پولیس وین کو روک کر ملزمان کی پٹائی کی۔ مقامی لوگوں نے پلکت آریہ کے ریسورٹ میں بھی توڑ پھوڑ کی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق 19 سالہ انکیتا 18 سے 19 ستمبر تک لاپتہ تھی۔ 19 ستمبر کی صبح انکیتا اپنے کمرے میں نظر نہیں آئیں۔ اس کے والد ریسارٹ پہنچے اور عملے سے پوچھ گچھ کی۔ بیٹی کا سراغ نہ لگنے پر گمشدگی کی رپورٹ درج کرائی گئی۔ لاپتہ بیٹی کی تلا ش کے لیے سوشل میڈیا پر مہم جاری تھی۔
ڈی جی پی اشوک کمار نے کہاکہ ریونیو پولیس میں گمشدگی کی شکایت درج کی گئی تھی، جسے گزشتہ روز ہی ریگولر پولیس کو منتقل کر دیا گیا تھا۔ لکشمن جھولا پولیس نے 24 گھنٹے میں مرکزی ملزم پلکت آریہ سمیت تین ملزمین کو گرفتار کر لیا۔
پوچھ گچھ کے دوران پلکت آریہ نے پولیس کو بتایا کہ ریسپشنسٹ انکیتا بھنڈاری ریسورٹ میں الگ کمرے میں رہتی تھیں۔ کچھ دنوں سے وہ ذہنی دباؤ سے گزر رہی تھی۔ اس کی وجہ سے 18 ستمبر کو انہیں رشی کیش ٹور کے لیے لے جایا گیا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ رات گئے سب وہاں سے واپس آئے۔
اس کے بعد سب ریسورٹ میں بنے مختلف کمروں میں سونے چلے گئے۔ لیکن، 19 ستمبر کی صبح، انکیتا اپنے کمرے سے غائب تھی۔ پولیس کی تفتیش میں یہ کہانی جھوٹی نکلی۔
پولیس نے پہلے ریسارٹ کے عملے سے پوچھ گچھ کی۔ انہوں نے بتایا کہ انکیتا رشی کیش جاتے وقت ان لوگوں کے ساتھ تھیں، لیکن واپس نہیں آئیں۔ اسی دوران رشی کیش جاتے ہوئے پولیس نے راستے میں لگے سی سی ٹی وی بھی چیک کئے۔ دیکھا گیا کہ وہاں سے چار لوگ جا رہے ہیں لیکن وہاں سے تین لوگ آرہے ہیں۔ اس کے بعد پولیس نے تینوں سے سختی سے پوچھ گچھ کی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ملزمان نے پولیس کو بتایا کہ وہ تینوں انکیتا کے ساتھ بیراج پر آئے تھے۔ یہاں سب نے شراب پی۔ اس کے بعد انکیتا دھمکیاں دینا شروع کر دیتی ہے کہ وہ سب کو بتا دے گی کہ پلکت اس پر ریزورٹ کے صارفین کے ساتھ جسمانی تعلقات بنانے کے لیے دباؤ ڈالتا ہے۔
اسی دوران انکیتا نے پلکیت کا موبائل پھینک دیا اور دونوں کے درمیان لڑائی شروع ہوگئی۔ اس کے بعد تینوں نے غصے سے انکیتا کو گنگا میں دھکیل دیا اور تینوں واپس ریسارٹ میں چلے گئے۔