قطب مینار کامپلکس سے بھگوان گنیش کی دو مورتیوں کو ہٹایا جاسکتا

تازہ خبر قومی

نیشنل میوزیم میں منتقل کرنے نیشنل مونومنٹس اتھارٹی کی ہدایت
نئی دہلی: 8؍اپریل
(اے ایم این ایس)
ہندوستان کے سیاحتی مقامات میں سے ایک دہلی کے قطب مینار کامپلکس سے بھگوان گنیش کی دو مورتیوں کو ہٹایا جا سکتا ہے۔ نیشنل مونومنٹس اتھارٹی (این ایم اے) نے آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا (اے ایس آئی) کو خط لکھا ہے کہ بھگوان گنیش کی ان دونوں مورتیوں کو ایک قابل احترام جگہ پر رکھا جائے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق این ایم اے نے ہندوستان کے مشہور سیاحتی مقام قطب مینار کمپلیکس میں ان دونوں بتوں کو رکھنے پر بھی اعتراض ظاہر کیا ہے۔

انگریزی اخبار انڈین ایکسپریس کی ایک رپورٹ کے مطابق مرکزی حکومت کے ادارے نیشنل مونومینٹس اتھارٹی (این ایم اے) نے ہندوستان کے مشہور سیاحتی مقام قطب مینار میں رکھے گئے بھگوان گنیش کی دو مورتیوں کو رکھنے کے لیے آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا کو خط لکھا ہے. تاریخی اہمیت کی عمارتوں اور سیاحتی مقامات کی دیکھ بھال کرنے والی تنظیم اے ایس آئی کو لکھے گئے خط میں نیشنل مونومنٹس اتھارٹی نے زور دیا ہے کہ قطب مینار میں رکھے گئے بھگوان گنیش کی دونوں مورتیوں کا احترام کیا جائے اور ان کا نیشنل میوزیم میںمنتقل کیا جائے۔

انگریزی اخبار انڈین ایکسپریس سے بات کرتے ہوئے نیشنل مونومینٹس اتھارٹی کے سربراہ ترون وجے نے تصدیق کی ہے کہ میں نے کئی بار قطب مینار کا دورہ کیا ہے۔ میں جب بھی گیا، مجھے احساس ہوا کہ قطب مینار بھگوان گنیش کی مورتیوں کے لیے قابل احترام جگہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کے اس ٹورسٹ کمپلیکس میں یہ دونوں مورتیاں یہاں آنے والے سیاحوں کے قدموں کے قریب ہیں۔ اس لیے ان دونوں مورتیوں کو نیشنل میوزیم میں رکھنے کی درخواست کی گئی ہے۔

اس کے ساتھ ہی ترون وجے نے یہ بھی کہا کہ آزادی کے بعد ہم نے انڈیا گیٹ سے برطانوی بادشاہ اور ملکہ کے مجسموں کو ہٹا دیا تھا۔ ایسی کئی گلیوں کے نام بدلے جو غلامی کے دور کی یاد تازہ کر رہے تھے۔ اب ہمیں مغلوں کی ذات پات کی نسل کشی کے دور کو بدلنے کے لیے کام کرنا چاہیے۔ آپ کو اپنا فخر، اپنی شناخت بحال کرنی چاہیے۔