مولانا حکیم محمد عبداللہ مغیثی کو لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ

تازہ خبر قومی

مولانا نے قدم قدم پر قوم وملت کی رہبری ورہنمائی کا کام انجام دیا ہے : مولانا نسیم اختر شاہ قیصر

دیوبند، 26؍ دسمبر
(رضوان سلمانی)
مسلم پرسنل لاء بورڈ کے رکن مولانا حکیم محمد عبداللہ مغیثی کو انکی عرصہ دراز تک روشن دینی،تعلیمی،ملی اور اصلاحی و سماجی خدمات انجام دینے کے اعتراف میں گزشتہ دنوں دہلی میں مولانا خالد سیف اللہ رحمانی کی صدارت ڈاکٹر محمد منظور عالم کی نگرانی میں ایک تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میںمولانا کو آئی او ایس کے نویں لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ سے نوازا گیا ۔

مولانا عبداللہ مغیثی کے لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ سے نوازے جانے پر مختلف اداروں و تنظیموں کی متعدد دینی، علمی و ملی شخصیات نے مولانا کو مبارک باد پیش کرتے ہوئے اپنی نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ اس سلسلہ میں دارالعلوم وقف دیوبند کے استاذ وادیب مولانانسیم اختر شاہ قیصر نے مبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ معاشرے کی اصلاح وتربیت اور دینی و عصری علوم کے فروغ میں مولانا کی جدوجہد کے نقوش کافی گہرے ہیں،

مولانا نے قدم قدم پر قوم وملت کی رہبری ورہنمائی کا کام انجام دیا ہے اور ملی خدمت کا کوئی میدان ایسا نہیں ہے، جہاں آپ کی جدوجہد کے روشن نقوش موجود نہ ہوں۔میں اپنی جانب سے مولانا کو مبارک باد پیش کرتا ہوں۔قاضی ندیم اختر شہر قاضی سہارنپور نے بھی اپنی نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مولانا ارشاد و تلقین، تبلیغ و تذکیر، تعلیم و تربیت اور اصلاحِ خلق کے مختلف شعبوں ایک لمبے عرصے سے مصروفِ عمل ہیں اور ملتِ اسلامیہ کی اصلاح و تربیت میں لگے ہوئے ہوئے ہیں۔

مولوی فرید مظاہری منیجر جامع مسجد سہارنپور نے اس موقع سے اپنے میں کہا کہ مولانا نے نہ صرف مسلمانوں کی تعلیم وترقی کے لئے؛ بلکہ انکے دین و ایمان کی حفاظت کے لیے ایک تحریک کی طرح کام کیا جس نے مسلمانوں کی ہر طرح سے رہنمائی کر انہیں سماجی زندگی کا ترقی یافتہ شعور دیا اور فکر و عمل کا توازن بخشا۔میں آپکو مبارک باد پیش کرتا ہوں۔

مولانا محمد سعیدی ناظم مظاہر علوم وقف نے مبارک باد پیش کرتے ہوئے کہا کہ مولانا گزشتہ نصف صدی سے دین وملت کی خدمت میں اس جذبہ کے ساتھ مصروف ہیں کہ دینی تعلیم کے ذریعے مسلمانانِ ہند کی حفاظت کی جائے اور تعلیم و تربیت کے راستے سے ان کے دل و دماغ کی تعمیر کرکے ان کی بقا کا سا مان کیا جائے۔

ان مقاصد کی تکمیل کے لئے آپ پوری طرح مشغول رہیں اور دینی درسگاہوں کے ساتھ آپ نے عصری درسگاہوں کی جانب بھی قوم کو متوجہ کئے رکھا تاکہ مسلمانوں کے لئے دینی و معاشرتی اور تمدنی زندگی کی طرف حصول بآسانی ممکن ہو۔ آپ کی اصلاحی و دعوتی خدمات کے طفیل ملک بھر سے ہزاروں افراد نے اسلامی طرزِ زندگی اختیار کیا۔

جامعہ اشرف العلوم رشیدی گنگوہ کے استاذ مفتی محمدساجدکھجناوری نے مولانا کی خدمت میں اپنی نیک خواہشات پیش کرتے ہوئے کہا کہ مولانا حکیم محمد عبداللہ مغیثی ایک عرصہ دراز سے مسلسل قوم و ملت کے لئے اپنی خدمات انجام دیں اور تاحال اپنی پیرانہ سالی و ضعف کے باوجود رہبری کا فریضہ انجام دے رہے ہیں،مولانا نے مختلف پلیٹ فارموں سے دینی وملی اوراصلاحی وسماجی کوششیں کیں، اپنے شیخ و مرشد مولانا ابو الحسن علی میاں ندوی کے مشن کو آگے بڑھایا،آپ گوناگوں اوصاف وکمالات کے حامل ہیں،تواضع، حسنِ اخلاق،مروت اور دلنوازی آپ کی شخصیت میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے۔

معروف عالم دین مولانا محمد فتح ندوی نے بھی مولانا کی خدمت میں مبارک باد پیش کرتے ہوئے کہا کہ مولانا حکیم محمد عبداللہ مغیثی ہمہ جہت شخصیت کے مالک ہیں،مولانا نے ملت میں اتحاد اور مسلمانوں میں تعلیمی و اصلاحی شعبوں میں جو گراں قدر خدمات انجام دی ہیں وہ قابل قدر ہیں،

مولانا شمشیر الحسینی ناظم جامعہ دعوۃ الحق معینیہ چرھو رامپور نے اپنے مبارک بادی پیغام میں کہا کہ مولانا کی زندگی کے بنیادی اغراض و مقاصد میں علوم دینیہ کی اشاعت و ترویج اور مختلف مقامات پر مدارسِ اسلامیہ کا قیام شامل رہا اور تقریبا سیکڑوں مقامات پر آپ نے مدارس،اسکول و کولیجز کی بنیاد دکھی، ان اغراض کو روبہ عمل لانے کے لئے مکاتب و مدارس اسلامیہ کے قیام کے سلسلے میں آپکی قربانیاں بے مثال ہیں۔

ضلع صدر آل انڈیا ملی کونسل سہارنپور مولانا ڈاکٹر عبدالمالک مغیثی نے اپنے والد ماجد مولانا حکیم محمد عبداللہ مغیثی کو مبارک باد پیش کرتے ہوئے کہا کہ قوم و ملت کے لئے آپکی زندگی جن آلام و مصائب اور جن آزمائشوں و امتحانات میں گزری ہیں وہ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے،جسکی روشنی میں یہ کہا جانا بالکل درست ہے کہ آپ اس ایوارڈ کے بجا مستحق ہیں۔اسی کے ساتھ انھوں نے کہا کہ والد ماجد کا ایوارڈ کی رقم کو ملی تنظیموں و اداروں میں تقسیم کردینا یقینا انکی تواضع، بلند پایہ شخصیت، حد درجہ استغناء و بے نیازی اور بے لوثی و اخلاص کی غماز ہے اور یہی سب چیزیں عظمتوں کا پتہ دیتی ہیں۔

واضح ہو کہ ایوارڈ حاصل کرنے کے بعد مولانا عبداللہ مغیثی نے انسٹیٹیوٹ آف اسٹڈیز کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ اپنے شیخ و مرشد مولانا سید ابوالحسن علی میاں ندوی کے نقش قدم پر چلتے ہوئے میں بخوشی اس ایوارڈ کو قبول کرتا ہوں اور اس پر اللہ تعالی کا شکر گزار لیکن آج میں بھی انہیں کے نقش قدم پر چلتے ہوئے یہ اعزازی رقم جامعہ گلزار حسینیہ اجراڑہ،آل انڈیا ملی کونسل کے قاضی کامپلیکس،آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ اور اسلامک فقہ اکیڈمی کے لئے انکی دینی و ملی خدمات کے سبب تقسیم کرتاہوں۔