نئی دہلی26؍جنوری
زین نیو ز ڈیسک
مرکزی حکومت کی جانب سے لائے گئے تین زرعی قوانین کو لیکر گذشتہ 65دنوں سے کسانوں کا احتجاج جاری ہے اور کسان مسلسل زرعی قوانین کے خلاف احتجاج کر رہے۔احتجاج میں آج اس وقت اس وقت تشدد پھوٹ پڑا۔کسانوں نے سنگھو بارڈر کے پاس پولیس کے ذریعہ طے وقت سے پہلے مبینہ طورپر بیریکیڈ توڑ کر آگے بڑھنے کی اطلاع ہے ۔کسان ریلی کے دوران کسانوں کی مکربا چوک پر پولیس کے ساتھ جھڑپ ہوئی اور حالات پر قابو پانے کے لیے پولیس نے آنسوں گیس کے گولے چھوڑے اور لاٹھی چارج

کیا۔ایک کسان کے مرنے اور متعدد زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔اکشردھام کے پاس بھی کسانوں کو آگے بڑھنے سے روکنے کے لیے پولیس نے آنسوں گیس کے گولے چھوڑے۔واضح رہے کہ پولیس افسروں اور کسانوں کے درمیان کئی مرحلوں کی بات چیت کے بعد ٹریکٹر ریلی کی اجازت دی گئی تھی۔ اس کے لئے وقت اور راستہ بھی طے کیا گیا تھا لیکن کسان نے دونوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے آگے بڑھے جس کی وجہ سے کچھ مقامات پر تصادم ہوا۔کسانوں نے سنگھو بارڈر کے پاس پولیس کے ذریعہ طے وقت سے پہلے

زبردستی بیریکیڈ توڑ کر آگے بڑھنے کی کوشش کی۔ پولیس نے کسانون کو آؤٹر رنگ روڈ کی طرف بڑھنے سے روکنے کےلئے آنسو گیس کے گولے چھوڑے اور لاٹھیاں چلائیں لیکن کسان پولیس بندوبست کو توڑتے ہوئے آگے بڑھ گئے۔اس دوران کچھ پولیس اہلکار اور کچھ کسان بھی زخمی ہوئے۔
