شیموگہ:
۔(مدثراحمدشیموگہ):
جمعرات کی رات 20.10 کو پیش آنے والے زور دار دھماکے بعد جہاں لوگ سڑکوں پر اتر آئے تھے وہیں کسی کو اس بات کا اندازہ نہیں ہوا کہ آخر یہ دھماکہ اور روشنی کیا چیز ہے۔ابتداء میں لوگوں نے قیاس آرائی کی تھی کہ یہ دھماکہ زلزلے کی وجہ سے ہواہے،پھر کچھ نے کہاکہ گیس گودام میں آگ لگی،پھر کچھ لوگوںنے کہاکہ ٹینکر میں بلاسٹ ہوا،پھر کچھ لوگوںنے یہ کہاکہ یہ بم بلاسٹ تھا۔لیکن حقیقت میں یہ کیا آواز تھی اس کا اندازہ اب تک نہیں ہواہے،البتہ بیشتر ماہرین فلکیات نے بتایاہے کہ یہ شہابِ ثاقب یعنی میٹی رائیڈسے ہونا والادھماکہ ہے اور اسی پر بیشتر لوگوںنے اکتفاء کیاہے۔جیسے ہی یہ دھماکہ پیش آیااس کے کچھ ہی لمحوں بعد شیموگہ شہرسے منسلک ابلگیرے گرام پنچایت کے حدودمیں آنے والے ہنسور کٹے میں کی جارہی پتھر کی کانکنی کیلئے استعمال کئے جانےو الے جلیٹین یعنی ڈائینامیٹ میں رگڑ پیدا ہونے کی وجہ سےدھماکہ ہوا،دھماکے کی شدت اتنی شدید تھی کہ وہاں موجود ٹرک کے پُرزے پُرزے اُڑگئےاور کانکنی کی جگہ پر موجود پانچ مزدور ہلاک ہوگئے ۔پانچوں مزدوروں میں سے چارمزدوروں کی شناخت ہوچکی ہے،جبکہ ایک مزدور کی شناخت اب بھی نہیں ہوئی ہے۔ہلاک ہونے والے مزدوروں میں سے تین مزدوروں کا تعلق بھدراوتی تعلقہ کے انتر گنگاکیمپ سے ہے،ان کی شناخت پراوین، منجوناتھ اور پون کے طور پر کی گئی ہے۔جبکہ جاوید نامی شخص کی شناخت تو ہوئی ہے لیکن اس کے تعلق سے تفصیلات دستیاب نہیں ہیں۔دریں اثناء اس پُر اسرار آواز، روشنی کو ڈائنا میٹ دھماکے سے جوڑ کر دیکھا جائے تو اس کے تار آخرمیں مل رہے ہیں کیونکہ20.10 پر ہونے والا دھماکہ اگر جلیٹین سے ہوا ہوتا تواس کااثر زیادہ سے زیادہ10 کلو میٹرکے دائرے میں ہوتا اور اس علاقے میں موجود گھروں کی جگہ گھر نہ رہتے،مویشی و انسان آواز کی شدت سے ہی ہلاک ہوچکے ہوتے۔مگر اس حادثے میں صرف300 میٹرکےد ائرے میں ہی نقصانات دیکھنے کو ملے ہیں ۔لائسنس کرشر کا،کام مائنگس کا:۔ شیموگہ شہرکے مختلف سرحدی علاقوں میں کانکنی کی جارہی ہے ان تمام کانکنی یعنی مائنگس کرنے والے ٹھیکداروںنے صرف کرشر کالائسنس حاصل کیاہے،نہ کہ پتھروںکی کھدائی یا مائنگس کا لائسنس ان کے پاس ہے۔اس تعلق سے کئی دفعہ اخبارات میں محکمہ پولیس،محکمہ معدنیات وکانکنی و ریونیو ڈیپارٹمنٹ کے افسروں کومطلع کیاگیاتھا،کئی دفعہ احتجاجات بھی ہوئے ہیں،لیکن ان تمام احتجاجات کی پرواہ نہ کرتے ہوئے پولیس و محکمہ معدنیات کے افسروں نے خاموشی اختیار کررکھی تھی۔یہی وجہ کہ آج اتنا بڑا حادثہ پیش آیاہے۔2015 میں ایشورپانے خاموش رہنے کیلئے کہاتھا: شہر میں 2015 میں ہی غیر قانونی کانکنی و کرشروںکے تعلق سے ضلع انتظامیہ کی نشست میں مطلع کیاتھا،لیکن اس وقت ضلع نگران وزیر کے ایس ایشورپانے افسروں کو سختی سے کہاتھاکہ اگر ضلع میں خوشحالی دیکھنی ہے اور خود کو نقصان پہنچانانہیں چاہتےہیں تو اس معاملے میں آنکھیں وزبان بند رکھیں۔شائداسی نصیحت کا نتیجہ ہے کہ افسران اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنے میں لاپرواہی برت رہے ہیں۔5لاکھ روپیوں کی امداد کا اعلان:شیموگہ کے ہنسور کٹے میں پیش آنےو الے حادثے کے لواحقین کو پانچ لاکھ روپئے کی مالی امداد دینے کا اعلان کرناٹک کےو زیر اعلیٰ بی ایس یڈی یورپانے کیاہے۔انہوں نے حادثے پر اپنا ردِ عمل ظاہرکرتے ہوئے کہاکہ یہ حادثہ نہایت دردناک ہے،اس حادثے میں مرنے والے لواحقین کے ساتھ میں اظہارِ تعزیت کرتا ہوں اور ان کے لواحقین کو حکومت کی طرف پانچ لاکھ روپیوں کی مالی امداد پیش کرتا ہوں۔شیموگہ کے مضافات میں پیش آنے والے اس حادثے کے بعدمیں تمام اضلاع کے ڈپٹی کمشنروں کو ہدایت دیتاہوں کہ اپنے اپنے علاقوں میں درپیش غیر قانونی کانکنی پرفوری طور پر لگام کسی جائے۔مرگیش نیرانی کا دورہ:۔ریاستی وزیر برائے معدنیات وکانکنی مرگیش نیرانی نے آج جائے واردات کامعائنہ کیا جس کے بعد انہوںنے نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہاکہ اس حادثے کے تعلق سے اعلیٰ سطحی کی جانچ کیلئے وزیر اعلیٰ سے تبادلہ خیال کرنے کے بعد فیصلہ لیاجائیگا،یہاں پرجو کا نکنی کی جارہی ہے وہ قانونی ہے یا غیر قانونی اس کا معائنہ کیاجائیگا۔مرنے والوں کے لواحقین کو حکومت سے ملنے والی سہولیات دی جائینگی۔یہ پہلا موقع نہیں ہے:- کانکنی اورڈائنا میٹ کے دھماکوں میں مرنے والوںکا یہ پہلا حادثہ نہیں ہے،اس سے پہلے بھی کئی اموات ہوچکی ہیں۔شیموگہ ،بھدراوتی،ہوسنگر سمیت ضلع کے مختلف علاقوں میں150 پتھر کی کانیں ہیں،ان میں سے لگ بھگ چالیس تا پچاس کانکنی کے مراکز ہی قانونی حیثیت رکھتے ہیں،بقیہ پتھر کی کانیں غیرقانون طور پر چلائی جارہی ہیں۔ضلع میں پچھلے دس سالوں میں متعددحادثات پیش آئے ہیں،لیکن یہ تمام حادثات میں مرنےو الے لوگوں کے تعلق سے مستقل قانونی کارروائی نہیں ہوتی، بلکہ پولیس اور ٹھیکداروں کے درمیان کچھ دلال قسم کے لوگ پائے جاتے ہیں اور یہ لوگ معاملے کو پیسے دلواکر رفع دفع کردیتے ہیں،اس لئے کانکنی میں ہلاک ہونے والے لواحقین کو معقول معاوضہ نہیں ملتا اور نہ ہی انصاف ملتاہے اور نہ اس معاملے پر حکومت سنجیدگی کا مظاہرہ کرتی ہے.
