دیوبند، 5؍ جون
(رضوان سلمانی)
گزشتہ جمعہ کو کانپور میں ہوئے فرقہ وارانہ فساد کے پیش نظر سہارنپور ضلع میں بھی انتظامیہ کی جانب سے الرٹ جاری کردیا گیا ہے ، ساتھ ہی خفیہ محکمہ کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ باریک سے باریک چیزوں پر نظر رکھیں ، انتظامیہ نے انتباہ دیتے ہوئے کہا کہ ضلع کے ماحول کو کسی صورت میں خراب نہیں ہونے دیا جائے گا ۔
ہر اس شخص سے سختی کے ساتھ پیش آیا جائے گا جو ضلع کاماحول خراب کرنے کی کوشش کرے گا۔ جمعہ کے روز بی جے پی کی خاتون لیڈر اور ترجمان نو پور شر ما کے مبیّنہ اہانتِ رسولؐ کے بیان پر ہونے والے فساد کے پیشِ نظر یہاں بھی الرٹ جا ری کر دیا گیا ہے اور مذہبی اشتعال پھیلانے والے پولس اور خفیہ ایجنسیز کے رڈار پر ہیں ان پر اور ان سے ملنے جلنے والوں پر بھی نظر رکھی جا رہی ہے ۔
اس کیلئے وزیرِ اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعہ افسران کو ہدایات دی ہیں اور کہا کہ ایسے عناصر کا پرانا ریکا رڈ نکال کر سخت سے سخت کارروائی کیجا ئے انہوں نے افسران کو یہ بھی تاکید کی ہیکہ سرکار ی زمین پر بنے مندر اورمسجد سمیت دگر عبادتگاہوں کی بھی شناخت کیجا ئے اور یہ پتہ لگا یا جا ئے کہ ان عبادتگاہوں کی دیکھ ریکھ کرنے والے لوگ کس چال چلن کے ہیں اور ان پر مقدمے تو قائم نہیں ہیں اور ایسے لوگ گذشتہ 10سالوں میں غیر قانونی سرگرمیوں میں تو ملوث نہیں رہے اور جو عبادگاہیں سرکاری زمین پر تعمیر کی گئی ہیں
اس کے پسِ پشت مقاصد کیا ہیں ۔وزیرِ اعلیٰ نے یہ کام 15دن کے اندر انجام دئے جا نیکی افسران کو تاکید کی ہے ضلع انتظامیہ ،پولس اور خفیہ ایجنسیز اس کام میں لگ گئے ہیں اور سماج دشمن و مذہبی اشتعال پھیلا نے والے عناصر کو رڈار پر رکھا جا رہا ہے اور ان پر سخت نظر رکھی جا رہی ہے ۔
ڈی ایم اکھلیش سنگھ نے اس کی تصدیق کرتے ہو ئے کہا کہ کانپور کے واقعہ کے بعد وزیرِ اعلیٰ نے مذہبی اشتعال پھیلا نے والوں پر نظر رکھنے کے علاوہ سرکاری زمین پر مندر مسجد و دگر عبادتگاہوں کی شناخت کرنے اور 15دن کے اندر اس کی رپورٹ بھیجنے کی ہدایات دی ہیں اور ہدایات پر عمل شروع کردیا گیا ہے
