کانگریس سے فیروزخان کا اخراج!تادیبی کمیٹی سے نمائندگی

بین الریاستی تازہ خبر

حیدرآباد۔ 2؍جنوری
نمائندہ خصوصی
حیدرآباد۔ 2؍جنوری پرانے شہر حیدرآبادہو کہ ملک کے کسی دوسرے حصے میں بسنے والے مسلمان ہو وہ سب کے سب سچے محب وطن ہیں اور انہیں کسی کے سرٹیفکیٹ کی ضرورت نہیں ہےیہہ بات حیدرآباد سٹی کانگریس کمیٹی (ایچ سی سی سی) کے اقلیتی شعبہ کے چیئرمین سمیر ولی اللہ نے کہی۔ نامپلی اسمبلی کےلئے کانگریس انچارج فیروز خان کے اولڈ سٹی کے مسلمانوں کے خلاف کئےگئے ریمارکس کی شدید مذمت کرتے ہوئےاسے ان کے ذاتی خیالات سے تعبیر کیا اور کہا کہ فیروز خان نے ایک مقامی نیوز چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے پرانے شہر کےمسلمانوں کے خلاف انتہائی قابل اعتراض تبصرہ کیا ہے جو قابل مذمت ہے۔ ان ریمارکس کا پارٹی سے کوئی تعلق نہیں ہےفیروز خان اس طرح کے تبصرے صرف بی جے پی آقاؤں کو خوش کرنے کررہے ہیں جنہوں نےپرانے شہر کے مسلمانوں کی قوم پرستی پر سوال اٹھاتے ہوئے ان کے نظریہ سے اتفاق کیا۔سمیر ولی اللہ نے مطالبہ کیا کہ فیروز خان کو اپنے متنازعہ بیانات پر فوری طور پر مسلمانوں سے معافی مانگنی چاہئے فیروز خان جیسے لیڈروں کی قوم پرستی ‘بھگوا جماعتوں میں شامل ہونے کےلئے ہوتی ہے۔ سمیر ولی اللہ نے بتایاکہ کانگریس قائدین کی جانب سے تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی کی ڈسپلنری کمیٹی کو سخت تادیبی کارروائی کی درخواست کی ہےپارٹی ہائی کمان (اے آئی سی سی اور ٹی پی سی سی) کو فیروز خان کو پارٹی سے خارج کرتے ہوئے فرقہ وارانہ منافرت پھیلانے اور پارٹی کی غلط نمائندگی کرنے پر فوری کارروائی کرنا چاہئے۔