بند کی اپیل کا عوام کی جانب سے زبردست ردعمل ۔ریاست بھر میں سناٹا
حجاب پہننے کا مطالبہ کرنے والی طالبات ملک دشمن۔ وائس چیئرمین یشپال سورنا
بنگلور:17؍مارچ
(زین نیوز)
کرناٹک ہائی کورٹ کے تعلیمی اداروں میں حجاب سمیت مذہبی لباس پر حکومت کی پابندی کو برقرار رکھنے کے حالیہ حکم کے خلاف
مختلف مسلم تنظیموں اورکرناٹک کے امیرِ شریعت مولانا صغیر احمد خان رشادی نے جمعرات کو ریاست گیر پرامن بند کی اپیل کی تھی۔جماعت اسلامی ہند کے علاوہ دیگر مسلم تنظیموں نے بھی بند کی حمایت کی ہے۔
کرناٹک بند کی اپیل کا زبردست ردعمل عمل دیکھا گیا کرناٹک کئی علاقوں میں بند کا اثر دیکھا گیا۔ بنگلور کے شیواجی نگر میں زیادہ تر دکانیں بند رکھی گئی ہیں
بندر، سینٹرل مارکیٹ، اسٹیٹ بینک، اے پی ایم سی مارکیٹ اور منگلورو کے دیگر کاروباری علاقوں میں ماہی گیری کی بندرگاہ جمعرات کی صبح سے ہی ویران نظر آئے۔ یہ علاقے عموماً صبح سویرے مچھلیوں، سبزیوں اور دیگر کی تجارت سے گونجتے ہیں۔
The Hijab Judgment; Band support in Mangalore #KarnatakaBandh#HijabVerdict #HijabMovement pic.twitter.com/bsM7njugz2
— Hate Watch Karnataka. (@Hatewatchkarnat) March 17, 2022
نمائندہ زین نیوز کے مطابق ضلع کے اُلال علاقہ جو کہ ایک مسلم اکثریتی علاقہ ہے، میں بند کی زبردست حمایت دیکھنے میں آئی۔ اس خطے کے کئی علاقوں میں صبح کے وقت سنسان نظر آئے
اس دوران بند کو لے کر اڈپی میں ملا جلا ردعمل دیکھنے میں آیا۔ذرائع کے مطابق منگلورو میں مچھلی اور سبزیوں کی تجارت سے وابستہ افراد کی اکثریت مسلمان ہے اور انہوں نے بند کی حمایت کے لیے اپنا کاروبار بند کرنے کافیصلہ کیا۔
بند کا اثر عوام پر بھی دیکھا گیا کیونکہ وہ اپنی روزانہ مچھلی اور سبزیاں حاصل کرنے کے لیے جدوجہد کر تے نظر آئے۔منگلورو کے بازاروں اور جنوبی کرناٹک کے دیگر حصوں میں چکن، مٹن اور بیف کے زیادہ تر دکانات بھی بندرہے۔

کرناٹک بند کے اعلان کے درمیان امیر شریعت کرناٹک مولانا صغیر احمد خان رشدی نے حجاب پہننے پر پابندی کو برقرار رکھنے کے فیصلے پر اپنے غم کا اظہار کیا ہے۔ مولانا نے دیگر مسلم تنظیموں سے بھی بند کی حمایت کی اپیل کی ہے
گذشتہ روز مولانا صغیر احمد خان رشدی نے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعہ بند کی اپیل کی تھی
واضح رہے کہ گزشتہ دنوں کرناٹک ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ اسلام کے مطابق لڑکیوں کے لیے اسکولوں اور کالجوں میں حجاب پہننا ضروری نہیں ہے۔
Will be updating #KarnatakaBandh response from Muslim community and others from each places.
Mangalore Bunder, and city areas
1/n pic.twitter.com/TbOhGDczFV— Mohammed Irshad (@Shaad_Bajpe) March 17, 2022
بند کی اپیل پر اپوزیشن کانگریس نے غیر جانبدارانہ موقف اختیار کرنے کا فیصلہ کیا۔ کانگریس کے ایک قانون ساز نے حجاب کے معاملے پر کانگریس کے مسلم لیڈروں کے موقف کے بارے میں کہا، ’’ہم نے مذہبی رہنماؤں کے ساتھ میٹنگ کی اور اس مسئلے پر قانونی جنگ کی حمایت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
بی جے پی لیڈر اور اڈوپی گورنمنٹ پری یونیورسٹی کالج ڈیولپمنٹ کمیٹی کے وائس چیئرمین یشپال سورنا نے کالج کے احاطے میں حجاب پہننے کا مطالبہ کرتے ہوئے کرناٹک ہائی کورٹ سے رجوع ہونے والی لڑکیوں کو ملک دشمن قرار دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وہ ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف بیانات دے کر پڑھے لکھے ججوں کی توہین کر رہی ہیں۔ سوورنا نے کہا کہ میڈیا میں ان کا بیان توہین عدالت کے مترادف ہے۔
