کرناٹک میں مسلم طالبات کو حجاب سے روکنے کے لئے شرپسندانہ مہم

تازہ خبر قومی

زعفرانی گروپوں نے آج غیر مسلم لڑکیوں کو زعفرانی رنگ کی اوڑھنیاں پہنے پر مجبورکیا
مجلس رکن پارلیمنٹ امتیاز جلیل نے مسلۂ کو پارلیمنٹ میں اٹھایا۔
نئ دہلی : 4؍فروری
(زین نیوز)

کرناٹک میں پچھلے کچھ دنوں سے مختلف مقامات پر کالجوں میں مسلم لڑکیوں کے برقعہ پہننے کی بات کو لیکر مخالفت چل رہی ہے ۔گذشتہ دودن قبل کرناٹک کے اُڑپی ضلع کے کنڈا پور ایک اور کالج میں حجاب اسکارف اور برقعہ پہن کر کالج آنے والی مسلم طالبات کو کالج انتظامیہ کی جانب سے گیٹ پر ہی کالج میں داخل ہونے سے روک دیا گیاتھا۔اگرچہ مسلم لڑکیوں نے احتجاج کرتے ہوئے اسے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا

آج زعفرانی جماعتوں کی جانب سے حجاب کو روکنے کی نئی مہم چلائی گئی جمعہ کو زعفرانی گروپوں کی جانب سےباقاعدہ حجاب کے خلاف مہم کا آغاز کرتے ہوئے اڈپی میں پری یونیورسٹی کالج کی کلاسوں میں ہندو طالب علموں کو بھی زعفرانی رنگ کی اوڑھنیاں پہنے پر مجبورکیا

بجرنگ دل کے ضلع سکریٹری سریندر کوٹیشور نے اس واقعہ پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا، ’’اگر پولیس ہندو طلبہ کو زعفرانی اوڑھنی پہن کر کالجوں میں داخل ہونے سے روک رہی ہے تو وہ حجاب پہنے ہوئے مسلم طلبہ کو بھی کالج کے احاطے میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دینی چاہیے۔‘‘ کوٹیشور نے کہا کہ اگر کالج انتظامیہ مسلم طلبہ کو حجاب پہننے والے طلباء کو کیمپس میں داخل ہونے کی اجازت دیتی ہے تو وہ تمام ہندو طلباء کو کیمپس کے اندر زعفرانی اُوڑھنی پہنانے پر مجبور کر دیں گے۔

کالج کی طالبہ سائرہ بانو نے انڈیا ٹوڈے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حجاب ہماری زندگی کا حصہ ہے۔ ہمارے خاندان میں ہر کوئی حجاب پہن کر کالج جاتا تھا۔ ہمارا حجاب پہن کر کالج آنے سے کیا نقصان ہوتا ہے؟ آخر اچانک یہ قانون کیوں آگیا؟

حجاب کے معاملہ کو لیکر کرناٹک کے رکن اسمبلی یو ٹی قادر نے کہاکہ حجاب کو تعلیم میں مسلۂ نہ بنایا جائےانھوں نے اولیائے سے خواہش کی ہے کہ جس کالج میں حجاب کے لئے گنجائش نہیں ہے اپنی بچوں کو ان کالجوں میں نہ بھیجا جائے اور جن کالجوں میں حجاب کی گنجائش ہے وہاں اپنی بچیوں کو بھیجا جائے

کل ہند مجلس اتحاد السلمین اورنگ آباد کے رکن پارلیمان امتیاز جلیل نے حجاب کے مسئلہ پر کرناٹک کے کالجوں میں کی جارہی شرپسندی کو پارلیمنٹ میں اٹھاتے ہوئے الزام عائد کیا کہ کرناٹک حکومت دوہری پالیسی پر عمل پیرا ہے اس کو فوری طور پر روکا جائے۔

امتیاز جلیل نے حجاب کے معاملہ پر کہاکہ صدر جمہوریہ نے اپنے خطبہ میں ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈ کر کے حوالہ سے کہا تھا کہ ہماری سرکار بابا صاحب کے بتائے ہوئے راستوں پر چلتی ہے اور ہمارا نعرہ ہے کہ سب کا ساتھ سب کا وکاس ‘ آزادی ‘ مساوات ‘ سب کے حقوق ‘ لیکن بی جے پی حکومت کا اسے دور تک کا بھی کوئی تعلق نہیں ہے اور رہتا تو کرناٹک میں حجاب پہننے والی کالج کی مسلم طالبات کو کالج کے گیٹ پر روکا نہیں جاتا۔ انہوں نے پر زور مطالبہ کیا ہے کہ وہ حجاب کولیکر تعلیم میں مسلۂ نہ بنائیں