ہائی کورٹ کا پرائیویٹ سکولوں کو دھچکا

تازہ خبر قومی

طالبعلم کی فیس بقایا ہو تب بھی اسے اسکول آنے سے نہیں روکا جا سکتا

کلکتہ :19؍اپریل
(زین نیوز)
کلکتہ ہائی کورٹ نے جی ڈی برلا اسکول اور کولکاتہ میٹروپولیس کے دیگر خانگی اسکول انتظامیہ کو سخت ہدایات دی ہیں۔ ہائی کورٹ نے کہا ہے کہ اگر کسی طالب علم کی فیس بقایا ہو تب بھی اسے اسکول آنے سے نہیں روکا جا سکتا۔ اتنا ہی نہیں ہائی کورٹ نے یہ بھی کہا کہ انتظامیہ امن و امان کا حوالہ دے کر اسکولوں کو بند نہیں کر سکتی۔

ہائی کورٹ کے جسٹس اندرا پرسنا مکھرجی اور جسٹس موسومی بھٹاچاریہ کی ڈویژن بنچ نے یہ حکم جی ڈی برلا اسکول سمیت تین اسکولوں کے خلاف دائر درخواست کی سماعت کرتے ہوئے دیا، جس میں عدالتی حکم کی توہین کا الزام لگایا گیا تھا۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ جسٹس آئی پی مکھرجی کی سربراہی والی بنچ نے میٹرو پولس کے 145 پرائیویٹ اسکولوں کی بقایا فیسوں سے متعلق معاملات سے نمٹنے کے لیے ایک خصوصی افسر کا تقرر کیا ہے، جو 6 جون تک اپنی رپورٹ پیش کرے گا۔

جی ڈی برلا اسکول مینجمنٹ کی جانب سے ایک نوٹس جاری کیا گیا جس میں کہا گیا ہے کہ صرف ان طلباء کو کلاس لینے کی اجازت دی جائے گی جنہوں نے بقایا فیس ادا کی ہے۔ اس نوٹس کے خلاف کلکتہ ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی گئی تھی۔ اس حکم کے خلاف والدین نے اسکول کے سامنے مظاہرہ بھی کیا۔

اس کے بعد انتظامیہ نے امن و امان کا حوالہ دیتے ہوئے اسکول کو غیر معینہ مدت کے لیے بند کرنے کا اعلان کیا تھا۔ تاہم بعد میں سکول دوبارہ شروع کر دیا گیا ہے۔ منگل کو اس کیس کی سماعت کے دوران کلکتہ ہائی کورٹ نے واضح کیا کہ طلباء کو اسکول جانے سے نہیں روکا جا سکتا۔احکامات کی خلاف وزری توہین عدالت ہوگی