منجانب: عبدالقیوم شاکر القاسمی
امام وخطیب مسجد اسلامی
وسٹی انچارچ مانووتہ پبلک سیوانظام آباد
9505057866
پوری ملت اسلامیہ اس بات سے بخوبی واقف ہیکہ دینی مدارس ملک وملت کا قیمتی اثاثہ اور عظیم ملی سرمایہ ہوتا ہے جہاں سے قوم وملت کو امن ومان محبت وخلوص کادرس دیاجاتا ہے حفاظت دین واشاعت اسلام کے مضبوط ومستحکم قلعے کہلاتے ہیں
ان مدارس اسلامیہ کا مالی تعاون کرنا انہیں پھلنے پھولنے اور شمع علم نبوت کی لو جلانے اور عام کرنے کی ذمہ داری امت مسلمہ کے ایک ایک فرد پر عائد ہوتی ہے
اہل ثروت ومالداروں کی اپنی ذمہ داری علماء وائمہ کا اپنا فرض اور عوام الناس کا اپناحق ہیکہ وہ ان دینی مدارس کو اس کے نظام تعلیم ومعاش کو بہتر سے بہتر بنانے میں ہرایک مسلمان اپنی ذمہ داری کو سمجھیں اور حتی المقدور اس کو اداکرنے کا اہتمام اورفکر وجستجو کریں
اوراللہ تعالی نے اپنا ایک نظام اور دستور بنایا ہوا ہے جو اس روے زمیں پر جاری فرماتے ہوے بندوں کو اس کاپابند بنایا اور وہ ہے اسباب کو اختیارکرنا چنانچہ دنیا میں ہر شی بظاہراپنے اسباب ہی کے تحت وجودمیں آتی ہے بالکل اسی طرح مدارس کے چلنے چلانے اور کام کرنے کے سارے طور طریقے یقینا انہی اسباب کے تحت وجود پذیر ہوتے ہیں
اس تمہید کے بعد عرض ہیکہ رمضان المبارک میں زکوۃ کانظام اور بقرعید میں چرم۔قربانی کا نظام مدارس اسلامیہ کے لےء ریڑھ کی ہڈی کا درجہ رکھتے ہیں جن سے کافی بڑی مقدار میں مدارس کو نقد رقم وصول ہوجاتی اور سال بھر کے تقریبا اخراجات کی تکمیل اور پابجای اس سے ہوجاتی ہے
نظام زکوۃ تو زمانہ سابق سے چلتا آرہا ہے اور قیامت تک ام شاء اللہ جاری وساری رہے گا لیکن گذشتہ چند برسوں سے چرم قربانی کے حوالہ سے پورے ملک میں بلکہ عالمی سطح پر جو گراوٹ آی ہے جس سے کسی اورکا نہ سہی مگر مدارس اسلامیہ کا کافی نقصان اور مالی آمدات میں تقصیر ہوگیء ہے جہاں ایک چرم کی قیمت 1300 تک ہواکرتی تھی آج اس میں کمی ہوتے ہوتے صرف 100/150 روپیہ حاصل ہورہے ہیں نیز گذشتہ پورے دوسال سے ملک میں جو معاشی تنگیاں بڑے پیمانہ پر عام ہوچکی ہیں وہ عالم آشکارا ہے مدارس اسلامیہ میں تعلیمی سرگرمیاں گرچہ کچھ نہ کچھ مقدار میں جاری رہی لیکن ذرائع آمدنی میں خاطر خواہ کمی واقع ہوچکی ہے ایسے آزما حالات اورکٹھن مراحل سے نہ گذرنے والے بہت سارے مدارس اس وقت بند ہوچکے ہیں لیکن جو مدارس ابھی جاری ہیں وہ
ذمہ داران مالی قلت کے شکار ہیں
یہ کوی شکوہ نہیں بس اظہار درد ہے باقی ہماراایمان ہیکہ باری تعالی اپنے خزانہ غیب سے ان مدارس کی حفاظت فرماکر ان کی غیبی مددونصرت کا مظاہرہ ومشاہدہ انسانیت کو کرائیں گے
لیکن اسباب کی دنیا میں عوام وخواص اور مسلمانوں سے اپیل ودرخواست کرنا یہ ہماری ذمہ داری ہے اور زیادہ سے زیادہ مالی تعاون کرنا یہ امت مسلمہ کے ایک ایک فرد کی ذمہ داری ہے جو انہی کے لےء دنیا وآخرت کی فلاح وبہبود کا ضامن اور نجات اخروی کا باعث ہے اس لےء ہم تمام ہی دینی مدارس بطور خاص آپ کے شہر نظام آباد کا 35/ سالہ قدیم دینی اقامتی مدرسہ ادارہ مظہر العلوم ٹرسٹ کا چرم قربانی اورزائدہڈیوں نیز پوٹلی ودیگر زوائدات کے ساتھ ساتھ کچھ نہ کچھ مالی امداد کرکے ثواب دارین حاصل کریں
اللہ پاک سب کو قبول فرماے جان ومال میں ترقی عطاء فرماے
آمین
