اے ٹی ایس نے دیوبند سے تین مشتبہ افراد کو حراست میں لیا

تازہ خبر قومی

اے ٹی ایس کی جانب سے چھاپہ بعد مقامی لوگوں میں اضطرابی کیفیت
دیوبند، 12؍ مارچ
(رضوان سلمانی)
دیوبند میں اے ٹی ایس نے بڑی کارروائی کرتے ہوئے عیدگاہ روڈ پرواقع ایک پرائیویٹ ہاسٹل میں چھاپہ مار کار روائی کرتے ہوئے تین مشتبہ افراد کو حراست میں لے لیا۔اے ٹی ایس کی اس چھاپہ مار کار روائی اور تین لوگوں کو حراست میں لئے جانے کے بعد پورے علاقہ میں کھلبلی مچ گئی ہے، اے ٹی ایس ٹیم تینوں افراد اپنے ساتھ لے گئی ہے ۔

تفصیلات کے مطابق دوپہر کو 1؍بجے کے قریب دارالعلوم چوک پر واقع پرائیویٹ ہاسٹل میں اے ٹی ایس ٹیم نے چھاپہ کار روائی کرتے ہوئے تین مشتبہ افراد کو حراست میں لے لیا اور انہیں اپنے ساتھ لے گئی ۔اے ٹی ایس کی جانب سے اس چھاپہ مار کار روائی کے بعد پورے علاقہ میں کھلبلی مچ گئی اورافواہوں کا بازار گرم ہوگیا ۔بتایا جارہا ہے کہ حراست میں لئے گئے افراد کا تعلق بنگلہ دیش اور برما سے ہے جو غیر قانونی طریقہ سے یہاں ایک پرائیویٹ ہاسٹل میں کرائے کے الگ الگ کمروں میں رہ رہے تھے۔

مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ اس کو اے ٹی ایس کی چھاپہ مار کارروائی کا علم ہے لیکن اسے یہ نہیں معلوم کہ مشتبہ افراد کون ہیں اور انہیں کیوں حراست میں لیا گیا ہے ۔حالانکہ ایک شناخت تلنگانہ کے رہنے والے کے طورپر ہونا بتایاجارہاہے۔پولیس افسران کا کہنا ہے کہ انہیں اس سلسلہ میں کوئی علم نہیں ہے۔

واضح ہو کہ اے ٹی ایس کی جانب سے چھاپہ کارروائی کئے جانے سے مقامی لوگوں میں اضطرابی کیفیت ہے ۔ لوگ اس سلسلہ میں تفصیلات معلوم کرنے کی کوشش کررہے ہیں لیکن معلومات دینے ابھی افسران بھی گریز کررہے ہیں ۔

وہیں دوسری جانب خفیہ ایجنسیوں کے افسران بھی اے ٹی ایس کی اس کار روائی کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔علاقہ میں چرچہ ہے کہ مذکورہ تینوں افراد ایک پرائیویٹ ہاسٹل کے الگ الگ کمروں میں کرائے پررہ رہے تھے ،وہ بنگلہ دیش اور برماہ کے شہری بتائے جارہے ہیں اور یہاں بغیر ویزہ اور پاسپورٹ یعنی غیر قانونی طریقہ سے رہ کر کہیں تعلیم بھی حاصل کررہے تھے۔

ابھی تک یہ معلوم نہیں ہوا کہ حراست میں لئے گئے افراد کہاں تعلیم حاصل کررہے تھے اور کس الزام میں اے ٹی ایس نے ان کو حراست میں لیا ہے۔ اے ٹی ایس کی جانب سے فی الحال کوئی اطلاع نہیں دی گئی ہے اور گرفتار کئے گئے افراد کو اے ٹی ایس ٹیم نامعلوم جگہ پر لے جاکر تحقیق کررہی ہے۔
اس سلسلہ میں ایس ایس پی سہارنپور آکاش تومر کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ ان کے علم میں ہے، اے ٹی ایس کی ٹیم اگر کوئی کارروائی کرتی ہے تو مقامی پولیس انتظامیہ سے وہ اجازت لینے کی ضرورت نہیں ہے ، ان کی اپنی کارروائی ہوتی ہے ۔