yadurapa CM

بی ایس یدیورپا چیف منسٹر کرناٹک کے عہدہ سے مستعفی ۔گورنر سے ملاقات،مکتوب استعفیٰ حوالے

تازہ خبر قومی

بنگلور:26؍جولائی
(زین نیوز؍ایجنسیز)
بالآخر کرناٹک کی سیاست میں الجھن کا طوفان تھم گیا ۔ وزیر اعلی بی ایس یدیورپا نے وزیر اعلی کی حیثیت سے دو سال مکمل ہونے پر پیر26 جولائی کو اپنے عہدے سے استعفیٰ دینے کا اعلان کیا۔ راج بھون پہنچنے کے بعد ، انھوں نے اپنا استعفیٰ گورنر ٹی سی گہلوت کو پیش کردیا.جس کے فوری بعد گورنر نے یدیورپا کا استعفیٰ  منظور کرلیا ۔

خیال کیا جاتا ہے کہ پارٹی ہائی کمان نے بڑھتی عمر کی وجہ سے یدیورپا کا استعفیٰ قبول کرلیا ہے۔یدیورپا نہ صرف وزیر اعلی تھے بلکہ کرناٹک ریاست میں بی جے پی کا سب سے بڑا چہرہ بھی تھے۔ یدیورپا استعفیٰ دینے کا اعلان کرتے ہوئے بہت جذباتی ہوگئےمسٹر یدیورپا نے ریاست کی عوا م خصوصاً حلقہ شکاری پور کے عوام سے اظہار تشکر کیا جنھوں نے بے حد پیار اور محبتوں سے نوازا ہے۔اور اپنے دور اقتدار میں بھر پور حمایت اور تعاون دینے پر وزیر اعظم نریندر مودی بی جے پی کے قومی صدر جے پی نڈا اور پارٹی کے دیگر سینئر لیڈروں کا بھی شکریہ ادا کیا

انھوں نے کہا کہ جب کاریں نہیں تھیں تو مجھے یاد ہے کہ وہ دن بھرکیسے سائیکل چلا کر پارٹی (بی جے پی) کے لئے کام کرتے تھے۔یورپا نے جدوجہد کے دنوں کو یاد کرتے ہوئے کہامیں نے شموگہ کے شکاری پورمیں صرف چند ہی بی جے پی کارکنوں کے ساتھ پارٹی کا اغاز کیا تھا اور اسکو پروان چڑھایا ۔کہا ‘کہ میرا خواب تھا کہ بی جے پی ایک بار پھر مرکز میں وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ کی قیادت میں اقتدار میں آئےجو پورا ہوچکا ہے۔

یدیورپا نے کہاکہ جب اٹل بہاری واجپائی وزیر اعظم تھے انھوں نے مجھ سے مرکز میں وزیر بنانے کا پیش کش کیا تھا تاہم میں نے ریاست میں رہنے کو ہی ترجیح دی تھی۔یدیورپا نے ایسے وقت میں وزیر اعلی کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے جب کرناٹک میں بی جے پی کی حکومت کو آج دو سال پورے ہوئے ہیں۔ ایسی صورتحال میں ، سب کی نگاہیں اس طرف مرکو ز ہیں کہ اب کون ریاست میں بی جے پی کی کمان سنبھالے گا۔ اسی کے ساتھ ہی کرناٹک کے نئے وزیراعلیٰ کے حوالے سے ایک اجلاس منعقدہوا ، جس میں بی جے پی صدر جے پی نڈا اور وزیر داخلہ امیت شاہ بھی موجود تھے