لاش کو کچلنے کے بعد درخت سے لٹکادیا گیا
جھارکنڈ:10؍جون
(زین نیوز)
جھارکھنڈ کے ضلع پلوامو میں بی جے پی رہنماکی نابالغ بیٹی کی بہیمانہ قتل واردات پیش آئی ہے للی متی جنگل میں اس 16 سالہ بچی کی لاش درخت سے لٹکی ہوئی پائی گئی ہے جس کی ایک آنکھ باہر نکل آئی ہے جو 7جون کی صبح لاپتہ ہوگئی تھی۔
پانکی تھانہ علاقہ کے تحت بودھ گاؤں میں رہنے والی متوفی دسویں جماعت کی طالبہ بتائی گئی ہے ۔دریں اثنا ، پولیس نے اس معاملے کے سلسلے میں ایک مشتبہ شخص 23 سالہ پردیپ کمار سنگھ دھنوک کو گرفتار کیا ہے۔ یہ گرفتاری جائے واردات سے برآمد ایک موبائل فون کے کال ڈیٹا ریکارڈز (سی ڈی آر) کے تجزیہ کے بعد ہوئی ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ پردیپ کمار مرکزی ملزم ایک شادی شدہ شخص ہے اس نے اپنے ساتھیوں کی مدد سے یہ جرم کا ارتکاب کیا ہے۔متوفی 7 جون کو صبح دس بجے اپنے گھر سے لاپتہ ہوگئی تھی۔ پنکی پولیس اسٹیشن کے ایس آئی اشوک کمار نے بتایا کہ نابالغ کے اہل خانہ نے 8 جون کو لاپتہ ہونے کی شکایت درج کروائی تھی۔
تب سے پولیس اس کی تلاش کررہی تھی تو اس کی لاش بدھور گاؤں میں ایک درخت سے لٹکی ہوئی پائی گئی ہے اس کی دائیں آنکھ پھوٹ گئی تھی۔ عہدیداروں کا کہنا ہے کہ ملزم نے قتل سے پہلے نابالغ کو بے دردی سے پیٹنے کے بعد کچل دیاپھر اس کے بعدلاش کو ایک درخت سے لٹکا دیاتاکہ اسے خودکشی کے معاملے کی طرح ظاہر کیا جاسکے۔
نابالغ کا پوسٹ مارٹم کے لئے نعش کومدین نگر کے مدینی رائے میڈیکل کالج بھیج دیا گیا ہے۔متوفی کے اہل خانہ کا الزام ہے کہ ان کی بیٹی کے ساتھ بھی جنسی زیادتی کی گئی ہے۔
پلوامو کے ایس پی سنجیو کمار نے بتایا کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ آنے کے بعد ہی پتہ چل سکے گا کہ یہ قتل کے بعد عصمت دری کا معاملہ ہے یا نہیں؟یس پی کمار نے کہاکہ "پولیس ہر ممکن زاویوں سے معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے۔انھوںنے کہاکہ متوفی کے افراد خاندان کی ملزم پردیپ کمار سنگھ کے مابین ہاتھ پائی اور جھگڑا ہوا تھا جس کے بعد متوفی لاپتہ ہوگئی تھی۔
جھارکھنڈ بی جے پی کے ترجمان پرتول سہدیو نے کہا کہ پارٹی نے اس معاملے کی منصفانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے
