حاجیو سفرعشق مبارک ہو تم کو

تازہ خبر مذہبی

رشحات قلم عبدالقیوم شاکر القاسمی
جنرل سکریٹری جمعیۃ علماءضلع نظام آباد تلنگانہ
اشہر حرم یعنی قابل احترام مہینے چل رہے ہیں ان مقدس ایام میں باری تعالی نے اپنے بندوں پر جہاں اوربہت ساری عبادتوں کو فرض فرمایا ہے انہی میں سے ایک عظیم الشان اور انتہای بابرکت عمل صاحب استطاعت لوگوں پرعشق وکیف والی عبادت حج کو لازم قراردیا ہے کہ جن بندوں کے پاس مالی وجسمانی استطاعت وقدرت ہوں وہ اس فریضہ کی ادائیگی میں کوتاہی نہ کریں حج ان خاص افعال عبادت کا نام ہے جو حج کی نیت سے احرام باندھنے کے بعد خاص اوقات میں اداکیےجاتے ہیں

ہر عازم حج کو یہ یادرکھنا چاہیے کہ وہ کسی لندن یاپیرس کےسیر وتفریح والے سفر پر نہیں بلکہ انتہای مقدس وبابرکت سفر جس کو سفر عشق کہاجاتا ہے وہ اس سفر پر جارہا ہے دنیامیں اس حج والی عبادت کا سلسلہ انسان اول حضرت آدم علیہ السلام کے زمانہ سے جاری وساری ہے روایات میں آتا ہیکہ آدم علیہ السلام نے ہندوستان سے مکہ معظمہ آکر اللہ تعالی کے حکم سےفرشتوں کی راہ نمای میں بیت اللہ شریف کی بنیادیں قائم فرمائیں اور حج اداکیااس کے بعد برابر حجازمقدس کا سفر فرماتے رہے

جن میں 300اسفارحج کی نیت سے اور 700اسفار عمرہ کی نیت سے فرماے ہیں حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا کہ آدم علیہ السلام زمین پر اتارے گےء تو آپ نے خانہ کعبہ کے سات چکر لگاے اور مقام ابراہیم کے مقابل دورکعت نماز ادافرمای الحدیث گرچیکہ باظابطہ طورپر یہ عبادت سن 9/ہجری میں مسلمانوں کے لےء فرض قراردی گئ اس وقت سےلے کر تاامروز یہ سلسلہ برابر جاری ہے اور ان شاء اللہ قیامت تک جاری رہے گا اسی سلسلہ میں شامل ہونے کے لئے ہر سال اقطاع عالم سے مسلمان اپنی حلال کمای کی خطیر رقم لگاکر اس مالی وبدنی عبادت کو انجام دیتے ہیں

اس لےء ہر حاجی کو چاہیے کہ وہ اس کی لاج رکھے اور اپنے حج کو حج مبروربنانے کی فکر کریں احادیث کے مطالعہ سے پتہ چلتاہیکہ حج مبرورتین طرح کے حج ہوتے ہیں (1)حج مبروروہ حج کہلاتا ہے جس کے ساتھ کوی بھی گناہ شامل نہ ہوں (2)حج مبروروہ حج کہلاتا ہے جو عنداللہ مقبول ہوں جس کی علامت یہ بتلای گیء کہ بندہ حج کرنے کے بعد گناہ والی زندگی کو یکسر ترک کردیں اورا عمال خیر میں زیادتی کرلے (3)حج مبروروہ حج کہلاتا ہے جس میں ریاکاری اورشہرت کا ذرہ برابر بھی جذبہ نہ ہوں ان تعریفات کی رو سے ہر عازم حج کو چاہیے کہ وہ اپنا جائزہ لیں اوردیکھیں کہ کہیں میری یہ عبادت ضائع تو نہیں ہورہی ہےیہ بھی یادرہے کہ یہ عبادت زندگی میں صرف ایک مرتبہ ہی فرض ہے

اس لئے پورے آداب کا لحاظ رکھتے ہوے جذبہ عشق ومحبت کے ساتھ بے ریا عبادت کرنا چاہیے بضرت حسن بصری علیہ الرحمہ کاقول ہیکہ حج مبرورکی علامت یہ ہیکہ آدمی جب حج کرکے واپس آے تو اس کے دل میں دنیا سے بے رغبتی اور آخرت کی رغبت وفکر ہیداہاجاے جن لوگوں کو اللہ تعالی نے اس عظیم فریضہ کی ادائیگی کے لےء قبول فرمالیاہوں اور وہ اس ذمہ داری سے سبکدوش ہوگےء ہوں وہ بھی اپنا جائزہ لیں اور جن کو باری تعالی نے امسال قبول کیا ہے وہ بھی اس عمل کو اداکرنے سے پہلے اپنی نیتوں کو دیکھ لیں چونکہ حج مبرورکا بدلہ صرف جنت ہی ہے جو ہر مؤمن کی منزل اور آرزؤں کی انتہاء ہے یقینا حج ایک ایسی عبادت ہے جس کے ہر ہر پہلو سے عشق خداوندی اور محبت ایزدی کا اظہار واقرارہوتا ہے یہ کوی سیر وتفریح والا سفع نہیں بلکہ بندہ کی جانب سے جذبہ عاشقی کا بھر پورمظاہرہ ہوتا ہے حاجی احرام باندھ کر گویا یہ اعلان کرتاہیکہ اب وہ دنیاوی جھمیلوں اور مختلف علائق دنیویہ سے آزاد ہوکر اپنے مالک وخالق حقیقی سے ملاقات اور وصل کے لئے رخت سفر باندھ رہا ہے اور تلبیہ کے ذریعہ وہ اس بات کا اعلان کرتاہیکہ اے میرے پروردگار میں حاضرہوں حاضر ہوں

لبیک اللھم لبیکحج والاعمل حجاج کے لےء مغفرت کا ذریعہ اوع نیکیوں کا خزانہ ہے اللہ تعالی نے بندوں کی مغفرت کے لےء جتنی عبادات کا حکم دیا ہے ان تمام عبادتوں میں حج والی عبادت ایک ممتازحیثیت رکھتی ہے چنانچہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایاجو شخص اس طرح حج کرے کہ اس میں کوی گناہ کاکام اور بے حیائ کی بات نہ کرے تو وہ گناہوں سے اس طرح پاک وصاف ہوکرواپس ہوتاہے جیسے آج ہی ماں کے پیٹ سے پیداہواہوں اتنی بڑی بشارت اورضوشخبری ہے ان لوگوں کے لےء جو شریعت کے بتاے ہوے طریقہ کے مطابق حج بیت اللہ کریں

علاوہ ازیں حجاج کرام کے لےء تو ہر ہر عمل کے بعد رحمت خداوندی سے اجر وثواب کی بارش ہوتی ہے اس لےء حجاج کو چاییے کہ وہ عبادات میں کوی کسر نہ چھوڑے مکمل اطمینان اور دلجمعی کے ساتھ اعمال میں لگے رہیں اور اس موقع کو اپنےلئے غنیمت جانیںساتھ ساتھ یہ بھی یادرکھیں کہ حج ہر لمحہ پرحاجی کو موت اور آخرت کی یاددلاتا ہے تمام گھر بار مال وجائیدادکو چھوڑکر حاجی احرام باندھ کر جب سفر پر روانہ ہوتا ہے تو اسے یادکرنا چاہیے کہ ایک دن دنیا کو بھی اسی طرح چھوڑ کر جانا ہے جس وقت اس کے ساتھ اعمال کے توشہ کے علاوہ کچھ بھی ساتھ نہ ہوگا اور جب لبیک اللھم لبیک لاشریک لک لبیک ان الحمد والنعمۃ لک والملک لاشریک لک یہ تلبیہ ہڑھتا ہوا عازم حرم یوتا ہے اورچاروں جانب سے اس کے کانوں میں یہ صداے تلبیہ گونجتی ہے تو وہ میدان حشر کی یاد تازہ ہوتی

جہاں ساری مخلوق کو باری تعالی ایک ساتھ جمع فرمائیں گے اسی طرح میدان عرفات کا اجتماع بھی میدان حشر کی مثال ہے اور رمی جمار کی بھیڑ اس کو قیامت میں نفسانفسی کے عالم کی یاددلاتاہے گویاحاجی کا ایک ایک عمل اس کو موت اور مابعد الموت کی عکاسی کراتاہے اس لےء اپنے اس عشق ومستی والے سفر کی ہر طرح سے حفاظت کرنا ہر حاجی کی اپنی ذمہ داری ہےاللہ تعالی تمام ہی عازمین کو سہولت وعافیت کے ساتھ حج کی اصل روح کو سمجھنے کی توفیق عطاء فرماے ہر قسم کی صعوبتوں سے حفاظت فرماکر سب کو حج مبرورنصیب فرماے آمین بجاہ سید المرسلین