کاماریـڈی 22/مئی
(زین نیوز)
مفتی محمد خواجہ شریف مظاہری ترجمان مجلس تحفظ ختم نبوت کاماریڈی نے حضرت قاری عثمان صاحب منصورپوریؒ کے انتقال کو ملت اسلامیہ ہندیہ کا عظیم نقصان بتاتے ہوئے کہا کہ قاری صاحب خاندانی روحانی نسبتوں کے ساتھ بیک وقت عظیم محدثِ بے
باک، مفسر باریک بیں، بے مثال فقیہ، مزاج شناس، نبض شناس مشفق معلم، اور خدا رسیدہ عارف باللہ شیخِ طریقت، ومرشد ومصلح کامل، متبعِ شریعت، عاشق رسولﷺ اور ولیِ کامل تھے، اپنی ورع وتقویٰ کے اعلیٰ ترین درجہ پر فائز تھے، آپ رقیق القلبی عجز و انکساری کے اس عظیم وصف اور بہت ساری عجیب خوبیوں و محاسن سے متصف ہونے کی وجہ سے خواص کے علاوہ عوام الناس میں بھی یکساں مقبول تھے، اکابرین اور تمام ہی علماء ہند و جمیع مرکزی دینی ملی فلاحی تنظیموں کے درمیان آپ کی شخصیت بے داغ اور غیر متنازعہ تھی۔
حافظ محمد فہیم الدین منیری (صدر جمعیۃ علماء کاماریڈی) وناظم مجلس تحفظ ختم نبوت ٹرسٹ کاماریڈی نے کہا کہ قاری عثمان منصورپوریؒ ایشیاء کی عظیم دینی، علمی تحریک دارلعلوم دیوبند کے نائب مہتمم تھے، آج پوری ملت اسلامیہ ہند سوگوار ہے، حضرت کا ارتحال پوری ملت اسلامیہ ہند ہی نہیں بلکہ عالم اسلام کےلئے عظیم سانحہ ہے، بس اللہ ہی ملت اسلامیہ ہند بالخصوص دارالعلوم دیوبند کو حضرتؒ کا نعم البدل عطا فرمائے، امیر ہند حضرت مولانا قاری عثمان منصورپوریؒ کی جملہ خدمات دینیہ، بلند پایہ دینی، وملی، تعلیمی وتدریسی اور دعوتی خدمات کو قبول فرمائے، کل ہند مجلس تحفظ ختم نبوت دارالعلوم دیوبند کے ناظم کی حیثیت سے تحفظ ختم نبوت کی جدوجہد اور مخلصانہ خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی، کاماریڈی میں جس وقت قادیانیت دنداناتے پھررہی تھی، حضرتؒ کو تمام حالات سے مطلع کیا گیا تو حضرت قاری صاحب نے کام کی شروعات کے لئے مشوروں اور دعاؤں سے نوازا بلکہ مولانا ادریس قاسمی صاحب کو ایک ہفتہ کے لئے ضروری ہدایات کے ساتھ کاماریڈی روانہ کیا، کاماریڈی مجلس تحفظ ختم نبوت کے صدر محترم حضرت مولانا ابرار الحسن صاحب رحمانی مدظلہ کی دیوبند حاضری پر تفصیلی حالات اور احوال دریافت کرکے دعاؤں سے نوازتے تھے، اللہ تعالی اپنے خاص فضل و کرم سے حضرتؒ کی جملہ خدماتِ جلیلہ کو قبول فرمائے، اعلیٰ علیین میں جگہ نصیب فرمائیں
حضرت مفتی سلمان صاحب منصورپوری دامت برکاتہم اور مفتی عفان صاحب مدظلہ اور جملہ پسماندگان و متعلقین کو صبر جمیل عطا فرمائے آمین۔
مجلس تحفظ ختم نبوت کاماریڈی کے تمام معلمین کرام اپنے اپنے مقامات پر رہتے ہوئے دعاء مغفرت وایصال ثواب کا اہتمام کیا۔
