شعبہ اردو‘ یونیورسٹی آف حیدرآباد میں سمپوزیم

تازہ خبر تلنگانہ
 ہندوستان کی آزادی کے 75 سال اور اُردو ادب
رپورتاژ:  محمد شاکر
ریسرچ اسکالر، شعبۂ اردو، یونی ورسٹی آف حیدرآباد
ملک ہندوستان کو آزاد ہوئے 75سال مکمل ہوگئے ہیں۔ جس کے لیے پورے ملک میں  سال بھر آزادی کا امرت مہااتسو منایا گیا او راب ہر گھر ترنگا منانے کی تحریک چل رہی ہے ۔اس ضمن میں شعبۂ اردو ، یونی ورسٹی آف حیدرآباد کے زیر اہتمام ایک سمپوزیم بعنوان ’’ہندوستان کی آزادی کے 75 سال اور اُردو ادب‘‘بروز جمعہ ۱۲  اگست ۲۰۲۲ء  بوقت 3:30 بجے دن بمقام کانفرنس ہال شعبۂ اردو میں منعقد کیا گیا۔
اس تقریب کا افتتاح پروفیسر وی۔ کرشنا ، ڈین ، اسکول آف ہیومانیٹیز نے کیا ۔ انھوں نیاپنے افتتاحی کلمات میں کہا کہہم آزادی کا ۷۵ سالہ جشن منارہے ہیں لیکن ہم کو احتساب کرنے کی ضرورت ہے کہ ہم نے کس قدر آزادی حاصل کی ہے۔ گلزار نے  کیا خوب کہا تھا کہ غلام تھے تب ہندوستانی تھے آزادی نے ہندومسلم بنادیا ہے۔   ہندی کے ایک شاعر نے کہا کہ
 سنسان گلیوں سے گزرتے ہوئے  /میں نے اپنے آپ سے سوال کیا کہ/ کیا آزادی صرف تین تھکے ہوئے رنگوں کا نام ہے /جن کا ایک پہیہ ڈوبتا ہے یا اس کو کوئی خاص مطلب ہے
  پروفیسر کرشنا نے شعبہ اردو کے اساتذہ اور طلبا کو مبارک باد دی کہ وہ ایک اچھے موضوع پر سمپوزیم منعقد کیا ہے۔ پروفیسر حبیب نثار نے  تحقیق کے حوالے سے مضمون سنایا  اورکہا کہ تحقیق چھوٹ کو جانچنے اور سچ کو سامنے لانے کا فرض اداکرتی ہے۔ سچ وہ جو سر چڑھ کر بولے جو غلط روایتوں کو کسوٹی پر رکھ کر حقیقی صورت حال کو سامنے لاتاہے۔ تحقیق حق کی بازیافت کرنے کا حق اداکرتی ہے۔ 1947کے بعد اردو تحقیق کے شب وروز نے ایسا طلسم ہوشربا تعمیر کیا کہ ایک طائرانہ نظر ہی آنکھوں کو خیرہ کردینے کے لیے کافی ہے۔
سمپوزیم میں حصہ لیتے ہوے ریسرچ اسکالر جاوید رسول نے کہاادب کے کچھ مقاصد ہوتے ہیں ان کو جاننا ضروری ہے۔ شعبۂ اردو کے ریسرچ اسکالر مدثر احمد گنائی نے کہا ابتدا سے لے کر آج تک جتنے بھی تحریکات ورجحانات نے فروغ پایا دیکھا جائے تو اردو شاعری نے ہر اعتبار سے اہم کردار ادا کیا ہے۔ تحریک آزادی میں بھی اردو شعراء نے اپنی قلم سے لوگوں کے دلوں میں آزادی کا ولولہ و جذبہ پیدا کردیا۔
جہاں تک اردو شاعری میں حب الوطنی و قومی یکجہتی اور انسانی دوستی کا سوال ہے تو خسروسے لے کر معاصر شعراء حضرات تک سبھی نے اپنی شاعری میں ان موضوعات پر لکھنے کی کوشش کی ہے۔ ریسر چ اسکالر کفیل احمد نے اپنامضمون  بعنوان ’’اردو ادب کی موجودہ صورت حال ایک مختصر جائزہ‘‘ پڑھا۔   ریسرچ اسکالر محمد خوشتر نے کہا کہ اردو نے آزادی میں اپنا اہم کردار ادا کیا ہے۔
اپنی اہم وراثت کے طور پر اور اپنی اہم ذمہ داری کو نبھائی ہے۔ ریسر اسکالر اطیع اللہ نے کہا 75 سالوں میں تنقید نے کیا کیا ؟ تو تنقید نے بہت کچھ کیا ہے۔ تنقید میں ایک ہوتاہے نوآبادیات دوسرا رد نو آبادیات اس کی وضاحت کی اور آخر میں کہا ہمیں مطالعہ کرنے کی سخت ضرورت ہے۔ ریسر چ اسکالر رشدہ شاہین نے خود نوشت کے حوالے سے اپنا مقالہ پڑھااورآزادی کے بعد چند خود نوشتوں کا تذکرہ کیا۔
ڈاکٹر رفعیہ بیگم اسسٹنٹ پروفیسر شعبۂ اردو ،  نے کہا کبھی بھی تخلیق کار کسی کا اسیر نہیں ہوتاہے وہ اپنے بل بوتے پر اپنی ذہنی صلاحیتوں کو صفحۂ قرطاس پر اجاگر کرتاہے یہ میرا یقین ہے۔ ڈاکٹر محمد کاشف اسسٹنٹ پروفیسر نے کہا کہ اگر ہم ہندوستان کو دیکھیں گے تو 75 سال میں ہندوستان میں ٹیکنالوجی کے اعتبار سے جو ترقی یافتہ ملک ہے اس میں اچھا نام ہے۔ آزادی کے بعد اردو ادب میں بہت کچھ لکھا گیا ہے۔ پڑھنے کی ان تمام کو ضرورت ہے۔ ڈاکٹر نشاط احمد اسسٹنٹ پروفیسر شعبۂ اردو ، نے کہا جب اندراگانھی نے راکیش شرما سے خلا میں پہنچنے کے بعد  پوچھا کہ وہاں بھارت کیسا لگ رہا ہے تو راکیش شرما نے کہاکہ سارے جہاں سے اچھا
پروفیسر نسیم الدین فریس سابق ڈین، صدرشعبۂ اردو، مولانا آزاد نیشنل اردو یونی ورسٹی حیدرآباد نے مہمان خصوصی کی حیثیت سے سمپوزیم میں شرکت کی انھوں نے اپنے خطاب میں سب سے پہلے صدر شعبۂ اردو اور ڈین ، اسکول آف ہیومانیٹیز کا پروگرام میں مدعو کرنے پر شکریہ ادا کیا ۔  برادران وطن کے ساتھ بہتر سلوک یہ اصل دیش بھکتی ہے اوریہ حب الوطنی جس کی تلقین جس کا پیغام اردو زبان روز اوّل سے دیتی آئی ہے روز اوّل سے محبت کی زبان ہے  ۔ یہ وہ جذبہ ہے جو انسان کے دل میں از خود پیدا ہوتاہے۔ قدرتی طور پر پیدا ہوتاہے۔
جیسے ہر بچے کو اپنی ماں سے محبت ہوتی ہے کسی بچے کو تلقین کرنے کی ضرورت نہیں ہے کہ بیٹا تم اپنی ماں سے محبت کرو ۔ہر بیٹا اپنی ماں سے محبت کرتاہے تو اسی طرح ملک کا ہر باشندہ اپنے ملک سے محبت کرتاہے۔ حب الوطنی فطری جذبہ ہے ۔اب اپنے طور پر غور کیجیے کہ آپ میں سے ہر فردکو سب سے پہلے اپنا گھر عزیز ہوگا پھر وہ گلی پیاری ہوگی جس میں آپ کا گھر ہے۔
پھر وہ محلہ پیارا ہوگا جس میں آپ کی گلی ہے۔ پھر وہ شہر پیارا ہوگا جس میں آپ کا محلہ ہے پھر وہ ریاست پیاری ہوگی جس میں آپ کا شہر ہے اس طرح حب الوطنی کا دائرہ اپنے مقام سے اپنی جگہ سے اپنے قبلہ سے محبت کا دائرہ پھلتے پھلتے سارے ملک میں پھیل جاتاہے۔ انہوں نے آزادی اور اس کے حصول کے لیے اردو ادیبوں اور شاعروں کی خدمات کا ذکر کیا۔
پروفیسر سید فضل اللہ مکرم صدرشعبۂ اردو، یونی ورسٹی آف حیدرآباد نے اپنے صدارتی کلمات میں کہا کہ تین لوگوں سے کبھی شکایت نہیں کرنا چاہیے اور کبھی سوال نہیں کرنا چاہیے کہ تو نے مجھے کیا دیا ایک اپنی ماں سے  پھر مادری زبان اور  مادر وطن سے کبھی یہ نہ پوچھیںکہ تونے مجھے کیا دیا بلکہ یہ سوچیں کہ آپ نے اس کو کیا دیا ۔
ماں نے آپ کو جنم
 دیا ، زبان نے آپ کو تہذیب دی، وطن نے آپ کو شناخت دیا  ۔  وہ زمانہ چلا گیا کہ ہم اردو میں لکھتے تھے اور خوش ہوتے تھے اب حالات بدل گئے ہیں کہ اپنی تحریوں کو ملک کے دیگر زبان کے لوگوں تک پہنچائیں تاکہ جو غلط فہمیاں ہیں وہ دور ہوجائیں۔ اس اجلاس کی نظامت  ڈاکٹر اے۔آر ۔ منظر ایسوسی ایٹ پروفیسر ، شعبۂ اردو،    کے ذمہ تھی جس کو موصوف نے دلکش انداز میں پیش کیا۔اس سمپوزیم میں شعبہ اردو کے کے طلبا کی کثیر تعداد شریک تھی۔ آخر میں ڈاکٹر محمد کاشف  اسسٹنٹ پروفیسر شعبۂ اردو ، نے تمام حاضرین کا فرداً فرداً شکر یہ ادا کیا اور پروگرام کے اختتام کا اعلان کیا۔