‘نوجوان پرلو جہادکا الزام لگانےپر ایم پی نونیت رانا کے خلاف ناقابل شناخت کیس

تازہ خبر قومی
 تعزیرات ہند کی دفعہ 500 اور 506 کے تحت این سی آر درج
ممبئی : 12؍ستمبر
(زیڈ این ایم ایس)
امراوتی سٹی پولیس نے لوک سبھا کے رکن نونیت رانا کے خلاف ایک شخص کو مبینہ طور پر بدنام کرنے اور دھمکی دینے کے الزام میں ایک غیر قابل شناخت جرم درج کیا ہےپولیس نے بتایاکہ شکایت کی بنیاد پر ہم نے رانا کے خلاف تعزیرات ہند کی دفعہ 500 (ہتک عزت) اور 506 (مجرمانہ دھمکی) کے تحت این سی درج کیا ہے ان پر ایک 20 سالہ نوجوان کو بدنام کرنےاور دھمکی دینے کا الزام ہے
واضح رہے کہ امرواتی کے رکن پارلیمنٹ نونیت رانا نے 7ستمبرکو ہندو تنظیم کے ارکان کے ساتھ ایک ہندو لڑکی کے اغوا اور ایک مسلم لڑکے سے زبردستی شادی کی شکایت لے کر راجاپٹھ پولیس اسٹیشن میں داخل ہوکر ہنگامہ اور بدتمیزی کی تھی اور پولیس پرفون ٹیپنگ کا الزام بھی لگایا تھا جس کے بعد کشیدگی کا ماحول چھا گیاتھا اور پولیس اسٹیشن پر بڑی بھیڑ جمع ہوگئی ہے۔جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائر ل ہوئی تھی

ایم پی نےایک ہندو لڑکی کے اہل خانہ کے ساتھ پولیس اسٹیشن پہنچ کر ہنگامہ کھڑا کردیا تھااور  ایک مسلمان لڑکے  پر ہندو لڑکی کواغوا کرنے اور یرغمال بنا کر شادی کرنےکرنے کا الزام لگایا تھا ۔مقامی بی جے پی قائدین اور آزاد رکن پارلیمنٹ رانا نےلڑکی کے لاپتہ ہونے کے بعد اس واقعہ کو ’’لو جہاد‘‘ قرار دیا تھا
  لڑکی کو واپس لانے کا مطالبہ وہاں موجود پولیس انسپکٹر منیش ٹھاکرے اور ڈی سی پی کے ساتھ بحث و تکرار کی تھی۔ انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ ایک مخصوص مذہب کے نوجوان ہندو لڑکیوں کو محبت کے جال میں پھنساتے ہیں اور پھر ان کے ساتھ بچوں کو جنم دیتے ہیں۔ اس کے بعد جسم فروشی میں دھکیل دیا جاتا ہے
پولیس نے اس معاملہ میں اس معاملہ میں پیاز اور آلو بیچنے والے ایک مسلم نوجوان کو پولیس نے حراست میں لیا تھا۔تاہم گزشتہ منگل کو لاپتہ ہونے والی لڑکی ایک دن بعد ستارہ سے ملی اور میڈیا کو بتایا کہ رانا نے اس کے بارے میں جھوٹی خبریں  اور غلط معلومات پھیلائی ہیں
نہ ہی اسے اغوا کیا تھا اور نہ ہی وہ نوجوان کے ساتھ بھاگی تھی اور اس نوجوان کا اسکے اغوا یا فرار ہونے سےکوئی تعلق نہیں ہے۔  "نونیت رانا نے میرے بارے میں جو کچھ کہا ہے وہ جھوٹ ہے۔ لڑکی نے کہاکہ میں لوگوں سے درخواست کرتی ہوں کہ وہ مجھے بدنام کرنا بند کریں۔ میں اکیلی گھر چھوڑکر آئی تھی۔”

جس نوجوان کو شک کی بنیاد پر حراست میں لیا گیا تھا اس پوچھ تاچھ کے بعد اسے جانے دیا گیا۔ اس کے بعد اس کے والد نے ایم پی رانا کے خلاف شکایت کے ساتھ پولیس سے رجوع کیا اور الزام لگایا کہ اس نے جھوٹی معلومات پھیلا کر اپنے بیٹے کو بدنام کیاایم پی کی طرف سے دھمکیاں دی گئیں۔  راجا پیٹھ پولیس اسٹیشن کے ایک پولیس افسر نے کہاکہ اس شخص کی شکایت کی بنیاد پر ہم نے رانا کے خلاف آئی پی سی کی دفعہ 500 (ہتک عزت) اور 506 (مجرمانہ دھمکی) کے تحت این سی آردرج کیا گیاہے