:سابق چیرمین لا کمیشن آف انڈیا پروفیسر طاہر محمود
نئی دہلی:14؍مارچ
( زین نیوز ڈاٹ نیٹ)
قومی اقلیتی کمیشن کے سابق چیرمین اور لا کمیشن آف انڈیا کے سابق رکن پروفیسر طاہر محمود نےمقدس قرآن مجید کی 26 آیتوں کوحذف کرنے سے متعلق مانگ کو دستور ہند میں دی گئی آزادی مذہب کے مغائر قرار دیا جس کی ہند کے آئین ضمانت دی ہے۔انھوں نے سپریم کورٹ میں دائر کردہ پٹیشن پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہاکہ یہ درواست فرقہ وارانہ فتنہ انگیزی کی نہ صرف بدترین کوشش ہے بلکہ یہ حرکت ازخود تعزیرات ہند کی دفعات 53A 1 اور 295Aکے تحت سنگین جرم ہے۔
یہاں آج جاری کردہ اپنے ایک بیان میں پروفیسر طاہر محمودنے بتایا کہ ان میں سے پہلی دفعہ مذہب کی بنیادپر بدامنی پھیلانے کی کوشش کو جرم قرار دیتی ہے اور دوسری صاف طور پر کہتی ہے کہ ”جو کوئی شخص ہندوستان کے شہریوں میں سے کسی طبقہ کے مذہبی جذبات بھڑکانے کی نیت سے زبانی یا تحریری طور اسکے مذہب کی توہین کرتا ہے یا ایسا کرنے کی کوشش کرتا ہے اسے تین سال تک کی قید اور جرمانے کی سزا دینے کی وکالت کرتی ہے“ ۔
انھوں کہا کہ عدالت عظمیٰ کو ان دفعات کا از خود نوٹس لیتے ہوئے مدّعی کے خلاف تعزیری کاروائی کی متعلقہ حکام کو ہدایت دینی چاہئیے۔پروفیسرصاحب نے مزید بتایا کہ1984 میں مسلمانوں کی مقدس کتاب کے خلاف کلکتہ ہائی کورٹ میں اسی قسم کاایک کیس دائر کیا گیا تھا
جسے عدالت نے خارج کرتے ہوئے اپنے فیصلے میں لکھا تھا کہ ”عدالت کا اس معاملہ کا نوٹس لینادستور ہند کی صریحاخلاف ہوگی۔بادی النظر میں مدعیان نے عدالت میں یہ معاملہ اٹھا کر قانوناً خود ایک جرم کا ارتکاب کیا ہے“۔
پروفیسرمحمود نے کہا ہے کہ یوں تو یہ نظیر بھی عدالت عظمیٰ کے علم میں ہوگی مگر اسے خودہی اس مذموم فتنہ انگیزی کیلئے عدالت کا سہارا لئے جانے کی اجازت ہرگز نہیں دینی چاہئیے۔
