لالو پرساد یادو‘چارہ گھوٹالہ و ویگر مقدمات میں مجرم قرار

تازہ خبر قومی

سی بی آئی کی خصوصی عدالت کا فیصلہ
نئی دہلی :15؍فروری
(اے ایم این ایس)
بہار کے سابق وزیر اعلی اور راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے سپریمو‘ لالو پرساد یادو کو منگل کو چارہ گھوٹالہ کیس میں ڈورانڈا خزانے سے139.35 کروڑ روپے غیر قانونی طور پر نکالنے کے معاملہ میں سی بی آئی کی خصوصی عدالت نے مجرم قرار دیا ہے۔ جنہیں اب چارہ گھوٹالہ کے تمام پانچ مقدمات میں مجرم قرار دیا گیا ہے

اس معاملہ میں مجرم ثابت ہونے کے بعد اب سزا 18 فروری کو سنائی جائے گی۔ اگر آر جے ڈی سپریمو‘ لالو پرساد یادو کو عدالت تین سال سے کم کی سزا سناتی ہے تو انہیں فوری ضمانت مل سکتی ہے اور اگر انہیں تین سال سے زیادہ کی سزا سنائی جاتی ہے تو انہیں آٹھویں بار جیل جانا پڑے گا۔

لالو پرساد کے وکیل پربھات کمار کے مطابق، اگر خصوصی سی بی آئی عدالت کی طرف سے تین سال سے کم کی سزا سنائی جاتی ہے، تو وہ فیصلہ سنانے کے فوراً بعد عدالت سے ضمانت حاصل کر سکتے ہیں۔

اگر عدالت کی طرف سے دی گئی سزا تین سال سے زیادہ ہو جاتی ہے تو پھر ضمانت کے حصول کا عمل شروع کیا جائے گا اور اس میں کم از کم تین سے چار ہفتے لگ سکتے ہیں۔ تاہم لالو پرساد یادو کو چارہ گھوٹالہ کیس میں تین سال سے زیادہ کی سزا ہوئی ہے۔ اس لیے سزا کی مدت میں کمی کا کوئی امکان نہیں ہے

لالو پرسادکی غیر موجودگی میں، ان کے بیٹے تیجسوی یادو نے آر جے ڈی کی قیادت کی اور 2020 کے بہار انتخابات میں پارٹی کے مضبوط مظاہرہ کا سہرا انہیں جاتا ہے۔ 40 سالوں میں یہ پہلا موقع تھا جب لالو یادو ریاستی انتخابی مہم سے محروم رہے۔