سی بی آئی کی خصوصی عدالت کا فیصلہ
نئی دہلی :15؍فروری
(اے ایم این ایس)
بہار کے سابق وزیر اعلی اور راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے سپریمو‘ لالو پرساد یادو کو منگل کو چارہ گھوٹالہ کیس میں ڈورانڈا خزانے سے139.35 کروڑ روپے غیر قانونی طور پر نکالنے کے معاملہ میں سی بی آئی کی خصوصی عدالت نے مجرم قرار دیا ہے۔ جنہیں اب چارہ گھوٹالہ کے تمام پانچ مقدمات میں مجرم قرار دیا گیا ہے
Fodder scam: RJD chief Lalu Prasad Yadav convicted of fraudulent withdrawal from Doranda treasury by a CBI Special Court in Ranchi pic.twitter.com/J9AvvhmOjk
— ANI (@ANI) February 15, 2022
اس معاملہ میں مجرم ثابت ہونے کے بعد اب سزا 18 فروری کو سنائی جائے گی۔ اگر آر جے ڈی سپریمو‘ لالو پرساد یادو کو عدالت تین سال سے کم کی سزا سناتی ہے تو انہیں فوری ضمانت مل سکتی ہے اور اگر انہیں تین سال سے زیادہ کی سزا سنائی جاتی ہے تو انہیں آٹھویں بار جیل جانا پڑے گا۔
لالو پرساد کے وکیل پربھات کمار کے مطابق، اگر خصوصی سی بی آئی عدالت کی طرف سے تین سال سے کم کی سزا سنائی جاتی ہے، تو وہ فیصلہ سنانے کے فوراً بعد عدالت سے ضمانت حاصل کر سکتے ہیں۔
36 people have been given a jail term of 3 years each by a CBI Special Court in Ranchi. Lalu Prasad Yadav has been convicted. The quantum of punishment to him is yet to be pronounced: Sanjay Kumar, defence lawyer in Doranda treasury case pic.twitter.com/mu6q22MZc4
— ANI (@ANI) February 15, 2022
اگر عدالت کی طرف سے دی گئی سزا تین سال سے زیادہ ہو جاتی ہے تو پھر ضمانت کے حصول کا عمل شروع کیا جائے گا اور اس میں کم از کم تین سے چار ہفتے لگ سکتے ہیں۔ تاہم لالو پرساد یادو کو چارہ گھوٹالہ کیس میں تین سال سے زیادہ کی سزا ہوئی ہے۔ اس لیے سزا کی مدت میں کمی کا کوئی امکان نہیں ہے

لالو پرسادکی غیر موجودگی میں، ان کے بیٹے تیجسوی یادو نے آر جے ڈی کی قیادت کی اور 2020 کے بہار انتخابات میں پارٹی کے مضبوط مظاہرہ کا سہرا انہیں جاتا ہے۔ 40 سالوں میں یہ پہلا موقع تھا جب لالو یادو ریاستی انتخابی مہم سے محروم رہے۔
